مولانا سندھی برٹش ایمپائر کا جنگی مُجرم

    November 9, 2018 11:15 am PST
taleemizavia single page

اکمل سومرو

سکھ مذہب کو چھوڑ کر اسلام قبول کرنے والا بوٹا سنگھ دُنیا کی سب سے بڑی برطانوی ایمپائر کے لیے خوف کی علامت بن گیا، اس برطانوی ایمپائر نے ہندستان سے لے کر افغانستان، روس، تُرکی اور پھر حجاز مقدس تک مولانا عبید اللہ سندھی کی کھوج لگائی۔ یہ امام شاہ ولی اللہ کے فکر کی طاقت اور شیخ الہند جیسے اُستاد کی توجہ دی تھی جس نے سندھی کو پیتل سے سونا اور خاک سیاہ سے ہیرا بنا دیا۔

برطانوی ایمپائر جس شخص کو اپنا سب سے بڑا دُشمن تصور کرتی ہے اور اپنی ایمپائر کے لیے خطرہ مانتی ہے، اُس عبید اللہ سندھی کی طاقت، سیاسی بصیرت اور عالمی اثر پذیری کو مرتے دم تک چیلنج نہیں کیا جاسکا۔ سندھی کو قدرت نے جو دیدہ بینا، چشم حقیقت نگر عطا فرمائی تھی اس کا یہ مطالبہ تھا کہ دریا میں طغیان و سیلاب کا تموّج دیکھ کر لب ساحل آنکھیں بند کیے بیٹھے رہنا اور پسر نوح کی طرح اپنے ہاتھ پاؤں پر بھروسہ کرنا قرین دانش مندی اور شیوہ مصلحت شناسی نہیں ہے، عبید اللہ سندھی نے محسوس کیا کہ جنگ عظیم اول نے دُنیا کی تہذیب و تمدن کے نقشے بدل دیے۔

ایشیاء پر یورپ کے سیاسی اقتدار کا پنجہ مضبوطی سے جم گیا ہے، نظامات کہن کی قبا پارہ پارہ ہوگئی ہے، پرانا فلسفہ، پرانی روایات اور پرانا انداز تخیل سب انقلاب کی طوفانی موجوں میں خس و خاشاک کی طرح بہتے چلے جارہا ہے۔ صرف مسلمان ہونے پر قناعت نہیں کی بلکہ سندھی نے اسلام کی اصل روح، تعلیمات میں بصیرت حاصل کی۔

امیر امان اللہ کو افغانستان میں آزاد اسلامی جمہوریہ افغانستان کا بادشاہ بنوایا، برطانوی حکومت سے معائدہ کرا کر اسے تسلیم کرایا اس معائدے پر دستخط کیے، اس معائدے یا صلح نامہ پر برطانوی نمائندے مسٹر ہمفرے نے دستخط کرتے ہوئے کہا کہ “یہ افغانستان کی فتح نہیں بلکہ مولانا عبید اللہ سندھی کی فتح ہے”۔

یہ بھی پڑھیں: عبید اللہ سندھی اور یورپین ازم کا تصور

یہ وہی عبید اللہ سندھی تھے جنہیں انگریز حکومت تحریک ریشمی رومال کا مرکزی کردار ہونے کی بناء پر تلاش کر رہی تھی جس کی عدم موجودگی میں حکومت ہند نے انھیں پھانسی کی سزا کا حکم سنایا تھا آج یہی برطانوی ایمپائر عبید اللہ سندھی کے ساتھ کابل میں معائدہ کر رہی ہے یہ مولانا سندھی کی سیاسی و جماعتی طاقت و بصیرت کا درجہ کمال تھا جو اُس وقت ہندستان کے کسی بھی لیڈر کو عالمی سطح پر یہ حیثیت میسر نہیں تھی۔

کابل میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر کی حیثیت سے حکومت موقتہ ہند قائم کی اور وزیر ہند منتخب ہوکر روس حکومت سے معائدے کیے، سندھی کی سفارتی کوششوں سے سب سے پہلے روس کی لینن حکومت نے افغانستان کی اس آزادی کو تسلیم کیا اور کابل حکومت کو روس جیسی عظیم طاقت کے برابر لا کھڑا کیا۔

ایک معائدے کی رو سے روس دس سال تک بلامعاوضہ ہندستانی افواج کو فنی تربیت دے گا پھر 1917ء سے لے کر 1919ء تک حکومت برطانیہ، روس اور تُرکی کے ساتھ جو معائدے ہوئے وزیر ہند کی حیثیت سے ان پر دستخط کیے۔

عبید اللہ سندھی فرماتے ہیں کہ ان دنوں میں کابل سیاسی باغیوں کے لیے سوئزر لینڈ بنا ہوا تھا اور یہاں پر جرمنوں کے ساتھ گہرے تعلقات بنے۔ کابل سے روس، پھر وہاں سے تُرکی اور حجاز مقدس چلے گئے۔ برطانوی ایمپائر نے سندھی کو باغی اور مجرم ڈیکلیئرڈ کر رکھا تھا چنانچہ 25 سال تک سندھی جلا وطن رہے اور ہندستان داخلے پر پاپندی عائد تھی۔ انڈین نیشنل کانگریس نے 1937ء کے الیکشن کے بعد اور لیجیسلیٹو کونسل آف انڈیا نے مولانا سندھی کی ہندستان واپسی کے لیے متعدد قرار دادیں پیش کی لیکن انگریز سندھی کی واپسی پر آمادہ نہ ہوا۔

سندھی فرماتے ہیں کہ وہ 1939ء میں اچانک جدہ چلے گئے اور بغیر کسی اطلاع کے کونسلر کے دفتر پہنچ گئے، کونسلر نے مجھے جب دیکھا تو فوراً کھڑا ہوگیا، ہاتھ ملایا اور انگریزی میں بار بار کہتا رہا آپ، آپ! میں حیران ہوں کہ آپ نہ آنے والے کیسے آگئے، میں نے اُسے جواب دیا کہ خود بھی حیران ہوں کہ ایسا سب کچھ کیسے ہوگیا، اس نے بٹھایا چائے مگنوائی، خیر و عافیت دریافت کی اور کہا کہ میرے لائق کوئی خدمت؟ آپ ہندستان جانا چاہیں گے؟

میں نے کہا کہ ہاں مگر یہ بات ممکن نہیں کیونکہ برٹش ایمپائر کا جنگی مجرم ہوں، آپ کی حکومت مجھے کیسے ہندستان واپس جانے دے گی، اس نے فون اُٹھایا اور کہا کہ میں وائسرائے ہند لنلنتھگو سے بات کرتا ہوں ان نے میرے سامنے بات کرتے ہوئے وائسرائے ہند سے کہا کہ مولانا عبید اللہ سندھی اس وقت میرے دفتر میں میرے پاس بیٹھے ہیں وہ ہندستان واپس جانا چاہتے ہیں آپ اگر اجازت دیں تو پاسپورٹ جاری کر دوں۔

اس کے جواب کے لیے چند منٹ انتظار کرنے کے لیے کہا، آدھا گھنٹے بعد گھنٹی بجی تو وہ خوش ہوگیا کہ وائسرائے ہی اس سے بول رہے تھے اس نے کہا کہ عبید اللہ سندھی ہند گورنمنٹ کے نہیں تاج برطانیہ کے مجرم ہیں اس کے لیے میں نے برطانوی بادشاہ سے بات کی ہے۔

برطانیہ کے بادشاہ جارچ ششتم جیرلڈ کیلی نے کہا کہ مولانا سندھی کی ضمانت وائسرائے ہند اگر دے دیں تو وہ ہندستان واپس آسکتے ہیں وائسرائے ہند ایسے شخص کی ضمانت دینے کے لیے ہرگز تیار نہیں جو تاج برطانیہ کا مخالف ہو، یہ سُن کر اس نے نہایت افسردگی سے فون رکھ دیا اور کہا کہ آپ نہیں جاسکتے۔

مولانا سندھی فرماتے ہیں کہ اس نے یہ پوری تفصیل بتائی تو میں نے کہا کہ ضمانت کا عمل اس طرح سے نہیں جس طرح تمہارے تاج نے بتایا ہے کہ وائسرائے ہند ضمانت دے دے، حجت تمام ہوگئی۔ اس وقت ملک ہوم رول کی حد تک آزاد ہے، لیجیسلیٹو حکومت بنی ہوئی ہے، لوگوں کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے، ہر صوبہ کی حکومت پر حکومت کے نمائندہ کی حیثیت سے گورنر ہی حکومت کی نگرانی کرتے ہیں۔

اس جمہوری عمل کی روشنی میں میری ضمانت گورنمنٹ سندھ گورنر سندھ کو دے کیونکہ یہ ایک آئینی اور منتخب حکومت ہے اس کی آئینی حیثیت ہے چونکہ میں سندھی ہوں اس لیے میرے اچھے اور بُرے کردار کے متعلق میری ہی گورنمنٹ سے پوچھا جائے گا نہ کہ وائسرائے ہند سے۔

گورنمنٹ سندھ کی ضمانت کے بعد گورنر سندھ وائسرائے ہند کو ضمانت دیں اور وائسرائے ہند ملکہ معظم کو میری ضمانت دیں۔ سندھی فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میری ضمانت سندھ حکومت ہی دے سکتی ہے کیونکہ میں باغی ہوں تو یہ سُن کر اس نے مزید تفصیل دریافت کی پھر اس نے اس وقت وائسرائے ہند کو بتایا اور وائسرائے ہند نے اسی وقت ملکہ معظم کو تفصیل بتا کر اس عمل کو جاری رکھنے کی منظوری لے کر کونسلر کو بتا دیا۔

اب کونسلر نے یہ تمام تفصیل گورنر سندھ کو بتائی اور گورنر سندھ نے اللہ بخش سومرو سے تمام باتیں کیں اور ان سے دریافت کیا کہ گورنمنٹ مولانا سندھی کی ضمانت دینے کو تیار ہے؟

وزیر اعلیٰ سندھ اللہ بخش خان سومرو یہ سُن کر بہت خوش ہوئے انھوں نے فوراً اجلاس بلایا اور اسمبلی کے اجلاس میں ضمانت کا فیصلہ ہوا اسی طرح وزیر اعلیٰ سندھ اللہ بخش سومرو نے گورنمنٹ سندھ کی طرف سے گورنر سندھ کو حضرت سندھی کی ضمانت دی اور گورنر سندھ نے وائسرائے ہند کو پھر وائسرائے ہند ملکہ معظم کو ضمانت دے کر پاسپورٹ کی منظوری لی۔

یہ تمام کام چار گھنٹے کے اندر ہوا اور اتنا عرصہ کونسلر نے مجھے اپنے پاس رکھا اور جب تک میرے ہاتھ میں پاسپورٹ نہیں دیا مجھے رُخصت نہ کیا یہ سب کچھ میرے رب کی غیر معمولی طاقت کا کرشمہ ہے کہ رب نے مجھ جیسے کمزور انسان کی آبرو کا ایک بار پھر بھرم رکھ لیا سب تعریفیں واحد لاشریک میرے رب ذوالجلال کی ہیں جو اپنے کمزور بندوں کو طاقتور بنا کر بادشاہوں کے مقابلہ میں لا کھڑا کر دیتا ہے۔

مولانا سندھی فرماتے ہیں کہ میرے پاسپورٹ کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پوری دُنیا میں پھیل گئی، مدینہ شپ اسی رات کو کراچی کے لیے حجاج کو لے کر روانہ ہونے والا تھا جب ان کو میرے پاسپورٹ کا علم ہوا تو کمپنی والے آگئے کہ آپ ہمارے شپ پر سفر کریں، میں نے انھیں بتایا کہ میرے پاس کرایہ نہیں اور بغیر کرایہ کے سفر نہیں کروں گا انھوں نے کہا کہ کرایہ ہم لیں گے ہی نہیں۔

ہم اعزازی طور پر لے جانا چاہتے ہین آخر اس کوشش میں ان کا شپ لیٹ ہوگیا پھر ہم نے اس شرط پر سفر کرنا پسند کیا کہ کراچی پہنچنے پر ہم آپ کو کرایہ ادا کر دیں گے اور وہ آپ ہر صورت لیں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ جو لوگ میرے ساتھ مکہ میں تھے اُن کے لیے پاسپورٹ کا بندوبست کیا اس کے بعد مولوی احمد علی لاہوری، مولانا حسین احمد مدنی دار العلوم دیوبند، بیگم صاحبہ سیٹھ عبد اللہ ہارون کراچی، مولانا صادق محمد کھڈہ کراچی اور دین پور شریف اپنی بیٹی کو خط لکھے۔ 20 مارچ 1939ء کو جدہ سے روانہ ہوئے اور 29 مارچ کو کراچی بندر گاہ پر جہاز لنگر انداز ہوا۔

بندرگاہ کے پلیٹ فارم پر خان بہادر اللہ بخش خان سومرو وزیر اعلیٰ سندھ اپنے چند افسروں کے ساتھ موجود تھے، انھوں نے حضرت لاہوری کو پلیٹ فارم پر آنے کے لیے بلوایا، اتنے میں جہاز سے اعلان ہوا کہ حجاج کرام اُترنے کے لیے جلدی نہ کریں مولانا عبید اللہ سندھی سب سے پہلے اُتریں گے جب وہ اُتر جائین گے تو ہم سیڑھیاں لگا دیں گے پھر آپ اُتر جانا۔

اتنے میں ایک فوجی جیپ آئی اور سیڑھی ہی کے قریب ایک گورا فوج کے جرنیل کو چھوڑ گئی، چند منٹ بعد وہی جیپ آئی اور انھیں لے گئی اتنے میں حضرت سندھی سیڑھیوں پر نمودار ہوئے، ایک اور فوجی جیپ آئی، ڈھیر سارے میڈلز پہنے فوجی جرنل اُترا سیڑھی کے سامنے کھڑا ہوگیا، حضرت سندھی کے ہاتھ میں پاسپورٹ تھا، قریب آئے تو جنرل نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا، سندھی نے اپنا پاسپورٹ سے دے دیا خود رُک گئے، اس نے پاسپورٹ دیکھا چند کاغذات اس کے ساتھ ملائے پھر حضرت سندھی سے دستخط لیے اور پاسپورٹ بند کر دیا۔

وہ چند قدم پیچھے ہٹ کر پھر آگے قدم بڑھا کو مولانا سندھی کو سیلوٹ کیا اور چلا گیا۔ مولانا سندھی سب سے پہلے اللہ بخش سومرو سے ملے انھیں بوسے دیے۔ مولانا صادق محمد، احمد علی لاہوری سے ہاتھ ملایا پھر پبلک نے حضرت کو کاندھوں پر اُٹھا لیا، خاکسار تحریک، مجلس احرار، آل انڈیا نیشنل کانگریس اور مسلم لیگ اور نیلی پوش کے رضا کاروں نے باری باری سلامی دی۔


akmal-dawn

اکمل سومرو سیاسیات میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ تاریخ اور ادب پڑھنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔وہ لاہور کے مقامی ٹی وی چینل کے ساتھ وابستہ ہیں۔

  1. Allah pak hazrat sindhi ke darjaat buland kreiy or hmein hazrat ke mission pe kaam krne ke himat ata fermye

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *