برطانوی راج میں‌ نظم ‘شکوہ جواب شکوہ’ کے سماجی اثرات

    February 10, 2019 6:18 pm PST
taleemizavia single page

اکمل سومرو

شکوہ و جواب شکوہ وہ نظم ہے جو کالج و یونیورسٹی نوجوان کے لیے اقبال کی عظمت کا اعتراف ہے۔ علامہ محمد اقبال اور سر علامہ محمد اقبال دو متضاد شخصیات ہیں، علامہ محمد اقبال سے متعلق تصور ریاست پاکستان کا تشکیل کردہ تصور ہےجس نے حقیقی اقبال کی شخصیت کو چھپا دیا ہے جو سر اقبال کے گرد گھومتی ہے۔

اقبال نے ہندستان میں برطانوی راج کے حق میں جو شاعری کی وہ سر علامہ محمد اقبال کی شاعری ہے، تصور خودی، شاہین، اسلامی فلسفہ پر مبنی شاعری کو کُل شاعری کا درجہ دینا اقبال کے فکر سے نا انصافی ہے۔ ہمیں اقبال کی دھندلی تصویر کو سمجھنا چاہیے۔

1920ء تا 1930ء کی دہائی میں خلافت کے فورا بعد سر علامہ محمد اقبال کو مسلمان جاگیرداروں اور والیان ریاست کے ہاں خصوصی پذیرائی اور اثر و رسوخ حاصل رہا۔ اقبال اُردو اور فارسی زبان کے ممتاز شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک وکیل، سیاست دان، انگریزوں کے وفادار اور ہندستان کے کم از کم دو والیان ریاست، بھوپال اور حیدر آباد دکن کے وظیفہ خوار بھی تھے۔ 

اقبال 1908ء میں لندن سے بیرسٹر اور جرمن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ہو کر لاہور واپس پہنچے۔ وکالت، سیاست اور شاعری میں خود کو مصروف کیا انھوں نے سیاست اور شاعری میں رجعت پسند اور سخت گیر اسلامی نظریات کی نمائندگی کی۔ 1911ء میں اقبال نے انجمن حمایت اسلام کے سالانہ اجلاس میں اپنی ایک طویل نظم “شکوہ” سنائی۔ انجمن حمایت اسلام پنجاب میں جاگیرداروں کا قائم کردہ ایک خیراتی ادارہ تھا جس کی غرض و غایت جدید تعلیم کو فروغ دینا تھا۔ اس نظم میں اقبال نے خدا سے مخاطب ہو کر سوال کیا:

کیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایاب
تیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد نہ حساب
تو جو چاہے تو اٹھے سینئہ صحرا سے حباب
زہرو دشت ہو سیلی زدہ موج سراب
طعن اغیار ہے، رسوائی ہے، ناداری ہے
کیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہے؟

اقبال نے یہ نظم 1911ء میں سنائی اس وقت اُن کی عمر34 برس تھی۔ اقبال کا خدا سے شکوہ ہندستان کے مسلمان جاگیرداروں اور ان کے شہروں میں رہنے والی غربت زدہ اولاد کی اپنے پڑوسی ہندووں، پارسیوں اور سکھوں کے مقابلہ میں غربت اور ناداری پر ایک سیدھا سادہ سا استفسار تھا۔ نظم شکوہ اردو کی روایتی کلاسیکی نظم کے انداز میں لکھی گئی تھی جو ہندستان کے طول و عرض میں نہایت ذوق و شوق سے پڑھی گئی اس لیے کہ اس میں مسلمانوں کے دلی جذبات کی عکاسی کے علاوہ دنیاوی مسائل کو اٹھایا گیا تھا۔ اس نظم کے پس منظر میں اقبال نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ تجارت و صنعت کی طرف آئیں، بینک کھولیں، صنعتیں لگائیں اور تجارت کریں۔ لیکن ہندستانی مسلمانوں کی پستی کا خود علامہ اقبال نے کیا حل تجویز کیا، ملاحظہ کیجئے:

تین سال بعد اقبال نے شکوہ کا اللہ کی جانب سے جواب شکوہ لکھا اور 1914ء میں اقبال نے اسی انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسہ میں یہ نظم سنائی جو شکوہ سے زیادہ طویل ہے۔ اب جواب شکوہ میں مسلمانوں میں دولت دنیا کی نایابی، مسلمانوں کی غربت اور زندگی کے ہر شعبے میں ان کی پسماندگی کی جانب اشارہ کیے بغیر اقبال نے اللہ کی جانب سے جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ اسلام کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اس لیے کہ مسجدیں شکایت کر رہی ہیں کہ مسلمانوں نے نمازیں چھوڑ دی ہیں، جائو مسجدیں پھر سے آباد کرو، جواب شکوہ کا یہ بند ملاحظہ کیجئے؛

کس قدر تم پر گراں صبح بیداری ہے
ہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہے
طبع آزاد پہ قید رمضان بھاری ہے
تم ہی کہہ دو یہی آئین وفاداری ہے
قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں، تم بھی نہیں
جذب باہم جو نہیں، محفل انجم بھی نہیں

اقبال مسلمان قوم کو مذہب سےوابستگی پیدا کرنے کی تلقین کے بعد مسجدوں کو آباد کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اقبال نے جواب شکوہ کے پڑھنے والوں سے کہا، جائو پکے نمازی بن جائو اس پوری نظم جواب شکوہ میں36 بند ہیں یعنی شکوہ کے مقابلے میں پانچ بند زیادہ ہیں، اقبال نے کہیں بھی مسلمانوں کی پسماندگی یا پھر ہندستان کے سماج کی پسماندگی کا ذمہ دار انگریز سرکار کو نہیں ٹھہرایا اور کسی بھی طرح کا معاشی شعور پیدا نہیں کیا یعنی اپنے ہی اٹھائے ہوئے سوال کا جواب نہیں دیا۔ شکوہ و جواب شکوہ سے متعلق یہ بھی رائے ہے کہ یہ الطاف حسن حالی کی نظم “مسدس حالی” سے اخذ کی گئی ہے۔ 

جس سال اقبال نے جواب شکوہ لکھی اسی سال پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی جو پانچ سال تک انسانوں کا قتل عام کرتی رہی۔ ہندستانی مسلمان تو اقبال کی ہدایت پر مسجدیں آباد کرنے میں مصروف ہوگئے لیکن ہندو اور پارسی ملز مالکوں اور تاجروں کو انگریز سرکار کی ایماء پر مہلت مل گئی کہ وہ اپنے کاروبار کو ترقی دیں۔ گو اقبال خود مستقلا دولت دنیا کی تلاش میں رہے لیکن اپنے ہم مذہبوں کو مسجدیں آباد کرنے کی تلقین کرتے رہے۔ جہاں اقبال دو مسلم ریاستوں بھوپال اور حیدر آباد کے وظیفہ خوار تھے وہیں اقبال اپنا پیسہ بینک میں رکھ کر سود وصول کرتے رہے لیکن اقبال نے دوسرے مسلمانوں کو جن میں مسلم ریاستوں کے نواب بھی شامل تھے سود لینے اور سود دینے کی تلقین سے گریز کیا۔

جب انگریز سرکار نے اقبال کو سر کا خطاب پیش کرنا چاہا جس کےساتھ زرعی زمین کی ملکیت بھی وابستہ تھی تو اقبال نے اس پیش کش کو بصد خوشی قبول کر لیا۔ 1920ء تا 1930ء کی دہائی میں جب مسلمان انگریز سرکار سے نبرد آزما تھے تو اقبال کو مسلمانوں کی انگریز مخالفت سے ایک ذاتی فائدہ ضرور ہوا، 1919ء میں امرتسر کے جلیانوالہ باغ کے سانحہ کے بعد انگریزوں کو ایک مسلمان دوست کی ضرورت رہی۔ انگریزوں نے اقبال کو سر کا خطاب پیش کیا اور اس طرح وہ یکم جنوری 1923ء سے سر علامہ محمد اقبال کہلائے جانے لگے اقبال نے اس برطانوی اعزاز کو زندگی بھر کلیجے سے لگائے رکھا لیکن دوسری طرف جلیانوالہ باغ کے سانحہ کے خلاف سر رابندر ناتھ ٹیگور نے اپنا سر کا خطاب واپس کر دیا تھا۔ 

جب محمد علی جوہر کو یہ خبر ملی کہ اقبال نے برطانوی سامراجیوں سے یہ اعزاز قبول کر لیا ہے تو اس بطل حریت کو سخت صدمہ پہنچا اور عبد المجید سالک نے تو سر کے خطاب پر روزنامہ انقلاب میں اقبال کے خلاف نظم ہی کہہ ڈالی۔

دوسری جانب جواب شکوہ سے صرف سولہ سال کے بعد اب اقبال نے مسجدیں آباد کرنے کا نظریہ بھی ترک کر دیا اور مسلمان جاگیر دار طبقے کو مزید دولت حاصل کرنے کے لیے ایک موثر طریقہ بتایا وہ تھا خطبہ الہ آباد میں مسلمانوں کی جداگانہ ریاست کے قیام کا مطالبہ۔ 1930ء تا 1940ء کی دہائی میں سرمایہ داری نظام میں داخل ہونے کے خواہش مند ہندستان کے مسلمان جاگیر دار طبقات نے انگریز سامراج کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنی فکری صلاحیتوں کو یکجا کیا اور یہ لائحہ عمل اختیار کیا کہ پہلے تو ہندستان کی مسلمان آبادی کو ایک الگ قوم کی حیثیت سے منوایا جائے اور پھر مسلمان قوم کے لیے ایک الگ وطن کا مطالبہ کیا جائے۔ 

اسے تاریخی اتفاق کہیے کہ گنوار، ان پڑھ، غریب مزدوروں اور کسانوں کا طبقہ جو اسلام کی پیروی کرتا تھا برصغیر کے ایک خاص حصے میں یوں بسا ہوا تھا کہ وہاں اس کی اکثریت بن گئی تھی۔ مسلمان تاجروں، جاگیرداروں نے اس تاریخی اتفاق کو بھانپ لیا تھا۔ اقبال کی الہ آباد کی تقریر کے تھوڑے عرصے بعد انھیں ستمبر 1931ء میں لندن میں منعقد ہونے والی دوسری گول میز کانفرنس میں مدعو کر لیا گیا۔ پھر اس کے بعد تیسری گول میز کانفرنس 1933ء میں ہوئی اس میں بھی اقبال مدعو ہوئے یہاں چوہدری رحمت علی نے اپنا کتابچہ “ابھی نہیں کبھی نہیں” کانفرنس کے شرکاء میں تقسیم کیا۔ اس کتابچے کے متعلق گمان یہی ہے کہ اسے برطانوی حکومت کے انڈیا آفس کے ایماء پر لکھا گیا تھا اور اس میں پہلی مرتبہ لفظ پاکستان استعمال ہوا تھا۔ اس میں واضح طور پر لکھا تھا کہ پاکستان ہندستان سے علیحدہ خود مختار اور آزاد ریاست تصور ہوگا۔ 

یہ اقبال کے تجویز کردہ سلطنت برطانیہ کے اندر یا باہر ریاست کے تصور سے بالکل اُلٹ بات تھی۔ تیسری گول میز کانفرنس کے بعد برطانوی سیاستدان لارڈ لوتھین سے لندن میں ملاقات کے بعد ہندستان واپس لوٹنے پر اقبال کے نظریات ایک بار پھر تبدیل ہوئے۔ 23 مئی 1936ء سے 10 نومبر 1937ء کے ڈیڑھ سال کے عرصہ میں اقبال نے لاہور سے محمد علی جناح کو بمبئی میں تیرہ خطوط لکھے۔ اب ساٹھ سال کی عمر میں اقبال کا نظریہ کیا تھا اور 1936ء تا 1937ء اقبال مسلمانوں کو کیا مشورہ دے رہے تھے؟ وہ زمانہ گزر چکا تھا جب اقبال نے37 سال کی عمر میں اُردو نظم کے ذریعہ جواب شکوہ میں مسلمانوں کو اپنے معاشی مسائل حل کرنے کے لیے مسجدیں آباد کرنے کا کہا۔

اب علامہ 28 مئی 1937ء کو لکھے گئے خط میں فرماتے ہیں کہ؛

ان حالات میں ہندستان کے اندر امن قائم رکھنے کی واحد صورت یہ رہ گئی ہے کہ ہندستان کو مذہب، نسل اور زبان کی بنیاد پر تقسیم کر دیا جائے، اس حقیقت کا انگریز سیاستدان بھی اعتراف کرتے ہیں مجھے یاد ہے کہ انگلستان سے رخصت ہوتے وقت لارڈ لوتھین نے اتفاق کیا تھا کہ ہندستان کے مسائل کا واحد حل  وہی ہے جو میں یہاں تجویز کر رہا ہوں۔ 

انگریز نے ہندستان میں کس طرح سے جاگیر دار طبقہ پیدا کیا، انگریز نے ہندستان میں تجارت کے نام پر کیسے معاشی لوٹ کھسوٹ کی، انگریز نے سماج کو تقسیم کرنے کے لیے فرقہ وارانہ ماحول کیسے پیدا کیا، انگریز نے کالونیل پالیسیوں کے ذریعے سے اس خطہ کو کیسے غلام بنائے رکھا، سر علامہ محمد اقبال کی شاعری اور فلسفے سے یہ سب کچھ خارج ہے۔


akmal-dawn

اکمل سومرو سیاسیات میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ تاریخ اور ادب پڑھنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔وہ لاہور کے مقامی ٹی وی چینل کے ساتھ وابستہ ہیں۔