دستور ساز اسمبلی اور جناح صاحب کی ویٹو پاور

    April 7, 2019 7:46 pm PST
taleemizavia single page

اکمل سومرو

پاکستان کا سیاسی و انتظامی ڈھانچہ انڈیا ایکٹ 1935ء کے تحت تشکیل دیا گیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ محمد علی جناح نے اسی ایکٹ کے تحت برطانوی وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن سے بطور گورنر جنرل پاکستان حلف لیا. حالانکہ مسلم لیگ نے قرار دار لاہور (پاکستان) کی پہلی شق میں ہی 1935ء کے دستور کو مسترد کرنے کی منظوری دی تھی تاہم بعد ازاں اسی دستور کو پاکستان میں بطور عبوری دستور نافذ کر دیا گیا۔

وائسرائے ہندستان کے پاس ہی گورنر جنرل کا عہدہ تھا۔ انڈین ایکٹ 1935 کے تحت یہ عہدہ انتہائی طاقت ور تھا یہی وجہ تھی کہ جب اس ایکٹ کے تحت پاکستان کی بنیاد رکھی گئی تو وزیر اعظم کو بھی گورنر جنرل کے ماتحت رکھا گیا۔ پاکستان میں گورنر جنرل کا عہدہ جمہوری آمریت کی بنیاد بنا جو بعد ازاں ملک میں ملٹری آمریت کو مسلط کرنے کا جواز بنا۔

جب اسکندر مرزا نے گورنر جنرل کا عہدہ ختم کر کے صدر کا منصب سنبھالا تو اُس وقت تک پاکستان میں شخصی آمریت کی جڑیں مضبوط ہو چکی تھیں۔ شخصی آمریت کی ابتداء دستور ساز اسمبلی کی پہلی وفاقی کابینہ نے رکھی تھی یہ وہی وفاقی کابینہ تھی جس کے تمام وزراء کی تقرری محمد علی جناح نے اپنی ذاتی پسندیدگی کی بناء پر کی تھی۔ 30 دسمبر 1947ء میں وفاقی کابینہ نے یہ فیصلہ کیا کہ محمد علی جناح کو بطور گورنر جنرل کابینہ پر بالادستی حاصل ہوگی یعنی کابینہ کے فیصلوں کو مسترد کرنے کا اختیار محمد علی جناح کو دے دیا گیا۔

صرف یہی نہیں بلکہ کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ جناح صاحب کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاسوں میں ہی ملک کی خارجہ و داخلہ پالیسی طے کی جائے گی اور جس اجلاس میں جناح صاحب شریک نہیں ہوں گے وہاں پالیسی میٹرز زیر بحث نہیں لائے جائیں گے۔

اس کابینہ نے جناح صاحب کو یہ طاقت بھی فراہم کر دی کہ اگر کسی وزیر کو جناح صاحب کی رائے سے اختلاف ہوگا تو وہ استعفیٰ دینے کا پاپند ہوگا اور وزیر کے ساتھ رائے میں اختلاف کی صورت میں جناح صاحب کی رائے ہی حتمی رائے تصور کی جائے گی۔ آئین پاکستان بننے تک ملک کے تمام فیصلوں کا اختیار فرد واحد کے سُپرد کرنے کا فیصلہ بھی کابینہ ہی نے کیا تھا۔

کابینہ کے یہ فیصلے صرف جناح صاحب تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ ملک غلام محمد اور اسکندر مرزا نے بھی بطور گورنر جنرل اُن شخصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اپنی کابینہ تحیل کیں حتیٰ کہ انھوں نے کابینہ سے مشاورت کو بھی اہمیت نہیں دی تھی۔ 1954ء میں دستور ساز اسمبلی نے گورنر جنرل کے ان شخصی اختیارات کو ختم کرنے کی کوشش کی تو گورنر جنرل ملک غلام محمد نے اسے مسترد کر دیا۔

پہلی کابینہ نے گورنر جنرل کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ وزیر اعظم سمیت تمام وزراء کی تقرریاں کرنے میں خود مختار ہوگا۔ مجھے حیرانی ہے کہ جناح صاحب جیسی مدبر شخصیت نے کابینہ کے اس فیصلے کو مسترد کیوں نہیں کیا تھا جس کے تحت ایک فرد کو جمہوری عمل داری کے مقابلے پر بالادستی دی گئی۔ جناح صاحب کو یقیناً اس کا ادراک ہوگا کہ نوزائیدہ ریاست پاکستان میں فرد واحد کو ملنے والے ان اختیارات سے جمہوریت کو کیا نقصان ہوسکتا ہے۔ جناح صاحب کی جیب میں کھوٹے سکے تھے اور یہی کھوٹے سکے پہلی کابینہ میں شامل تھے لیکن اس کے باوجود انھی کھوٹے سکوں کی مدد سے ملک چلانے کی کوشش کی گئی. کابینہ میں شامل ان کھوٹے سکوں کے فیصلوں کو جناح صاحب کی جانب سے مسترد نہ کرنا حیران کن ہے.

گورنر جنرل کے عہدے کی صورت شخصی آمریت کو مسلط کرنے کے لیے 6 جنوری 1949ء میں پبلک اور نمائندہ عہدوں پر (نااہلیت کا قانون) یعنی پروڈا منظور کر لیا گیا۔ اس قانون کے تحت گورنر جنرل کسی بھی سیاسی اور انتظامی آفیسر کو دس سال کے لیے نااہل قرار دے سکتا تھا۔ 1949ء میں منظور ہونے والے اس قانون کو 14 اگست 1947ء سے ہی نافذ العمل قرار دیا گیا تھا۔ یہ قانون جمہوریت کو پروان چڑھانے کے لیے ایک تلوار نما قانون تھا۔

اسی پروڈا کے تحت سندھ کے وزیر اعلیٰ محمد ایوب کھوڑو اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ افتخار حسین ممدوٹ کیخلاف مقدمات چلائے گئے۔ پنجاب اسملبی کو معطل کیا گیا اور محمد ایوب کھوڑو کو وزیر اعلیٰ سے فارغ کر دیا گیا۔

کابینہ کی جانب سے جو شخصی آمریت مسلط کرنے کے اختیارات گورنر جنرل کو تفویض کیے اس کے اثرات کا جائزہ لیجیئے: بیوروکریٹ ملک غلام محمد نے گورنر جنرل کے عہدے پر بیٹھ کر انھی اختیارات کا سہارا لے کر وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو 1953ء میں فارغ کر دیا اور دستور ساز اسمبلی بھی توڑ دی اور امریکا میں تعینات پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرہ کو وزیر اعظم بنا دیا۔ یہ وہی محمد علی بوگرہ تھے جنہیں جناح صاحب نے شخصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے سیاست سے الگ کر دیا تھا اور اب وہی بوگرہ صاحب گورنر جنرل کے انھی شخصی اختیارات کی بناء پر پاکستان کے وزیراعظم بن گئے۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی تیرہ رکنی کابینہ کے چھ وزراء گورنر جنرل کے آمریت پر مبنی فیصلے کے خلاف بولنے کی بجائے بوگرہ صاحب کی کابینہ میں کام کرنے کو بھی تیار ہوگئے۔ ان چھ وزراء میں سے ظفر اللہ خان کو وزیر خارجہ، چوہدری محمد علی کو وزیر خزانہ، نواب مشتاق احمد گورمانی کو وزیر داخلہ، سردار بہادر خان کو وزیر اطلاعات، اشتیاق حسین قریشی کو وزیر تعلیم اور ڈاکٹر اے ایم ملک کو وزیر لیبر و صحت کے عہدوں پر تعینات کر دیا گیا۔

پاکستان کی تاریخ بھی بہت الم ناک ہے۔ اب محمد علی بوگرہ قائمقام گورنر جنرل اسکندر مرزا کے ہاتھوں معزول ہوگئے چونکہ بطور وزیر اعظم بوگرہ صاحب نے انڈین انڈیپنڈینٹس ایکٹ 1947ء کی شق نو، دس، دس اے، دس بی اور شق سترہ کو منسوخ کرنے کی تجویز دستور ساز اسمبلی میں پیش کی تھی جسے دستور ساز اسمبلی نے منظور کر لیا تھا۔ چونکہ پہلی کابینہ نے جناح صاحب کو بطور گورنر جنرل پوری کابینہ و حکومت کو لپیٹنے کا اختیارات سونپا تھا اب اسی اختیارات کے تحت بوگرہ کی چھٹی کرا دی گئی اور اسمبلی کو بھی توڑ دیا گیا جو گورنر جنرل کے اختیارات چھیننے کی خواہش مند تھی۔

پہلی کابینہ نے ملک کی بنیادوں کو ریت پر کھڑا کیا۔ انگریز سرکار کی تربیت یافتہ سول بیوروکریسی پہلے روز سے ہی ریاست دُشمن پالیسیوں کی آلہ کار رہی ہے۔ بیوروکریٹ گورنر جنرل ملک غلام کے بعد ایک اور بیوروکریٹ چوہدری محمدعلی کو 12 اگست 1955ء میں گورنر جنرل اسکندر مرزا نے وزیر اعظم بنا دیا اور پھر سیاسی اختلافات کی بناء پر گورنر جنرل نے چوہدری محمد علی کو وزیر اعظم کے عہدے سے معزول کر دیا۔

حالانکہ دستور ساز اسمبلی نے 21 ستمبر 1954ء کو پبلک اینڈ ریپریزینٹیٹو آفسز ڈس کوالیفیکیشن ایکٹ یعنی پروڈا پاس کیا تھا جس کے تحت گورنر جنرل کو اہم فیصلوں کی توثیق کابینہ سے کرانے کا پاپند کیا گیا تھا لیکن ذاتی اختیارات کو اسمبلی کے فیصلوں پر ترجیح حاصل تھی جس کی بنیاد خود جناح صاحب کے دور میں رکھی گئی۔

اختیارات کی اس کشمکش میں پہلے روز سے ہی برطانیہ و امریکہ کی براہ راست پاکستان میں مداخلت تھی اور پاکستان کو ابتدائی ایام میں ملنے والی امریکی امداد دراصل ہمارے ملک کے لیے ایڈز سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوتی رہی اس امداد کے ساتھ پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کو بھی کنٹرولڈ رکھا گیا اور جب چاہا شخصی آمریت کو مسلط کر دیا گیا۔

یہی وجہ تھی کہ قیام پاکستان کے ابتدائی نو سالوں تک آئین نہ بن سکا حتیٰ کہ 1973ء میں پہلی بار متفقہ جمہوری قومی آئین تشکیل پایا اور آئین بننے سے پہلے انھی آمریتی جڑوں کے باعث ملک ٹوٹ چکا تھا جس کے بارے میں جناح صاحب نے کہا تھا کہ زمین پر ایسی کوئی طاقت موجود نہیں ہے جو پاکستان کو Undo کر سکے۔

گورنر جنرل کی صورت میں پاکستان پر شخصی آمریت کا نفاذ پوسٹ کالونیل سیاسی ڈھانچے کی ابتداء تھی اور نوآبادیاتی عہد سے نکل کر پاکستان پوسٹ کالونیل عہد میں داخل ہورہا تھا۔

پوسٹ کالونیل سیاسی ڈھانچے کے تحت فوج اور بیوروکریسی کو طاقت ور گروہ کے طور پر مسلط کرنا اہم ہدف تھا۔ گریٹ گیم کے باعث قیام پاکستان سے ہی ملک میں امریکی مداخلت کی جڑیں مضبوطی پکڑ رہی تھیں اور ان دو گروہوں کو بالا دست طبقات کے طور پر نافذ کر کے پاکستان کو سیٹو اور سینٹو جیسے دفاعی معاہدات میں شامل کیا گیا.

اس لیے بیوروکریٹ محمد علی بوگرہ کو امریکہ سے واپس بلا کر وزیر اعظم پاکستان تعینات کرنا اسی پوسٹ کالونیل سیاسی ڈھانچے کی تشکیل کا تسلسل تھا جس کے بعد پاکستان مستقل طور پر امریکہ کے ورلڈ آرڈر میں داخل ہوگیا۔ جو امریکی امداد مفت گندم سے شروع ہوئی تھی آج یہی ملک امریکہ سے کروڑوں ڈالرز کے اسلحہ خریداری کے معاہدات کے گھیرے میں ہے.

اکمل سومرو کی دیگر تحریریں
گورنر ہائوس لاہور سے متعلق تاریخی مغالطہ
29 مارچ 1849: جب پنجاب انگریز کا غلام ہوا
برطانوی راج میں‌ نظم ‘شکوہ جواب شکوہ’ کے سماجی اثرات
پاکستان کی تعلیم پر برطانوی راج کی پرچھائیں
انگریز کا وفادار پنجاب کا طاقتور سید خاندان


akmal-dawn

اکمل سومرو سیاسیات میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ تاریخ اور ادب پڑھنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔وہ لاہور کے مقامی ٹی وی چینل کے ساتھ وابستہ ہیں۔