بلوچستان کی 54 سرکاری لائبریریاں بند، سازش یا منصوبہ؟

    July 6, 2021 6:12 pm PST
taleemizavia single page

شبیر رخشانی

بلوچستان میں اس وقت حکومت بلوچستان کے زیرانتظام تین ایسی لائبریریاں ہیں جنہیں فعال پبلک لائبریریز میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ ایک قائداعظم پبلک لائبریری جو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں واقع ہے کوئٹہ میں ہی دوسری لائبریری علمدار روڈ لائبریری ہے تیسری لائبریری خضدار پبلک لائبریری ہے جسے ڈپٹی کمشنر خضدار کی سرپرستی حاصل ہے۔ 

لائبریریز کا سیکشن ادارہ ثقافت بلوچستان کے زیر انتظام آتا ہے۔ ڈاکٹر مالک بلوچ دور حکومت میں گوکہ سب سے زیادہ لائبریریاں بنیں۔ مگر بلڈنگ سے آگے نہ جا سکیں ہاں البتہ ایک کام ضرور ہوا کہ قائداعظم پبلک لائبریری کو حقیقی شکل دینے میں کامیاب ہوئے۔

لائبریری انتظامیہ کی جانب سے موصول ہونے والی اعداد و شمار کے مطابق اس وقت بلوچستان میں 78 پبلک لائبریریاں ہیں جن میں صرف 24 فعال ہیں جبکہ باقی ماندہ لائبریریز بجٹ سازی نہ ہونے اور افرادی قوت کا خانہ خالی رہ جانے کی وجہ سے غیر فعال ہیں۔ ان میں چند لائبریریز ایسی ہیں جنہیں نوجوان رضاکارانہ بنیادوں پر خود چلا رہے ہیں۔

قائداعظم پبلک لائبریری کوئٹہ سے حاصل ہونے والی اعداد و شمار کے مطابق کم کیپسٹی والی اس لائبریری میں ممبران کی تعداد 16 ہزار ہے۔ 1800 ممبران کی درخواستیں پنڈنگ میں ہیں۔ لائبریری کی محدود بلڈنگ کے پیش نظر کوئٹہ میں حصول علم کے لیے مقیم نوجوان لڑکے اور لڑکیاں پرائیوٹ لائبریریز کا سہارا لے لیتی ہیں۔

جہاں پرائیوٹ ہاسٹلز مالکان نے نوجوانوں کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہاسٹلز کے اندر لائبریری کا باقاعدہ سیکشن بنا لیا ہے علم کی حصول اور تشنگی کا اندازہ ہاسٹل کی 24 گھنٹے کھلی لائبریریز سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ لائبریریز کا یہ رجحان اب جناح روڑ، علمدار روڑ اور بروری روڑ سے ہوتا ہوا سریاب تک جاپہنچا ہے۔

 یونیورسٹی کی لائبریری تو تھی ہی، لوڑ کاریز لائبریری کا اضافہ وہاں کے نوجوانوں کی کاوشوں اور چند علم دوست احباب کی کوششوں سے پورا ہوا۔ اب وہاں علمی شمعیں روشن رہتی ہیں۔ لوڈ کاریز کے بعد دو دیگر پرائیوٹ لائبریریز کا اضافہ سریاب میں ہوا اور دو روز قبل سردار عطااللہ مینگل لائبریری کا افتتاح بی این پی رہنماؤں نے کیا ہے۔

سوئی ہوئی سرکار کو بلوچستان کے نوجوان جگانے میں مصروف ہیں کہ ان کی ضرورتیں کیا ہیں حکومت ان ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کیا کچھ کر سکتی ہے۔ یہ نوجوان حکومتی اقدامات پر اکتفا کیے بغیر اپنی مہم کو آگے لے جارہے ہیں جو لائبریری مہم کہلاتی ہے۔

مکران میں اونٹ لائبریری کا ٹرینڈ چل نکلا ہے۔ جس کی خاصی پزیرائی ہوگئی ہے۔ پنجگور میں لائبریریز کے نام پر معتبرین نے ذاتی بیٹھک بنا لیے مگر بونستان کے نوجوانوں نے اس سوچ کی نفی کرتے ہوئے بوائز ہائی سکول بونستان میں پبلک لائبریری کی داغ بیل ڈالی لائبریری آباد ہے۔ مکران سے متصل ضلع آواران سے اچھی خبریں یہ آرہی ہیں کہ نوجوان پبلک لائبریریز کے لیے اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔

مشکے پبلک لائبریری کے حوالے سے پہلے یہی خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ مہم فقط سوشل میڈیا تک محدود ہوگی مگر نوجوانوں نے اسے عملی جامہ پہنایا۔ اب وہاں نوجوان ذوق مطالعہ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تیرتیج میں یوسف عزیز لائبریری کا پودا نوجوان نسل نے اپنی ہاتھوں سے لگایا۔ مگر آواران ہیڈکوارٹر میں واقع شہید آدم جان بزنجو پبلک لائبریری حکومتی سرپرستی حاصل ہونے کے باوجود فعال نہیں بنایا جا سکا۔

جبکہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے متحرک احباب گرلز ہائیر سیکنڈری سکول علی محمد گوٹھ جاھو کے احاطے میں مطالعے کا باب کھولنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ڈاکخانہ روڈ حب میں واقع لائبریری عرصہ دراز سے غیر فعال تھا۔ نوجوانوں کی کوشش سے اب اسے رضاکارانہ بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے۔

نصیرآباد بیلٹ جو ہمیشہ سے سردار اور جاگیردار طبقے کی شکنجے میں رہا ہے حصولِ علم اور لائبریری کے قیام کے لیے وہاں سے آوازیں اٹھیں۔ نوجوان متحرک ہوئے۔ ایک پرانی عمارت میں لائبریری کی داغ بیل ڈالنے میں کامیاب ہوئے۔ لائبریری کو یوسف عزیز مگسی لائبریری کا نام دیا خدا کرے کہ اسے جرات یوسفی عطا ہو اور سرزمین نصیرآباد علم کی دریا سے سیراب ہوجائے۔

شاہ فیصل بلوچ اور اعجاز بلوچ دیگر دوستوں کے ساتھ مل کر سلسلے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس وقت فی الحال لڑکوں کے بیٹھنے کی گنجائش پیدا کی گئی ہے شاہ فیصل بلوچ اور اس کی ٹیم اس کو وسعت دے کر لڑکیوں کے لیے سازگار تعلیمی ماحول پیدا کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ میدانِ عمل کے یہ مجاہد معاشرتی ایوان کے باشعور حلقے سے تعاون کے متمنی ہیں جنہیں نصیرآباد کی سرزمین پر اس طرح کا سپورٹ نہیں مل رہا جتنی ملنی چاہیے۔

نصیرآباد میں کتب بینی کا رجحان بڑھ جائے اسی سال نوجوانوں نے مل کر نصیرآباد میں کتب میلہ لگوایا۔ نصیرآباد اور باہر سے لوگ اس میلے میں شرکت کے لیے آئے جنہوں نے اسے کامیاب بنایا۔ اب یہ نوجوان اس فضا کو علم کے لیے مزید سازگار بنانے کے خواہش مند ہیں۔

بیوروکریسی اور ایوان نمائندگان بلوچستان کا بجٹ ان اسکیمات پر خرچ کرتے چلے آرہے ہیں جن سے عوام استفادہ کرنے کے بجائے وہی پیسہ ان کے ذاتی خزانوں میں چلا جائے زیادہ بہتر ہے۔

  لائبریریز کی آبیاری کا سہرا بلوچستان میں گزشتہ چند سالوں سے چلی آرہی ادبی اور کتابی میلوں کے منتظمین کے سر چلا جاتا ہے جہاں ان میلوں کے انعقاد سے کتابوں اور خیالات نے وہاں کے رہنے والوں کی زہن کے در کھول دیے۔ لائبریری مہم کا سلسلہ جاری رہا تو یہ مستقبل میں لائبریری نیٹ ورک کی شکل اختیار کرے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *