پاکستان میں تعلیم کا لارنس آف عریبیہ

    April 26, 2018 12:59 pm PST
taleemizavia single page

اکمل سومرو

تاریخ میں کچھ چہرے پُراسرار، خفیہ، ایجنٹ اور غدار ہوتے ہیں۔ یہ تاریخ کا رُخ بدلتے ہیں کبھی قوم کے حق میں اور کبھی پوری قوم کو گروی رکھ کر اپنے انفرادی معاشی مفاد کے تابع ہوکرکاروبار زندگی چلاتے ہیں۔ برصغیر میں انگریزوں کو وقت کے سلطان کو شکست دینے کے لیے میر جعفر اور میر صادق میسر آگئے۔ مشرق وسطیٰ میں انگریز نے لارنس آف عریبیہ کے بہروپ میں اپنا ہی ایجنٹ چھوڑ رکھا تھا۔

ان کرداروں نے برصغیر کو غلامی اور مشرق وسطیٰ کی نئی سرحدوں کے تعین میں کردار نبھایا اور انگریز نے ان کی وفاداریوں کو آج بھی سیلوٹ بھیجا جاتا ہے۔

جدید نوآبادیاتی دور میں غلامی کا تصور بدل گیا، طریقہ کار بدل گیا، اب لارنس آف عریبیہ کو بہروپ نہیں بنانا ہوگا بلکہ اسی خطے سے بہروپیے مل جاتے ہیں۔ جدید نوآبادیاتی نظام میں پاکستان پرمعاشی غلامی کے ساتھ ذہنوں کی غلامی کے پراجیکٹس پر بھی کام ہوتا رہا ہے۔ ذہنی غلامی کا موجب تو ہمیشہ تعلیمی سسٹم رہا ہے اوراس تعلیمی سسٹم کو ری سٹرکچر کرنے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے، ڈونرز ایجنسیز کو ماہر افراد درکار ہوتے ہیں۔ پھر انہیں افراد کے ذریعے سے حکومتوں سے انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ اپنے ایجنڈوں کی تکمیل کراتی ہے۔

سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے دو ہزار عیسوی کے بعد پاکستان میں نیو لبرل ازم کے تصورات کے تحت تعلیمی نظام میں پرائیویٹائزیشن کا منصوبہ لانچ کیا اور پھر برق رفتاری سے نجی اداروں کی تشکیل ہوئی۔ شریف خاندان وطن واپس لوٹے تو یہ خالی ہاتھ نہیں آئے بلکہ اپنے ساتھ پرُاسرار کردار بھی لائے ان کے ذمہ نیو لبرل ازم کے تعلیمی پراجیکٹ کو اگلے دور میں داخل کرنا اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کا مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ یہ کنٹرول پالیسی کی تشکیل سے متعلق ہے۔

مسلم لیگ نواز نے پنجاب میں حکومت سنبھالی اور دبنگ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے صحت و تعلیم کے شعبوں میں اصلاحاتی ایجنڈے نافذ کر دیے۔ میاں محمد شہباز شریف نے 2011ء میں چیف منسٹر ایجوکیشن ریفارمنز روڈ میپ لانچ کیا اور اس کے ساتھ برطانیہ کی نجی کمپنی کے ڈائریکٹر سر مائیکل باربر اور ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی کو بھی لانچ کیا گیا۔ تعلیم میں ایجوکیشن پالیسی کی تشکیل میں یہ دونوں نئے کردار متعارف کر دیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں؛ تعلیمی انقلاب اور سید بابر علی

اس پراجیکٹ کے تحت پنجاب میں سرکاری سکولوں کی نجکاری شروع ہوئی۔ سرکاری فنڈنگ کا رُخ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی جانب موڑا گیا۔ پرائیویٹ سکولوں کو فنڈنگ دی جانے لگی اور سرکاری سکولوں کو این جی اوز کے حوالے کیا جانے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں 2008ء سے لیکر 2018ء تک 9 ہزار سرکاری سکولز ختم کر دیے گئے۔

مائیکل باربر کو کیا تنخواہ دی جاتی ہے، حکومت کس مد سے پیسے دیتی ہے یہ سب خفیہ ہے۔ لیکن ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی کون ہیں؟ وزیر اعلیٰ پنجاب اور صوبے کی بیوروکریسی کیوں ڈاکٹر زک کو تعلیمی پالیسی کے اہم کمیٹیوں میں تعینات کرتی ہے؟

ڈاکٹر زک ورلڈ بنک اور عالمی ڈونرز ایجنسیز کے ساتھ اُس وقت سے رابطے میں ہیں جب لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) امریکہ کی فنڈنگ سے تعمیر کیا گیا اور ڈاکٹر زک کو لمز میں تعینات کیا گیا۔ اس سے پہلے وہ امریکی سی آئی اے اور مشنیریوں کی فنڈنگ سے لبنان میں امریکن یونیورسٹی آف بیروت سے ایم بی اے کی ڈگری کی اور پھر اس کے بعد وہ امریکہ چلے گئے اور وہاں پر پٹس برگ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی پالیسی اینالسز کی ڈگری کر چکے تھے۔

پنجاب یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف ایڈمنسٹریٹو سائنسز سے 70ء کی دہائی میں بطور لیکچرر اپنے سفر کا آغاز کیا اور اسسٹنٹ پروفیسر ہوگئے لیکن جب وہ امریکہ گئے تو پھر امریکہ کے ہی ہو کر رہ گئے۔

لمز کو مضبوط ڈھانچے پر کھڑا کرنے کے لیے سید بابر علی کی خدمات حاصل کی گئیں اور امریکہ نے تمام تر ذمہ داری سید بابر علی کو سُپرد کر دی۔ 1986ء میں ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی کو لمز میں بزنس سکول اور دیگر پالیسیاں تشکیل دینے کا ٹاسک دیا گیا جسے اُنہوں نے بخوبی نبھایا۔ پرویز مشرف نے امریکی دباؤ پر جب ایف سی کالج کو واپس پیریسبیٹرین چرچ کے حوالے کیا تو 2005ء میں ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی کو بھی ایف سی کالج بھیج دیا گیا۔

ایف سی کالج میں اُنہوں نے بزنس ڈیپارٹمنٹ بنانے کا ٹاسک لیا اور لمز کی طرز پر ایف سی کالج کو ری سٹرکچر کرنے میں کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر زک کی قسمت اُس وقت جاگ گئی جب شہباز شریف نے انہیں اپنا تعلیمی مشیر بنایا اس کے پیچھے کون کون سی ڈونرز ایجنسیز کا دباؤ تھا یہ تو شہباز شریف ہی بتا سکتے ہیں لیکن یہاں سے ڈاکٹر زک کو پنجاب کے تعلیمی نظام میں ایک مستقل کردار سونپ دیا جاتا ہے۔

اس دوران امریکہ یو ایس ایڈ کے تحت لمز میں سنٹر فار گورننس اینڈ پبلک پالیسی میں ایک پراجیکٹ لانچ کرتا ہے اور2011ء میں ڈاکٹر زک کو چیف پارٹی فار دی یو ایس ایڈ تعینات کر دیا گیا۔ لمز نے اس امریکی پراجیکٹ کے تحت سرکاری اداروں کے دو ہزار سربراہان، مینجیرز، ڈائریکٹرز کی ٹریننگ کرائی گئی۔ اس پراجیکٹ کے تحت افسران کی شارت لسٹنگ کی گئی اور آج تک ان افسران سے امریکہ بہادر کام لے رہا ہے۔

شہباز شریف کی حکومت نے سکولز، کالجز اور یونیورسٹیوں سے متعلق اہم ترین پراجیکٹس اور پالیسی ساز منصوبوں میں ڈاکٹر زک کو ذمہ داریاں سونپ دیں اور خاص الخاص بیوروکریٹس کو بھی ساتھ ملا لیا گیا۔

اب پنجاب میں تیزی سے تعلیمی شعبے میں ورلڈ بنک، برطانوی ڈونرز ایجنسی ڈیفیڈ، جاپان کی ڈونر ایجنسی جائیکا کو لایا گیا۔ نان فارمل بیسک ایجوکیشن کے حکومتی محکمہ میں نصاب کی تیاری ان ڈونرز ایجنسیز کو سُپرد کی گئی اور سکولوں ک ری سٹرکچرنگ پروگرام کے تحت پرائمری اور مڈل سکولوں کیلئے پنجاب ایگزامینیشن کمیشن تشکیل دیا گیا۔

شہباز شریف نے ڈاکٹر زک کو اس کمیشن کا چیئرمین تعینات کر دیا اور اس کے ساتھ ہی سرکاری سکولوں کی نجکاری کرنے اور پرائیویٹ اداروں کو مضبوط کرنے والے پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے بورڈ آف گورنرز کا ڈائریکٹر بھی بنوا دیا گیا۔ آج بھی وہ پیف میں با اثر ترین ڈائریکٹر ہیں۔

پنجاب میں لازمی اور مفت تعلیم کا منصوبہ لانچ کیا گیا اگرچے یہ پنجاب کے باسیوں کا آئینی حق ہے لیکن اس پراجیکٹ کو بھی ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی کو سونپ دیا گیا۔

ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی عالمی مالیاتی اداروں کے پراجیکٹس کرنے میں ماہر ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ورلڈ بنک کے پراجیکٹ انسٹیٹیویشنل ڈویلپمنٹ سپیشلسٹ،پنجاب میونسپل ڈویلپمنٹ کمپنی کے ایم ڈی کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔

سرکاری سکولز ہوں یا پھر سرکاری یونیورسٹیز، ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی ہر اُس کمیٹی کا حصہ ہوں گے جس کا تعلق پالیسی ساز سے ہے یا مستقل کی لیڈر شپ کے چناؤ کے حوالے سے ہے۔ 2010ء میں آئین کی اٹھارویں ترمیم ہوئی تو پھر پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن تشکیل دیا گیا۔ شہباز شریف کے حکم پر ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی کو اس کمیشن کا ممبر بنایا گیا، کس ضابطے کے تحت یا پھر کس قانون کے تحت یہ تو شہباز شریف ہی بہتر بتا سکتے ہیں البتہ یہ کمیشن ڈاکٹر زک کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوا۔

ڈاکٹر زک کو معلوم ہوچکا تھا کہ ہائر ایجوکیشن ایک منافع بخش ادارہ ہے گویا اُنہوں نے اس کمیشن کی ایکریٹیڈیشن کمیٹی فار پرائیویٹ یونیورسٹیز کے چیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا۔ اس عہدے کے بعد ڈاکٹر زک نے 2015ء میں ایک ٹرسٹ کے تحت اپنی پرائیویٹ یونیورسٹی لانچ کر دی اور نور انٹرنیشنل یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین ہوگئے۔ 2014ء میں نیشنل ایجوکیشن کنسورشیم تشکیل ہوا تو ڈاکٹر زک کو اس کے بورڈ آف ایڈوائزرز میں شامل کیا گیا۔

پنجاب میں تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز کی تقرری کے لیے بھی جو کمیٹی تشکیل ہوئی اس کمیٹی میں بھی ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی کو لگا دیا گیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ شہباز شریف کے حکم پر وائس چانسلرز کی تقرریوں کے لیے قائم ہونے والی کمیٹیوں میں بھی ڈاکٹر زک کو شامل کیا گیا۔

پاکستان کی سب سے بڑی جامعہ، پنجاب یونیورسٹی، یونیورسٹی آف جھنگ، ویمن یونیورسٹی ملتان کی وائس چانسلر سرچ کمیٹی میں بھی ڈاکٹر زک کا نام رکھا گیا حتیٰ کہ تعلیم پر بننے والی ہر کمیٹی میں ڈاکٹر زک کو شامل کرنا بیوروکریسی اور پنجاب حکومت پر فرض ہو چکا ہے چاہے یہ کمیٹی سکولز کے لیے ہو یا پھر کالج یونیورسٹی کے لیے، ڈاکٹر زک اس کے ممبر ہوں گے۔

ڈاکٹر زک نے جامعہ پنجاب سے بھی بدلہ لیا جب یہاں کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران سی آئی اے کی کارستانیوں سے پردہ اُٹھایا، سی آئی اے کے طریقہ وارادات کو طلباء کے سامنے ایکسپوز کیا تو ڈاکٹر زک نے ہی انہیں وائس چانسلر کی دوڑ سے آؤٹ کیا کیونکہ امریکہ مخالف مہم انہیں کسی طور برداشت نہیں تھی۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی لاہور کی سنڈیکیٹ میں بھی ڈاکٹر زک ممبر ہیں جبکہ پنجاب حکومت کا لاہور نالج پارک کا گرینڈ منصوبہ، وہ اس کے بھی ڈائریکٹر ہیں۔ لاہور نالج پارک میں کرپشن پر چیف ایگزیکٹو آفیسر پر الزام لگا کر ڈاکٹر محمد زبیر اقبال کو تو فارغ کر دیا گیا لیکن نالج پارک کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی کی جانب جاتے ہوئے پنجاب حکومت کے پر جلتے ہیں۔

امریکی معاونت اور امریکی سرپرستی میں جس شخص نے پاکستان کے تعلیمی اداروں میں قدم رکھا آج پنجاب حکومت نے اسے تعلیمی پالیسیوں سے متعلق طاقتور ترین شخص بنا دیا ہے۔

ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی سے متعلق پنجاب حکومت کا بیانیہ ہے کہ وہ تعلیمی میدان میں چالیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں اور ریسرچ میں ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی کا نام گوگل سکالرز میں لکھ کر سرچ کریں تو دور دور تک ان کی ریسرچ نہیں ملے گی حتیٰ کہ ان کا نام بھی اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔

اب سوال بہت سادہ سا ہے۔ یہ شہباز شریف کس کی ایماء پر ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی کو محکمہ تعلیم کی بیوروکریسی، کالج پرنسپلز، بورڈز سربراہان اور وائس چانسلرز پر مسلط کیے ہوئے ہیں؟ یہ کونسا میرٹ ہے؟ یہ کون سی وفاداری ہے؟ اور ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی کی محض پالیسی تشکیل دینے کے علاوہ کونسے تحقیقی مجلات میں ان کی ریسرچ شائع ہوتی رہی ہے جس سے طلباء یا اساتذہ مستفید ہوتے ہیں۔

وہ جو مرضی تعلیمی پالیسیاں تشکیل دیں، جس مرضی شخص کو وائس چانسلر کے عہدے کے لیے انٹرویوز میں زیادہ نمبرز دے دیں، جس مرضی شخص کو وائس چانسلر کی دوڑ سے آؤٹ کر دیں، نہ تو اُن کا محاسبہ ہوتا ہے اور سرکاری اداروں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والا شخص کسی کو بھی جوابدہ نہیں ہے۔

ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی کے مذکورہ عہدوں پر تعیناتیوں سے متعلق یہ پنجاب حکومت کے خلاف وائیٹ پیپر ہے کہ جس نے صوبے کے پڑھے لکھے ترین افراد، محقیقین، دانشوروں کو نظر انداز کر کے امریکی اور عالمی مالیاتی اداروں کے پراجیکٹس کرنے والے شخص کو تعلیمی اداروں پر نگران بٹھا دیا ہے۔

نوٹ: کالم نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے، تمام کالم نیک نیتی سے شائع کیے جاتے ہیں۔ اگر حکومت پنجاب، ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی یا کوئی قاری اس کالم پر وضاحت دینا چاہتے ہیں تو تعلیمی زاویہ کے صفحات حاضر ہیں۔


akmal-dawn

اکمل سومرو سیاسیات میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ تاریخ اور ادب پڑھنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔وہ لاہور کے مقامی ٹی وی چینل کے ساتھ وابستہ ہیں۔

  1. افسوس صد افسوس
    اس تحریر کے مرکزی کردار ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی کے کردار سے آگاہی کے بعد وہ کہانی یاد آتی ھے جس میں ایک سیکرٹ ایجنسی نے ایک سرکاری ادارے میں ایک فرد کو تنخواہ دار ملازم بنا لیا اور اسکے ذمہ صرف ایک کام تھا کہ “Right man should not be at the right place.”۔ ان معاملات میں ڈاکٹر زک اپنے ماسٹرز کے مقاصد کی تکمیل اور پنجاب میں تعلیمی نظام کی بربادی کے کام کو انتہائی ایمانداری سے کر رہے ھیں۔
    خدا کرے کہ مقتدر سیاسی حلقے جلد سے جکد ان کے اصل سے واقفیت حاصل کر کہ ان کو چلتا کریں۔
    انکےی سوچ اور فہم سے آج تک ساری سرکاری جامعات کے لئے چنے گئے افراد کو انکی سربراہی میں لمز میں تعینات کر دیا
    جائے تاکہ انکی پالیسیوں کا تسلسل اور انکے اسرار و رموز سے لمز مستفید ھو سکے۔
    آمین۔

  2. From the article I learned so much more about ZIC. I am very impressed with the engagement and devotion of ZIC in the education sector. I could not find any connection of his as a spy of donors. What policy of ZIC has harmed the nation is not clear from the article. It looks that the author is simply jealous with ZIC. Nobody has any solution of jealousy. Try to rise to that level then talk about. It is not easy to rise but easy to be jealous. But thank you for producing such s good biography of ZIC.

    MUBARIK ALI
    EX-Member Planning Commission

  3. Why we have to borrow services of foreigners to improve our education system????????????? HOW many Pakistani are appointed directors are policy makers in america and rest of advance countries??????why these specific persons are being given nomination in each and every executive boday in education?????is there no one remain else eligible here in education sector in punjab??????its question of national integrity and patriotism too.
    This article is informative and raise in mind above mentioned questions????????
    Regards
    Muhammad waris awan sargodha

  4. akmal somroo has done a wonderful job.I fully agree to his findings.He has extremely poor research credentials. A man with very narrow thinking. His only qualification is LUMS associations has never offered him professorship.It seems as if his mission in search committees is only to select wrong persons as VC in public sector Universities.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *