کتب خانہ جہاں عبید اللہ سندھی کتابیں مطالعہ کرتے

    March 10, 2019 1:54 am PST
taleemizavia single page

آمنہ مسعود

یہاں 1872ء میں ایک ’’حیدرآباد جنرل لائبریری‘‘یورپی اور اینگلو انڈین لوگوں کے لیے قائم کی گئی تھی۔ اس کے اخراجات میونسپلٹی کی امداد اور چندوں سے پورے کیے جاتے تھے۔ میونسپلٹی120 روپیہ کے علاوہ سولہ روپیہ مٹی کے تیل کے لیے بھی دیتی تھی۔ 1920ء میں یہاں جملہ مضامین کی تقریباً سات ہزار کتابیں تھیں۔ لائبریری سے متعلق ایک دارالمطالعہ بھی تھا۔

’’نیٹو جنرل لائبریری ‘‘ حیدرآباد میں 1888ء میں قائم ہوئی تھی۔ اس کو 1920ء میں وکٹوریہ جنرل لائبریری کہا جاتا تھا۔ اس کے ذخائر کے متعلق یہ بیان کیاگیا ہے کہ یہاں مختلف مضامین کی 1400 کتابیں تھیں جن میں سندھی، فارسی اور سنسکرت زبانوں کی کتابیں شامل تھیں۔ ایک دارالمطالعہ بھی تھا۔ اسے میونسپلٹی سے چار سو بیس روپیہ سالانہ کی امداد کے علاوہ پچاس روپیہ مٹی کے تیل کے لیے بھی ملتے تھے۔

حیدرآباد میں جو کتب خانے قائم ہوئے ان میں کتب خانہ ’’شمس العلما مرزا قلیج بیگ‘‘ کی بھی تعریف کی گئی ہے۔

اس میں عربی، فارسی، ترکی اور سندھی کتابوں کے ذخائر موجود ہیں۔ ضلع حیدرآباد کے قصبہ پیر جھنڈا میں ’’کتب خانہ پیر رشد اللہ راشدی‘‘ کو قابل دیدکہا جاتا ہے۔ پیر صاحب کے متعلق لکھا ہے کہ ’’انہوں نے اس کتب خانہ پر بے پناہ روپیہ خرچ کیا۔ لندن کی لائبریری انڈیا آفس سے کتابوں کی فوٹو کاپیاں منگوائیں، ترکی اور مصر کے کتب خانوں سے نایاب کتابوں کی نقل اپنے خرچ پر کاتب بھیج کر کرائیں۔‘‘

مولانا عبیداللہ سندھی نے بھی اس کتب خانے سے استفادہ کیا تھا۔ وہ تحریر فرماتے ہیں کہ ’’پیر صاحب کے پاس علومِ دینیہ کا بے نظیر کتب خانہ تھا۔ میں دورانِ مطالعہ وہاں جاتا رہا اور کتابیں مستعار بھی لاتا رہا۔ میری تکمیلِ مطالعہ میں اس کتب خانہ کے فیض کو بڑا دخل تھا۔‘‘

ان کے علاوہ اور بھی کتب خانوں کا ذکر ملتا ہے۔ مثلاً ’’کتب خانہ لواری شریف‘‘ ضلع حیدرآباد میں ہے۔ اس ضلع کے قصبات ٹنڈو سائیذاد میں ’’کتب خانہ خواجہ محمد حسین فاروقی مجددی‘‘ ٹنڈو میر نور محمد میں ’’کتب خانہ میر نور محمد‘‘مٹیاری میں ’’کتب خانہ پیر غلام محمد سرہندی‘‘ ہالا میں ’’کتب خانہ مخدوم مولانا غلام حیدر‘‘ ہیں۔ ان میں مخطوطات، نوادرات اور مطبوعات کے عمدہ ذخائر جمع ہیں۔

( ’’اسلامی کتب خانے‘‘ محمد زبیر (علی گڑھ) کی کتاب ہے جس میں انہوں نے حیدرآباد (سندھ) کے کتب خانوں کا ذکر بھی کیا ہے۔ یہ سطور اسی کتاب سے لی گئی ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *