29 مارچ 1849: جب پنجاب انگریز کا غلام ہوا

  • March 29, 2019 10:39 pm PST
taleemizavia single page

اکمل سومرو

ہندستان میں یورپین ثقافت، تہذیب و تمدن کا غلبہ انگریز راج کی ایک طویل داستان ہے۔ ہندستانی سماج کی ثقافتی، سیاسی و علمی شناخت کو برطانوی ایمپائر کے تصورات کے تحت تشکیل دینے کے لیے ایسے طبقات پیدا کیے گئے جو استعمار کے مفادات کا مستقل طور پر تحفظ کر سکیں۔ اس راج کا پھیلائو پنجاب میں سلطنت برطانیہ کے قبضے پر مکمل ہوا۔

آج 29 مارچ ہے جب لارڈ ڈلہوزی نے 170 سال قبل دس سالہ سکھ مہاراجہ دلیپ سنگھ سے پانچ نکاتی معاہدے کے ذریعے سے تخت لاہور چھین لیا تھا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے انتقال کے بعد پنجاب میں سکھوں کا شیرازہ منتشر سا ہوگیا تھا اور یوں پنجاب پر سکھ حکومت کا سورج پچاس سال کے بعد ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔

پنجاب پرانگریزوں کا قبضہ ہوگیا۔ برطانوی راج نے لاہور کے شاہی قلعے پر اپنا جھنڈا لہرا دیا گیا۔ اس سے تین سال قبل 29 مارچ 1846ء میں پہلی اینگلو سکھ جنگ کے بعد لارڈ ہارڈنگ نے معاہدہ لاہور کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت انگریزوں نے ڈیڑھ کروڑ شاہی نانک جنگی تاوان پنجاب سے طلب کیا۔ تاوان کی رقم نہ ہونے کی بناء پر انگریزوں نے مہاراجہ دلیپ سنگھ سے پنجاب کے تمام فورٹس، دریائے ستلج، دریائے بیاس اور انڈس دریا کے درمیان کا رقبہ بشمول کشمیر اور ہزارہ قبضے میں لے لیے۔ صرف یہی نہیں بلکہ پنجاب کی فوج پر بھی برطانیہ نے اپنے کنٹرول سنھبال لیا تھا۔

یہی سکھ فوج برطانوی حکمرانوں کی زیر نگرانی آنے کے بعد ان کی وفادار ہوگئی۔ جب پنجاب کی سکھ حکومت نے ہتھیار ڈالے تھے تو اس فوج کی تعداد 50 ہزار تھی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ان پچاس ہزار فوجیوں میں سے صرف پانچ ہزار فوجیوں کو اپنی ملازمت میں رکھا اور باقی 45 ہزار کی نفری کو سکھ خزانے سے پیسے ادا کر کے فارغ کر دیا گیا۔ سر چارلس نیپئر نے لکھا ہے کہ جو سکھ فوج فیرزو پور شہر اور جلیانوالہ میں برطانیہ سے ٹکرائی تھی 1857ء کی جنگ آزادی میں پنجاب کی اسی فوج نے دہلی فتح کرنے میں برطانیہ کی امداد کی تھی۔

مہاراجہ دلیپ سنگھ کے ساتھ جب انگریز حکمران نے پہلا معاہدہ کیا تھا تو مہاراجہ کی عمر صرف سات برس تھی۔ اس معاہدے کے بعد پنجاب میں عملی طور پر سیاسی حکومت انگریز کی تھی تاہم آئندہ تین سال تک علامتی طور پر مہاراجہ دلیپ سنگھ کو تخت لاہور پر رہنے دیا گیا۔

تاہم 29 مارچ 1849ء کو دلیپ سنگھ کو تخت سے ہٹا دیا گیا اب پنجاب برطانوی عمل داری میں شامل ہوگیا۔ دس سالہ دلیپ سنگھ سے معاہدے کے تحت کوہ نور ہیرا چھین لیا گیا جو اب ملکہ برطانیہ کے تاج کا حصہ ہے۔

دلیپ سنگھ کا سالانہ پانچ لاکھ نانک شاہی اعزازیہ مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد دس سالہ دلیپ سنگھ کو لندن بھیج دیا گیا۔ جہاں اس نے اپنا مذہب تبدیل کر کے عیسائیت اختیار کر لی۔

پنجاب پر انگریز قبضے کے بعد اپنے اقتدار کی مضبوطی کے لیے یہاں پر نئے طبقات پیدا کیے گئے ان میں جاگیر دار طبقہ سر فہرست تھا۔ جاگیر دار طبقے کو انگریز راج کے استحکام کے لیے استعمال کیا گیا۔ شاہ پور کے ٹوانہ خاندان کے جد امجد ملک صاحب خان نے جنگ آزادی میں 300 سواروں کے جیش کے ساتھ انگریزوں کا ساتھ دیا اسی ٹوانہ خاندان کے خضر حیات خان کو سر کا خطاب دیا اور انگریز راج میں پنجاب کے آخری وزیر اعظم کا منصب بھی دیا گیا۔

سکھ دربار کا اہم وزیر فقیر سید نور الدین مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں ہی انگریزوں کے ساتھ بات چیت کے لیے سفیر مقرر ہو چکا تھا۔ مارچ 1846ء اور 1849ء میں انگریزوں کے ساتھ دونوں معاہدات پر فقیر سید نور الدین کے دستخط ہیں۔

بعد میں یہی فقیر سید نور الدین برطانیہ کا وفادار ہوا۔ انگریز نے اس وفاداری کے عوض اس خاندان کے سپوتوں کو جاگیریں دیں اور اسی خاندان سے وابستہ سید مراتب علی کو 1935ء میں ریزرور بینک آف انڈیا کا فائونڈنگ ڈائیریکٹر تعینات کیا گیا اور برطانوی فوجی کنٹریکٹ بھی سید مراتب علی کو دیے گئے۔ سید مراتب علی کے بیٹے سید بابر علی کی انگریز نے سرپرستی جاری رکھی۔ اسی خاندان کے فقیر سید اعجاز الدین کو ایچی سن کالج کا پرنسپل تعینات کیا گیا۔

پنجاب میں بالادست طبقات کی پرورش انگریز راج میں وفاداریوں کے عوض کی جارہی تھی۔ پنجاب کی جاگیروں کا انتظام کورٹ آف وارڈ کے سپرد تھا جس کا مقصد جاگیر کے وارث کا تحفظ کرنا تھا۔ اسی کورٹ آف وارڈ میں جھنگ کے سید عابد حسین شاہ کو ممبر بنایا گیا تھا۔ یہ جنگ آزادی میں انگریز وفاداری کا ریوارڈ تھا جس میں ہزاروں ایکڑ جاگیریں بھی شامل تھیں۔

سید مراتب علی کی بیٹی کی شادی سید عابد حسین شاہ سے ہوئی جن کی بیٹی سیدہ عابدہ حسین قومی اسمبلی کی جاگیردار رکن اسمبلی بنی اور پاکستان کے مہنگے ترین گرائمر سکول کی مالکہ ہیں۔

پنجاب میں جاگیرداری نظام کی داغ بیل کی بنیادی عنصر خاندانی وفاداری تھا۔ وفاداری کےعوض انگریز سرکار خان بہادر، آرڈر آف برٹش انڈیا، اسٹار آف برٹش انڈیا، دی وکٹری میڈل، ہزہائی نس اور سر جیسے خطابات دے کر سماجی رُتبے میں اضافہ کیا جاتا تھا۔

پنجاب میں اس جاگیر دار طبقے کی حفاظت کے لیے انگریز سرکار نے ساہو کاروں کا زور توڑنے کے لیے 1901ء میں پنجاب ایلی نیشن ایکٹ نافذ کر دیا۔ اس قانون کے تحت پنجاب کی آبادی کو زراعتی و غیر زراعتی بنیادوں پر تقسیم کر دیا گیا۔

اس قانون کے تحت غیر زراعتی زمینوں کی خریداری کا مجاز نہیں تھا۔ انگریز نے یہ قانون اپنے پیدا کردہ جاگیر دار طبقات کے تحفظ کے لیے بنایا۔ وہی جاگیر دار جنھوں نے نوآبادیاتی عہد میں انگریز راج کو تقویت دینے میں معاونت کی۔ ملتان کے مخدوم، قریشی، ڈایا، ٹوانہ، مزاری، دریشک، کھوسوں کو انگریز راج میں جنگ آزادی کے مجاہدین کا قتل عام کرانے کے عوض جاگیریں دی گئیں۔

برطانیہ نے نوآبادیاتی فلسفے کے تناظر میں پنجاب کے سماج میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی جس کے لیے علوم اور سیاست کی ادارہ جاتی تشکیل کی گئی۔ پنجاب کے اشرافیہ خاندان کی تعلیم و تربیت کے لیے ایچی سن کالج، کوئین میری کالج لاہور، گورنمنٹ کالج لاہور، گورڈن کالج راولپنڈی، صادق ایجرٹن کالج، صادق پبلک سکول بہاولپور جیسے ادارے تشکیل دیے اور یہاں پر جو نصابات تشکیل دیے گئے ان نصابات کو پڑھنے کے بعد ایسا تعلیم یافتہ طبقہ تیار کیا گیا جس نے سول انتظامیہ اور نوآبادیاتی فوج میں شمولیت اختیار کر کے انگریز راج کے لیے کام کیا۔

دفاعی نقطہ نظر سے پنجاب انگریز راج کے لیے تزویراتی اہمیت کا حامل تھا اسی تناظر میں پنجاب بالخصوص لاہور کی فوجی چھائونی کو ریل نیٹ ورک کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ میاں میر فوجی چھائونی کو ریلوے کے ذریعے سے دہلی اور ملتان سے ملا دیا گیا۔ برطانیہ نے فوجی ضروریات اور معاشی وسائل پر کنٹرول کی خاطر ریلوے سسٹم کو مضبوط کیا۔

لاہور ریلوے سٹیشن 1862ء میں شروع ہوا اور اس اسٹیشن کی عمارت کا نقشہ دفاعی نقطہ نظر کے تحت بنایا گیا تھا۔ اس ریلوے کے ذریعے سے فوجی اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل مممکن ہوئی جس کی ایک طویل داستان ہے۔

نوآبادیاتی راج میں مقامی آبادی پر انگریز سرکار نے جو مظالم ڈھائے وہ ہمارے نصابات میں داخل نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ 29 مارچ 1849ء کا دن غلامی کی ابتداء کا دن تھا۔ انگریز راج کی یہ کہانی ہمیں نہیں بتلائی جاتی حتیٰ کہ سرکاری سطح پر ایک بھی تقریب ایسی منعقد نہیں ہوتی جس میں اس دن کو یاد کیا جاسکے۔

عوامی سطح پر اس دن کو نہ منانے کے پیچھے جہاں برطانوی مابعد نوآبادیاتی مفادات ہیں وہیں پر پنجاب کے اُن غدار خاندانوں کے ماضی کا پردہ چاک بھی ہوتا ہے جو اب پاکستان کی بیوروکریسی و سیاست میں بالادست طبقات کے طور پر مسلط ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پنجاب سے جو کوہ نور چھینا گیا آج ہماری حکومت اس کی ملکیت کا دعویٰ کرنے سے گریزاں ہے۔ وہ جنگی تاوان جو برطانیہ نے سکھوں کے خزانے سے وصول کیا اس اُصول کی بنیاد پر پہلی و دوسری عالمی جنگ میں ہندستانیوں کا جنگی تاوان بھی آج برطانیہ سے وصول کرنے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔

شاہی قلعے کی جو دولت انگریز یہاں سے لوٹ کر برٹش میوزیم میں لے گیا اس کی واپسی کا مطالبہ بھی کیا جاسکتا ہے لیکن یہ سب تب ہی ممکن ہے جو یہاں کے بالادست طبقات کے نوآبادیاتی عہد کے کنکشن کو ایکسپوز کر کے انھیں اقتدار سے خارج کیا جائے تاکہ مابعد نوآبادیات عہد کی زنجیریں توڑنے میں مدد مل سکے۔ کیونکہ پنجاب کے وزراء اعلیٰ 15 اپریل کو ملکہ برطانیہ کا یوم پیدائش تو لاہور میں سرکاری طور پر منا سکتے ہیں لیکن یوم غلامی کی یاد نہیں.

یہ رائج شدہ مابعد نوآبادیاتی نصاب کا نتیجہ ہے کہ پنجاب کی بڑی بڑی سرکاری جامعات، کالجز، سیاسی جماعتیں حتیٰ کہ نامور دانش ور بھی آج کے دن خاموش رہے.


akmal-dawn

اکمل سومرو سیاسیات میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ تاریخ اور ادب پڑھنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔وہ لاہور کے مقامی ٹی وی چینل کے ساتھ وابستہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.