عبید اللہ سندھی اور یورپین ازم کا تصور

    March 10, 2018 12:15 pm PST
taleemizavia single page

اکمل سومرو

دس مارچ 1872ء کو سکھ گھرانے سے جنم لینے والا بوٹا سنگھ پندرہ سال کی عمر میں اسلام قبول کرتا ہے تو دُنیا اسے عبید اللہ سندھی کے نام سے اب تاریخ میں یاد رکھتی ہے۔ مولانا عبید اللہ سندھی غیر معمولی صلاحیتوں، عزم، ہمت اور سیاسی ذہن رکھتے تھے۔ برصغیر میں انگریزوں کا تسلط، مسلمانوں کی سماجی پستی اور اس خطے کے معاشی استحصال کا یہ وہ دور تھا جس کے خلاف مولانا سندھی کی آواز ایک انقلابی آواز تھی۔

دار العلوم دیوبند سے مولانا شیخ الہند محمود حسن کی شاگردی، انگریزی حکومت کے خلاف تحریک ریشمی رومال کی منصوبہ بندی، آزاد ہندوستان کے لیے سروراجیہ منشور کی تشکیل اور پھر انگریز کے خلاف مزاحمت کے بدلے 25 سال تک کی جلاوطنی نے مولانا سندھی کی دور اندیشی کو مستحکم کیا۔

دس مارچ مولانا سندھی کا یوم پیدائش ہے، پاکستان میں نظریاتی کشمکش، ذہنی و فکری اضطراب کے پیش نظر میں صرف عبید اللہ سندھی کے نزدیک یورپین ازم کا تصور، تعلیمی اداروں کا کردار، غریب کسان و ہاری کی معاشی حالت کے تناظر میں اُن کی تحریروں، تقاریر کا اقتباس ملاحظہ کر رہا ہوں؛

ہمارے اس مقولہ کا “پہلے یورپین بنو” اصل مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے اندر جنگی طاقت اور حربی قوت پیدا کریں۔ شاہ ولی اللہ اپنی کتاب “خیر کثیر” میں لکھتے ہیں کہ حکومت چلانے کی استعداد مسلمانان ہند سے افغانوں کی طرف منتقل ہوگئی ہے۔ اگر ہندوستانی قومیں انگریزی فوج میں ملازمت کر کے یورپین طریقہ پر سپاہی بننا سیکھیں گی تو ان کے لیے ہندوستان کی آئندہ حکومت کو سنبھالنا ممکن ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ میں ہزارہا اختلافات کے باوجود سر سکندر حیات خان وزیر اعظم پنجاب کی ہمیشہ تائید کرتا ہوں کہ وہ میری قوم کو فوج میں بھیجنے کا حامی ہے۔ سو میں نوے افراد جنگ میں مر سکتے ہیں مگر دس جو واپس آئیں گے وہ ہمارا اصلی سرمایہ ہوگا۔ اس لیے ہم تعلیم یافتہ طبقہ کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ یورپین طریقے پر فنون حرب سیکھیں” ۔

یہ خطہ زرعی معیشت رہا ہے اور اس کے معاشی سرکل میں کاشتکاروں، کسان کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ مولانا سندھی نے مستقبل کا نقشہ یوں کھینچا؛

مستقبل میں جب ہندوستان کو ڈومینین اسٹیٹس مل جائے گا تو اس وقت وہ اپنے کاشتکاروں کو فوجی تعلیم دے سکیں گے، اس کے لیے کاشتکاروں کو بھی یورپین بنانا پڑے گا۔ اگر قومی زندگی میں کاشتکاروں کی اہمیت کا انکار کیا گیا تو ان کا وجود ہی بیکار ہو جائے گا۔ اس لیے ہم اپنی قوم سے وہ لعنت کے جراثیم جو مسجدوں اور خانقاہوں سے پھیلتے ہیں اور قوم کو نامردی سیکھانے کا نام انہوں نے اسلام رکھا ہوا ہے، مذکورہ وقت آنے سے پہلے ختم کر دینا چاہتے ہیں” ۔

آج ہم انگریزی زبان کو حروف تہجی میں استعمال کرنا سیکھ رہے ہیں لیکن مولانا سندھی نے سو سال قبل اُردو اور سندھی زبان کو رومن انگریزی میں لکھنے کی تلقین کی تھی تاکہ ابلاغ سیکھی جاسکے، وہ کہتے ہیں کہ؛

ہم عام لوگوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنی مادری زبانیں انگریزی حروف تہجی میں لکھنا پڑھنا شروع کر دیں، اپنے خاندان کے کسی فرد کو وہ عورت ہو یا مرد ایسا نہ چھوڑیں کہ وہ اپنی زبان یورپین حروف میں نہ لکھ سکتا ہو۔ اس کے بعد اس کو ترکوں کی طرح زندگی بسر کرنا سکھانا چاہیے۔ ترکوں میں بھی اسی طرح بے ایمان لوگ موجود ہیں جیسے ہمارے یہاں ہیں مگر ترکی قوم کے ایمان میں مجموعی طور پر جسے شبہ ہو سکتا ہے وہ احمق ہے۔ اب ترکوں نے اپنا قومی طریقہ یورپین ازم بنا لیا ہے”۔

مولانا سندھی ایک جگہ لکھتے ہیں کہ؛

ہم اس مسلم قوم کے ترقی یافتہ نمونے پر اپنی قوم کو تیار کرنا چاہتے ہیں لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ ان حقائق سے ہمارے بڑے بڑے عالم نا واقف ہیں۔ اس وقت ان کو واقف کرانے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کو نہایت نرم زبان میں یہ باتیں سمجھا دی جائیں گی مگر ہماری قوم میں ایہ ضدی عنصر بھی موجود ہے وہ مسلمانوں کی ہر تباہی کو قبول کر سکتا ہے مگر اپنے پرانے طرز میں کسی تبدیلی کا روادار نہیں ہوسکتا۔ ہم انہیں منہ نہیں لگاتے اور جب موقع ملے گا ہم انہیں ختم کر دیں گے۔ یہ کہہ کر میں صرف اپنی ذہنیت کی ترجمانی نہیں کر رہا۔ مجھے معلوم ہے کہ ہندوستان میں انقلاب آئے گا۔ میں اصل میں اس انقلابی جماعت کی ترجمانی کر رہا ہوں ۔ میں نے روس میں اور ترکی میں انقلابی جماعتوں کا کافی تجربہ کیا ہے وہ سب کے سب ایک ہی مسلک پر چل رہے ہیں ان کی زبانیں مختلف ہیں ان کے مذاہب مختلف ہیں مگر معاشرت کا طریقہ سب میں مشترک ہے”۔

یورپین تہذیب و ثقافت اور رسم و رواج پر بھی مولانا نے ایک منفرد نقطء نظر پیش کیا اور وہ اس تہذیب پر تنقید یوں کرتے ہیں؛

ہمارے ہاں کے سمجھ دار طبقے کو ہماری طرح جب تک کہ ہم ہندوستان میں تھے یہاں ایک شبہ دامن گیر ہوتا ہے اور وہ یہ کہ انگریزی کالجوں اور انگریزی دفاتر سے ہمارا نوجوان سوائے یورپین فیشن کے اور کچھ نہیں سیکھتا۔ اس سمجھ دار طبقے نے دیکھا ہے کہ یہ نوجوان ملازمت سے روپیہ کماتا ہے اور اپنی ضرورتیں اس قدر بڑھاتا ہے کہ باپ دادا کا اندوختہ اس فیشن پرستی کی نذر کر کے ختم کر دیتا ہے۔ پھر نزاکت، بزدلی اور نامردی کا پورا پورا نمونہ بن جاتا ہے۔ اور دن رات اس رٹ میں لگا رہتا ہے کہ یورپین بنے بغیر انسان انسان نہیں کہلا سکتا۔ ہمیں خود اس گروہ سے اپنی زندگی میں کافی واسطہ پڑتا رہا ہے ہم اپنی پرانی ہندوستانی زندگی میں اس سے متنفر رہے اور اپنی قوم کو اس یورپ زدگی سے بچانے کیلئے کوششیں کرنا اپنا فرض جانتے تھے”۔

مولانا سندھی بنیادی طور پر سائنسی طرز فکر کی بنیاد پر سیاسی تصورات پیش کرتے ہیں، اُنہوں نے امام شاہ ولی اللہ دہلوی کے فکر کو اپنا اثاثہ سمجھا اور اس فکر سے وابستہ اکابرین کو اپنے لیے نجات دہندہ سمجھا۔ وہ سماج کی اقتصادی طاقت کا مرکز کسان و کاشتکار سے تصور کرتے ہیں؛ گویا وہ کہتے ہیں کہ

اب ہماری ذہنیت یہ بن چکی ہے کہ ہم ان نازک اندام افراد کے بجائے اپنے کاشتکاروں کو یورپین بنائیں ۔ ہمارا یورپین ازم کا پہلا تجربہ غلط اور غیر مفید ثابت ہوا۔ ہم اپنی قوم کے کارکن عنصر کو جو ہمارے ملکوں سے زیادہ تر کاشتکار ہے، اقتصادی مصیبتوں میں گرفتار دیکھتے ہیں ۔ اسے ان مصائب سے نجات دلانا قوم کی ہستی کے لیے ضروری ہےاور اس کی نجات کا اور کوئی ذریعہ نہیں سوائے اس کے یہ عنصر اپنی اصلاح کےلیے اٹھ کھڑا ہو۔ مگر اس اصلاح کے لیے اسے تعلیم دینا ضروری ہے۔ سرمایہ دار حکومت نے تعلیم قوم کے چند افراد کیلئے مخصوص کر رکھی ہے اور یہ ناممکن ہے کہ ہم اپنے کاشتکاروں کو کالج کے گریجویٹ بنا سکیں ۔ مگر یورپ کے طریقے پر کاشتکاروں کو تعلیم یافتہ بنایا جا سکتا ہے”۔

مولانا سندھی نظام تعلیم و تربیت پر انتہائی جامع تصور پیش کرتے ہیں وہ اس بات کے قائل تھے کہ انسان کے سیکھنے کی صلاحیت اس کی مادری زبان میں پنہاں ہے اور مادری زبان میں تعلیم اس میں نکھار پیدا کرتی ہے۔ اس نظام سے متعلق مولانا سندھی ایک مستقل نظریہ رکھتے تھے۔ پاکستان کے موجودہ تعلیمی نظام کی ابتر صورتحال کے پیش نظر ذیل میں اُن کا تصور پیش کیا جارہا ہے؛

سب سے پہلے انہیں اپنی مادری زبان میں لکھنا پڑھنا سیکھنا چاہیے۔ اس کے لیے ہمارا عربی رسم الخط ایک قوی مانع ہے۔ ایک ایسے انسان کو جو 24 گھنٹے کام میں مصروف رہتا ہے یہ خط سکھانا جو ایک ایک حرف کی کئی شکلیں پیش کرتا ہے، سیکھنے اور سیکھانے والے دونوں کے لیے بے حد دشوار ہے۔ اس کے برعکس رومن حروف جو علیحدہ علیحدہ لکھے جاتے ہیں ان کی ایک دفعہ حرف شناسی ہو جائے تو پھر ساری عمر کے لیے انسان فارغ ہوجاتا ہے۔ ہم ٹائپ رائٹر مشین کے ذریعہ اپنے بچوں کو چند گھنٹوں میں اپنی مادری زبان میں لکھنا پڑھنا سکھا سکتے ہیں ۔ سپاہی بننے کے لیے اتنی ہی تعلیم ضروری ہے اس تعلیم پر وہ مصارف بھی عائد نہیں ہوتے جو کالج میں گریجویٹ بننے پر آتے ہیں اور نہ انسان فیشن پرستی کا شکار ہو کر نزاکت اور بزدلی کا نشانہ بن سکتا ہے۔

جس وقت ہم اپنی مادری زبان میں لکھنا پڑھنا سیکھ گئے تو ہر زبان کے لیے ایک مرکزی پریس تعلیم دینے کے لیے کافی ہے۔ اس سے ماہوار رسالے نکلیں گے، ہفتہ وار پرچے ہوں گے، روزنامچے ہوں گے اور ہر شخص اپنی زبان میں گھر بیٹھے پڑھ سکے گا۔قوموں کو اس طرح تعلیم دینے کی سہولت جس طرح اس عہد میں موجود ہے۔ پہلے زمانے میں کسی کے خیال میں بھی نہیں تھی اس لیے اس سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہیے۔

مذکورہ بالا دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد میرا اپنا ذاتی دوسرا پروگرام بھی ہے میں کم از کم قرآن عظیم کی چالیس صورتوں کی تفسیر کر کے اس کو قوم کی مادری زبان میں پریس کے ذریعے ان کے گھروں میں پینچا دوں گا اس کے بعد ان کو کوئی دجال دین سے بھٹکا نہ سکے گا۔ سوائے ان لوگوں کے جو دجالیت پر مطبوع ہوئے ہوں۔ میری زندگی کا آخری مقصد یہی آخری چیز ہے”۔

عبید اللہ سندھی کہتے ہیں کہ؛

مگر یہ اس پہلی تعلیم پر موقوف ہے اسی لیے میں اس پر زور دیتا ہوں اب اس سے بہتر کوئی اور پروگرام ہو تو میرے مخاطب اسے میرے سامنے لائیں میں اس کو مان لوں گا۔

مسلم لیگ کے اراکین کی اسکیمیں جو ساری عمر انگریزی دفتروں میں کام کرتے رہے یا کسی عالم کی تجاویز جو سلف کے طریقے کا تو ماہر ہے مگر اس یورپ کا ایک حرف نہیں جانتا۔ جس نے تمام اسلامی سلطنتوں کو ہضم کر لیا ہے۔ الغرض ان لوگوں کی اسکیمیں اور تجاویز جو خالد بن ولید اور فاروق اعظم کا نام لیکر پیش کی جاتی ہیں میں نہیں سننا چاہتا۔ فاروق اعظم کو سمجھنے کے لیے کم از کم شاہ ولی اللہ کی حکمت کا سمجھنا ضروری ہے۔ اگر کوئی ان کی حکمت کا ایک صفحہ غور سے پڑھے گا تو وہ یورپ کو سب سے پہلے دیکھے گا یہ سلف کا نام لینے والے بیچارے عموماً حقیقت سے بے خبر ہیں” ۔

مولانا عبید اللہ سندھی اپنے روحانی اُستاد امام شاہ ولی اللہ کے فکر و فلسفہ کی بنیاد پر انسانیت کے مفاد عامہ کا تصور پیش کرتے ہیں، وہ انسانیت کی تقسیم کے خلاف ہیں اور مسلمان کو اس تقسیم کے خاتمہ کے لیے متحرک انسان کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ؛

ہم اپنے تعلیم یافتہ نوجوان میں قرآن حکیم کے ارشاد کے مطابق انسانیت کی اصلاح کے لیے قربانی کا جذبہ نہایت آسانی سے پیدا کر سکتے ہیں ۔ قرآن عظیم کا یہ مقصد معین کرنے میں امام شاہ ولی اللہ ہماری نظر میں منفرد ہے۔ اس لیے ہم ان کے سواء کسی کی تفسیر کو قبول نہیں کر سکتے ۔ ہم جس طرح اپنے نوجوانوں کو قرآن عظیم کی تعلیم کی مدد سے اس مقصد عالی کہ طرف لے آئے ہیں ۔ اسی طرح اگر ہندو تعلیم یافتہ نوجوان ہم پر اعتماد کرے تو ہم اس کو ولی اللہ فلاسفی پڑھا کر بھگوت گیتا کی تعلیم کے ذریعے اسی مقصد پر لے آئیں گے۔ یہی طرز ہمارا بائبل ماننے والی اقوام کے ساتھ رہے گا۔ ہم ولی اللہ فلاسفی پر بائبل پڑھا کر ان کو بھی انسانیت عامہ کے مفاد پر جمع کر دیں گے”۔


akmal-dawn

اکمل سومرو سیاسیات میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ تاریخ اور ادب پڑھنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔وہ لاہور کے مقامی ٹی وی چینل کے ساتھ وابستہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *