مولانا سندھی: رد استعماریت اور برٹش راج

    March 10, 2020 12:15 pm PST
taleemizavia single page

اکمل سومرو

سامراج و استعمار کے خلاف لڑنے کا بہترین ہتھیار شعور ہے، جب اس شعور کی بنیادوں میں انقلابی نظریہ اور اجتماعی فکر کارفرما ہو تو استعمار کی شکست آخری منزل ٹھہرتی ہے۔ انقلابی فکر رد استعماریت، رد سامراجیت اور رد سرمایہ داریت حتیٰ کہ سماج کی غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کا قائل ہوتا ہے اور کُل قومی و ریاستی آزادی کے حاصل ہونے تک جدوجہد جاری رہتی ہے۔ خطہ ہند جب برطانیہ کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا تو اس غلامی کے خلاف انقلابی و مزاحتمی تحریکیں برپا ہوئیں۔

یہاں کے انقلابیوں نے سن ستاون کی جنگ آزادی کے بعد انگریز راج کے خاتمے کا عہد کر لیا تھا، انقلابیوں کی اس جماعت کے ایک رُکن کو تاریخ عبید اللہ سندھی کے نام سے جانتی ہے۔ 

مولانا سندھی کی سیاسی بصیرت کا خمیر شاہ ولی اللہ کے فکر سے تیار ہوا تھا، انھوں نے اپنے اس فکر کی طاقت کو انٹرنیشنل سطح پر منوایا۔ آج دس مارچ مولانا سندھی کا یوم پیدائش ہے، آپ کی وفات کے بعد ہند تقسیم ہوگیا، پاکستان کی ریاست تشکیل ہوتے ہی ایک نئے عالمی استعمار کی غلامی میں چلی گئی اور مابعد نوآبادیاتی منصوبہ بندی کے تحت بہ طور طفیلی ریاست ہماری پرورش ہوئی لہذا مولانا سندھی کے عظیم انقلابی منصوبوں اور خود مختار ریاست کے تصورات کو آج نئی نسل کے سامنے رکھنا ناگزیر ہے۔

مولانا سندھی انقلابی جدوجہد کے لیے اجتماعی فکر کی ترویج کے لیے ادارہ جاتی اپروچ پر کام کرتے رہے۔ جمعیت الانصار، نظارة المعارف ، سندھ ساگر اکیڈمی، محمد قاسم ولی اللہ تھیالوجیکل کالج، جمنا، نربدا سندھ ساگر پارٹی، تحریک ریشمی رومال، بیت الحکمت، جمعیت خدام الحکمتہ وغیرہ تشکیل دیے۔ مولانا سندھی خود اپنے مشاہدات و تجربات کو تین ادوار میں تقسیم کرتے ہیں۔ 1887ء تا 1915ء کا پہلا دور جب وہ ہندستان میں تھے۔

دوسرا 1915ء تا 1939ء، انھوں نے اپنے دوسرے دور میں یورپ کی دو تحریکوں لبرل ازم اور مکینیکل ازم کا تجزیہ پیش کیا اور تیسرا دور وطن واپسی کے بعد احاطہ کرتے ہیں۔ وہ دین اسلام کو انقلابی دین تصور کرتے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ اسلام کا واحد مقصد کسرویت اور قیصرویت کا خاتمہ ہے، یعنی استعمار کا خاتمہ ہی اس دین کا بنیادی مقصد ہے۔ انھوں نے دین کے انقلابی فکر کو پیش کیا تو مذہبی رجعت پسندوں کو بھی خطرہ ہوگیا۔ 

مولانا سندھی نے مہابھارت سرو راجیہ پارٹی کا خاکہ پیش کر کے منشور لکھا۔ ان کا لکھا ہوا سرو راجیہ منشور (شائع کردہ ستمبر1924ء ) آج چھیانوے برس بعد بھی قومی آزادی و سیاسی خود مختاری کی ایسی دستاویز ہے جسے قومی آزادی کا میگنا کارٹا کہنا بجا ہوگا۔ سرو کے معنی ہندی میں “سب کے” ہیں، اور یوں سرو راجیہ کے معنی سب کا راج قائم کرنے والی پارٹی ہے جو سب لوگوں کی رنگ، مذہب، مال و دولت کے فرق کے بغیر حکومت قائم کرے گی۔ چالیس نکات پر مشتمل اس دستاویز کی بنیاد قومی سطح پر سیاسی و اقتصادی آزادی ہے۔ مولانا سندھی ملک کے بڑے طبقوں یعنی کاشت کار، مزدور اور دماغی محنت کشوں کی جمہوری حکومت میں نمائندگی سےاس منشور کی ابتداء کرتے ہیں اور اقتصادی نظام انھیں قرض و افلاس سے بچانے کا ضامن ہو اور ملک کو ایسے خارجی قرضہ کا محتاج نہ بنائے، جس سے سیاسی آزادی سلب ہونے کا خطرہ پیدا ہوسکے۔ 

اسی منشور میں مولانا سندھی نے ایشیاٹک فیڈریشن کا تصور پیش کیا اور روس کو ایشیاٹک فیڈریشن میں شامل کر کے عالمی استعمار کی طاقت کو توڑنے کا منصوبہ دیا گیا۔ استنبول میں اس منشور کی کاپی جب ہندستان بھیجی گئی تو اسے سرکار نے ضبط کر لیا تاہم چار مہینوں بعد اس منشور کے انگریزی ترجمے کی کاپیاں خفیہ طور پر ہندستان بھیجی گئیں۔ سرو راجیہ منشور کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ علامہ اقبال کا 1930ء کا خطبہ الہ آباد مولانا سندھی کے تحریر کردہ سرو راجیہ منشور کا چربہ ہے۔ اس منشور پر آئندہ کبھی لکھیں گے۔ 

لازمی پڑھیں

عبید اللہ سندھی کی عالمی سیاسی طاقت

عبید اللہ سندھی اور یورپین ازم کا تصور

مولانا سندھی برٹش ایمپائر کا جنگی مجرم

شیخ الہند انگریز راج کیخلاف جدوجہد کا استعارہ

دار العلوم دیوبند اور برطانوی راج کیخلاف تعلیمی تحریکیں

کتب خانہ جہاں عبید اللہ سندھی مطالعہ کرتے

مولانا سندھی ہر قیمت پر انقلابی فکر کی بنیاد پر برطانوی راج سے آزادی چاہتے تھے چنانچہ انھوں نے انگریز سرکار کے خلاف ریشمی رومال کی تحریک چلائی جو یہاں کے مقامی غداروں کی وجہ سے فاش ہوئی، اس تحریک سے برطانیہ اس حد تک خوف زدہ ہوگیا کہ مکہ میں شریف مکہ کی مدد سے مولانا سندھی کے اُستاد محمود حسن (شیخ الہند) اور حسین احمد مدنی کو گرفتار کر کے جزیرہ مالٹا بھیج دیا اور 1919ء کی رولٹ کمیٹی کی رپورٹ میں سی آئی ڈی رپورٹس کی بنیاد پر منصوبہ کی تفصیلات بیان کیں، چونکہ مولانا سندھی کابل میں رہ کر برطانیہ کو ہندستان سے نکالنے کا منصوبہ بنا رہے تھے اس تحریک کا مرکزی کردار ہونے کی بناء پر برطانوی سرکار نے ان کی عدم موجودگی میں ہی انھیں پھانسی کی سزا سنا دی۔

انقلابی فکر کی طاقت کا اندازہ لگائیے کہ مولانا سندھی کے خوف میں برطانیہ نے اپنے ملک کے بااختیار فوجی ٹربیونل کے سامنے استغاثہ دائر کر دیا جس کا عنوان تھا کہ “ معظم شہنشاہ ہند، بنام عبید اللہ سندھی”۔ یہ مقدمہ بھی قابل مطالعہ ہے جس کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ 

مولانا سندھی نے اپنی ذہانت اور سیاسی دور اندیشی کی بناء پر اُس وقت کی دو بڑی طاقتوں روس اور جرمنی کی حکومتوں کے ساتھ ہندستان کی آزادی کے معاہدات کر لیے۔ افغانستان میں حکومت موقتہ قائم کر کے وزیر ہند کی حیثیت سے سوویت یونین سے ہندستانی فوج کی تربیت کرنے کا معاہدہ کیا، افغانستان کی آزادی کے لیے اگست 1919ء میں راولپنڈی میں برطانوی سرکار کے ساتھ جو معاہدہ ہوا اس کے پیچھے مولانا سندھی کی منصوبہ بندی تھی اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ذریعے سے امیر امان اللہ کی حکومت کو تسلیم کرایا، صرف یہی نہیں بلکہ سوویت یونین اور جرمنی کو سفارتی مہارت سے مجبور کیا کہ وہ افغانستان کی آزادی کو تسلیم کرے۔ برطانوی سامراج نے مولانا سندھی کو کابل سے نکالنے کے لیے افغان حکومت پر دباو ڈالا، مولانا سندھی نے سیاسی پاپندیاں عائد ہونے سے قبل ہی کابل چھوڑ کر ماسکو روانگی کی۔

شاہ ولی اللہ کی سیاسی تحریک میں مولانا سندھی واحد عالمی لیڈر تھے جن کو سیاست کے عالمی اُفق پر ایسا طُرہ امتیاز نصیب ہوا جو دُنیا کے کسی سیاسی لیڈر کو ابھی نہیں ملا، مولانا سندھی نے پگھلا دینے والی سیاسی تپش کی پرواہ کیے بغیر سیاست کے دہکتے ہوئے انگاروں پر پاوں رکھ دیا اور اس شعلوں کے سمندر کو عبور کر کے بیکنگھم پیلس کی در و دیوار ہلا کر غلام ہندستان کے غاصب شہنشاہ برطانیہ کے تاج پر ہاتھ ڈالا، اپنے اس عظیم تر مشن کے لیے انھوں نے پچیس برس کی جلاوطنی قبول کی۔ 

کابل سے ماسکو (روس) پہنچے تو لینن کی سرپرستی میں روسی انقلاب کا سورج طلوع ہوا تھا، اپنے سیاسی ویژن کی بنیاد پر روسی حکومت تک رسائی حاصل کی اور سوویت یونین کی وزارت خارجہ کی عمارت میں وزیر خارجہ چیچرن کے ساتھ صرف تین ملاقاتوں کے بعد ہی ہندستان کی آزادی کے منصوبے کو منوا لیا، برطانیہ کے خلاف جدوجہد آزادی ہند کیلئے لینن کی منظوری کے بعد ہندستانیوں کو ایک کروڑ روپے مالی مدد دینے پر روس آمادہ ہوگیا، اس معاہدے کو عملی شکل دینے کے لیے مولانا سندھی تُرکی چلے گئے اور تُرکی میں روسی قونصل خانے کے ذریعے سے اس منصوبے پر کام کرنے لگے۔ 

مولانا سندھی نے استنبول پہنچ کر روس کی معاہدے پر آمادگی کو عملی شکل دینے کے لیے کانگریسی لیڈروں سے ملاقاتیں کیں، ترکی میں حکومت تبدیل ہونے پر برطانوی سامراج نے مولانا سندھی کی سیاسی سرگرمیوں کی جاسوسی شروع کر دی گئی چنانچہ مولانا سندھی پندرہ اگست 1926ء میں حجاز چلے گئے اور پھر وہاں سے مکہ پہنچ گئے اس وقت آپ کی عمر 56 برس تھی اور اسلام قبول کیے ہوئے چالیس سال ہو چکے تھے۔ یہاں پر انھوں نے تیرہ برس تک درس و تدریس کی اور بیت اللہ کے سامنے بیٹھ کر قرآن و حدیث کی کلاس پڑھائی۔ 

مولانا سندھی کو مارچ 1939ء میں شہنشاہ ہند اور وائسرائے ہند کی اجازت کے بعد برطانوی سرکار نے اس شرط پر ہندستان واپس آنے کی اجازت دی کہ وہ عملی سیاست میں حصہ نہیں لیں گے چنانچہ کراچی بندرگاہ پر وزیر اعلیٰ سندھ اللہ بخش خان سومرو اور دیگر اکابرین نے ان کا استقبال کیا۔ اپنی واپسی کے ایک سال بعد بیت الحکمت جامعہ نگر، دہلی سے ہم کیا چاہتے ہیں؟ کے عنوان سے ایک پمفلٹ جاری کیا جس میں آزاد ہندستان کے سیاسی مستقبل کا ایک دستوری تصور پیش کیا اور مسلم لیگ کو ایک تنبیہہ بھی کی تھی، یہ دستاویز سیاست و تاریخ کے طلباء ضرور مطالعہ کریں۔

پاکستان کا قومی ذہن آج الجھن کا شکار ہے اور ریاست کے مستقبل پر سوالات اُٹھاتا ہے، مولانا سندھی کا یوم پیدائش یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس خطے کی سیاسی آزادی کے لیے اُن کے فکر کا گہرائی سے مطالعہ کریں تاکہ قوم استعماری حربوں اور جدید عہد کی غلامی سے نکل سکیں۔ 

اکمل سومرو سیاسیات میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ تاریخ اور ادب پڑھنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے ۔

Leave a Reply to muftiamjadms@gmail.com Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *