عبید اللہ سندھی کی عالمی سیاسی طاقت

    March 10, 2019 1:46 am PST
taleemizavia single page

اکمل سومرو

کالونیل عہد میں برٹش راج کے خلاف تحریکیں چلانا اور عوامی سطح پر غلامی کے مقابلے پر آزادی کا تصور پیش کرنا دیوبند کا انیسویں صدی کا سب سے بڑا کارنامہ ہے اسی دیوبند کے پہلے شاگرد محمود الحسن اور پھر ان کے شاگرد عبید اللہ سندھی نے اس خطے کی آزادی کیلئے اُس وقت جامع منصوبے پر کام کیا جب کانگرس اور آل انڈیا مسلم لیگ کو اپنی شناخت کی تلاش تھی۔

سکھ مذہب چھوڑ کر دین اسلام میں داخل ہوکر افکار وللہی اللہ کا جانشین بننے کے بعد عبید اللہ سندھی نے انٹرنیشنل سطح پر اپنی سیاسی طاقت کا اظہار کیا۔ کابل، ماسکو، استنبول اور پھر مکہ میں رہ کر برٹش راج کے خلاف مزاحمت پیدا کی اور ایسے معاہدات کرائے جس نے ہندستان کی آزادی کی بنیادیں رکھ دی۔ آج عبید اللہ سندھی کا یوم پیدائش ہے، یہ یقیناً تجدید عہد کا دن ہے اُس سسٹم کے خلاف جس نے مابعد نوآبادیاتی عہد میں بھی ہمیں استعماری غلامی میں جکڑ رکھا ہے۔

عبید اللہ سندھی کا اپنے اُستاد کے حکم پر ہندستان چھوڑ کر کابل جانا اُستاد شاگرد کے عظیم ترین رشتے اور دینی بنیادوں پر مقصد حیات کی وہ مثال ہے جو ہمیں قرون اولیٰ کے دور میں لے جاتی ہے۔ یہ شاگردی دراصل انسانیت کی خدمت کی اساس پر تھی جس کا مقصد انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکالنا مقصود تھا۔ ذیل میں وہ چند معاہدات پیش کیے جارہے ہیں جو مولانا سندھی نے افغان حکومت اور روس کی حکومت کے ساتھ کیے جس کے باعث ان دونوں ممالک کو انگریز استعمار سے نجات ملی۔ ذیل میں کچھ خاکے پیش کیے جارہے ہیں جس کا مقصد مولانا سندھی کی عالمی حیثیت کی پہچان کرانا ہے.

مشن کابل

کابل داخل ہونے پر مولانا سندھی کو معلوم ہوا کہ شیخ الہند محمود حسن کے کتنے شاگرد اور پیروکار افغانستان میں موجود ہیں حتیٰ کہ افغان حکومت تک اُن کی رسائی تھی یہی وجہ تھی کہ مولانا سندھی کے امیر حبیب اللہ خان کے بیٹے سردار عنائیت اللہ خان سے قریبی مراسم ہوگئے اور مولانا سندھی کو یہ جان کی حیرانی ہوئی کہ افغان جسٹس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ قاضی عبد الرزاق خان کو مولانا سندھی کے مشن سے متعلق تمام معلومات تھیں. جس کے بعد پرنس سردار عنائیت اللہ خان اور قاضی عبد الرزاق خان کے ذریعے سے مولانا سندھی کی نائب السطنت (وزیر اعظم) امیر نصر اللہ خان سے ملاقات ہوئی.

افغانستان کو انگریزوں‌ کے خلاف جنگ لڑنے پر مولانا سندھی نے آمادہ کیا تھا اور امیر حبیب اللہ کے قتل کے بعد امیر امان اللہ خان نے اس قتل کا بدلہ لینے اور انگریزوں سے افغانستان کے استقلال حاصل کرنے کا وعدہ کیا تھا. افغان سپہ سالار جنرل نار خان کے ساتھ مولانا سندھی کے قریبی مراسم تھے جس کا تذکرہ آگے چل کر کریں گے لیکن مولانا سندھی نے افغان حکومت کے ذریعے سے انگریزوں پر ہندستان میں حملے کا جو منصوبہ تیار کیا تھا اس کا اندازہ اس اعلان سے بخوبی کیا جا سکتا ہے.

مولانا سندھی نے بحثیت وزیر داخلہ حکومت موقتہ ہند امیر امان اللہ خان سے وہی معاہدہ کیا جو ان کے والد سے کیا تھا۔ معاہدے کے تحت افغانستان کے ذریعے سے انگریز راج کے خلاف جنگ لڑنا تھی مولانا سندھی کابل کے چھاپہ خانہ میں جاکر ہندستانیوں کے نام مندرجہ ذیل اعلان اُردو اور انگریزی میں چھپوایا۔ اعلان کا متن ملاحظہ کیجئے؛

:Brave Indians! Courageous Countrymen

You have read the account of the organisation of Provisional Government of India. It has Mahindra Paratap as its president, Mr. Barakat Ullah (of Ghadar Party) as its Prime Minister and M.Ubeidullah as its Administrative Minister. Its object is to liberate India from the iron clutches of the treacherous English and to establish indigenous government here

This government of yours heard with most pleasure, the news of your gallant deeds done for the noble cause of liberty. You have no arms to extirpate the enemies of India and mankind. This government of yours has tried and succeeded in obtaining help from without. Our government has assured itself and made agreements as to your full freedom with the allied invading powers

Fight against English wherever you find them, cut the telegraph lines, destroy the railway lines, and the railway bridges and help in all respects the liberating armies. None shall be molested but shall resist. Your properties and your homes are safe

اس اعلان میں افغانستان کا نام جان بوجھ کر نہیں لکھا گیا تھا کیونکہ ابھی تک افغان حکومت نے باقاعدہ طور پر انگریزوں کے خلاف اعلان جنگ نہ کیا تھا اور وہ انگریزوں کو اپنے ارادے سے بے خبر رکھنا چاہتی تھی۔ وہ ان کو بھڑکا کر اپنی جنگی تدبیروں کو ناکام نہیں بنانا چاہتی تھی۔ افغانی حکومت اور مولانا عبید اللہ سندھی کے درمیان یہ قرار پایا کہ افغانی فوجیں سرحدوں کی طرف روانہ ہوں اور وہاں پہنچ کر مورچہ بندی کریں۔

یہ بھی پڑھیں:

عبید اللہ سندھی اور یورپین ازم کا تصور
مولانا سندھی برٹش ایمپائر کا جنگی مُجرم
شیخ الہند انگریز راج کیخلاف جدوجہد کا استعارہ
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی برطانوی سامراج کیخلاف مزاحمت

اس عرصہ میں مولانا سندھی ان اعلانات کو ہندستان کے مسلمان لیڈروں کو بھیج کر ان کو افغانی فوجوں کے ارادوں سے باخبر کریں تاکہ ہندستان میں کوئی شخص ان فوجوں کا مقابلہ نہ کرے۔ یہ فوجیں بھی جب تک ہندستانی مسلمانوں کو اس پیغام کے پہنچنے کے بارے میں کابل میں پوری خبر نہ آجائے اس وقت تک انگریزوں پر حملہ نہ کریں۔ ان اعلانات کو خفیہ طور پر ہندستان میں مختلف لوگوں کو بھیجنے کے لیے مولانا سندھی کے بھتیجے محمد علی اور اللہ نواز خان ہندستان روانہ کیے گئے یہ دونوں اپنے فرائض کو پوری طرح ادا کرکے ایک ماہ کے بعد بخیر کابل پہنچ گئے۔ یہ سب کچھ اُس وقت کیا گیا جب جلیانوالہ باغ میں انگریز کی جانب سے ہندستانیوں کا قتل عام کیا گیا۔

انگریزوں‌ کے خلاف افغان جنگ کا اختتام 8 اگست 1919ء کو راولپنڈی میں صلح نامہ پر ہوا. پانچ شقوں پر مشتمل اس معاہدے میں افغانستان کی آزادی کو تسلیم کیا گیا، برٹش حکومت نے افغانستان کے لیے ہندستان کے راستے اسلحہ فراہمی کے معاہدے سے دستبرداری کی، امیر امان اللہ کی سبسڈی کو ختم کر دیا گیا جو کہ ماہانہ 18 ہزار روپے مقرر تھی. راولپنڈی میں ہونے والے اس معاہدے پر سیکرٹری خارجہ حکومت ہند اور برطانیہ کی طرف سے امن وفد کے سربراہ اے ایچ گرانٹ جبکہ افغان حکومت علی احمد خان نے معاہدے پر دستخط کیے.

اس معاہدے کی توثیق 22 نومبر 1921ء کے معاہدے میں کی گئی، چودہ شقوں پر مشتمل اس معاہدے کی شق نمبر چار میں برٹش حکومت آمادہ ہوئی کہ افغانستان کے تین قونصلیٹ ہندستان کھولے جائیں گے یہ قونصلیٹ کلکتہ، کراچی اور بمبئی میں ہوں گے. اس معاہدے سے متعلق برطانوی سفیر Francis Humphrys نے کہا تھا کہ یہ افغانستان کی فتح نہیں بلکہ مولانا عبید اللہ سندھی کی فتح ہے. مولانا سندھی اپنی خود نوشت میں‌ لکھتے ہیں‌ کہ میں‌نے حکومت افغانستان کے توسط سے حکومت برطانیہ کے نائب سے معاہدہ کیا تھا کہ برطانیہ ہندستان کو آئندہ دس سالوں میں میں داخلی آزادی دیں گے. مولانا سندھی اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں کہ افغانستان ہندستانی قوم کے ساتھ مل کر آزادی کی جنگ لڑنے کے لیے تیار ہوا تو ہم نے دیکھا افغانستان میں اُس حکومت کا خاتمہ ہوگیا جس نے برطانیہ کے ساتھ معاہدہ کیا تھا.

مولانا سندھی نے افغانستان کے روس حکومت کے ساتھ معاہدات کرائے جس میں ستمبر 1920ء کا معاہدہ قابل ذکر ہے اس سے قبل امیر امان اللہ کی جانب سے لینن کے نام خطوط بھی لکھے گئے تھے ان میں سے ایک خط کا متن ملاحظہ کیجئے؛

Afghanistan had for a long time been deprived of normal relations with other countries, Now the Ambassador Extraordinary General Muhammad Wali Khan was going to Russia(and then to Europe) with a special mission to establish good neighborly and sincere relations between two great states, and prepare the ground for ensuring mutual interests

پھر مولانا سندھی نے وزیر ہند کی حیثیت سے براہ راست سوویت یونین سے معاہدہ کیا جس کے تحت دس سال تک بلامعاوضہ ہندستانی افواج کو فنی تربیت بھی دینا شامل تھی.

روس نے حکومت موقتہ ہند کے ذریعے سے کابل کے انقلابیوں سے رابطے قائم کیے اور پھر ان کے ذریعے سے ہندستان میں رابطے ہوئے اور اسلامیہ کالج لاہور کے شعبہ معاشیات کے سابق پروفیسر غلام حسین کے ذریعے سے 1922ء میں روزنامہ انقلاب کا اجراء کیا گیا. اسی طرح حکومت موقتہ کے ذریعے سے مولانا سندھی نے امیر امان اللہ کے دستخط شدہ خطوط ہندستان بھی ارسال کیے. شملہ میں ایک خط برٹس گورنمنٹ تک پہنچ گیا جس میں برٹش حکومت کے خلاف نفرت کا اظہار تھا، یہ خط ملاحظہ کیجئیے؛

The people of India, Hindus and Muslims alike, have loyally served the British Government in the past; but, alas! Their only reward has been tyranny, oppression and religious intolerance. The latest news which has reached Amir Amanullah is such as to make a man shed tears of sorrow and calls forth expression of contempt and hatred. No Indian is any longer master of his own property. Three men cannot assemble in one place. Mussalmans cannot go to their mosques, nor Hindus to their temples. Although the internal a airs of India are no concern of his Majesty, nevertheless he considers that the un‐rest and revolution in India are �justified

مشن روس

مولانا سندھی افغانستان سے جب روس پہنچے تو اس وقت وہ حکومت موقتہ ہند کے وزیر تھے اور آل انڈیا نیشنل کانگریس کمیٹی کے صدر بھی تھے جب کابل میں تھے تو انہی اعزازات کے ساتھ انھوں نے زار روس کو سونے کی پتری کے نام سے ایک کندہ شدہ مراسلہ بھیجا جس میں یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ انگریز اس کا دشمن ہے اس سے معاہدہ توڑ کر حکومت موقتہ ہند سے معاہدہ کریں کیونکہ برطانیہ نے معاہدے کی رو سے اس وقت تک حکومت روس کو اسلحہ کی پہلی کھیپ بھی نہیں بھیجی۔ مولانا سندھی نے یہ مراسلہ متھرا سنگھ اور شیخ خوشی محمد روس گئے تھے۔

روسی ترکستان پہنچ کر ان کو ترکستان کے روسی گورنر نے تاشقند میں باریابی دی اور ان سے حکومت موقتہ ہند کا وہ نامہ جو ایک سونے کی پتری پر کھدا ہوا تھا لیا اور اس کو سینٹ پیٹربرگ کے پایہ تخت روس میں زار کو بھیجا اور جواب کے انتظار میں وفد کو تاشقند میں ٹھہرایا۔ زار روس نے برطانوی وفاداری کا ثبوت دینے کے لیے وہ خط انگریزوں کو دکھلا دیا اور ان کو جرمنی سے علیحدہ صلح کرنے کی دھمکی دے کر ان سے فوجی مدد مانگی۔ انگریزوں نے مولانا سندھی کے اس خط کا ذکر رولٹ سڈیشن کمیٹی کی رپورٹ جو کلکتہ میں 1917ء میں شائع ہوئی تھی صفحہ نمبر 178 پر ان الفاظ میں کیا ہے؛

حکومت موقتہ ہند نے روسی ترکستان کے گورنر اور اس زمانے کے زار روس کو خط لکھ کر اس کو برطانیہ عظمیٰ کا ساتھ چھوڑنے کا بلاوا دیا اور ہندستان سے انگریزی راج کو ختم کرنے کے لیے اس سے مدد مانگی۔ ان چٹھیوں پر راجہ مہندر پرتاب کے دستخط تھے بعد میں یہ خط انگریزوں کے ہاتھ آئے۔ زار کے نام جو خط تھا وہ ایک سونے کی پتری پر لکھا ہوا تھا اس کا فوٹو ہمیں دکھایا گیا ہے۔

اس خط کے بعد اسلحہ کی کھیپ نہ پہنچانے کے الزام سے بچنے کے لیے اپنے مشہور اور مایہ ناز امیر البحر کی قیادت میں اسلحہ سے بھرا ہوا بحری بیڑہ روانہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ مولانا سندھی کو یہ خبر جب کابل پہنچی تو وہ بہت پریشان ہوئے کہ اگر ایسا ہوگیا تو ہمارے دونوں ایلچیوں کو قتل کردیا جائے گا۔ مولانا سندھی نے اپنے ایک جرمن جرنیل ساتھی سے اپنی اس پریشانی کا اظہار تو اس نے فوجی حملے کے ذریعے سے یہ بحری بیڑہ غرق کر دیا اور لارڈ نیلسن بھی مارا گیا۔

مولانا سندھی کے اس بین الاقوامی پلان کے خلاف برٹش حکومت نے امیر امان اللہ سے احتجاج کیا تھا اور یہ امر انتہائی قابل افسوس ہے کہ امیر امان اللہ نے مولانا سندھی سے کیے گئے وعدوں کی خلافی کی حتیٰ کہ انگریز کے کہنے پر آپ کو اُن کے‌حوالے کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کر دی جس نے مولانا سندھی کو کابل چھوڑنے پر مجبور کر دیا.

دوسری جانب مشن روس کے ایلچیوں کو زار روس نے گرفتار کرا کر انگریزوں کے حوالے کر دیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب زار روس کے خلاف انقلابی پارٹی نے تحریک برپا کر رکھی تھی۔ زار روس کی برطانیہ نواز پالیسی سے متعلق مولانا سندھی کے خطوط انقلابی پارٹی کے حق میں تھے چنانچہ ان خطوط کی فوٹو کاپیاں منصوبہ کے تحت زار کی فوج میں تقسیم کرا دی گئیں اور برطانوی بد دیانتی کو بے نقاب کیا گیا یوں فوج زار کے خلاف ہوگئی اور زار روس کے خلاف انقلابی جدوجہد تیز ہوگئی جو بالاخر اس کے خاتمے کا باعث بن گئی۔ لینن برسر اقتدار آگیا اس وقت سے یہ انقلابی پارٹی مولانا سندھی کی قدر کرتی تھی۔

یہی وجہ تھی جب مولانا سندھی کابل سے روس پہنچے تو انھیں نئی کیمونسٹ حکومت نے لینن گراڈ کے ایک معیاری ہوٹل میں جگہ دی۔ روسی کیمونسٹوں کا مقصد ساری دُنیا میں کیمونسٹ انقلاب پھیلانا تھا۔ یہاں مولانا سندھی کی ملاقات روس کے وزیر خارجہ چیچرن سے چار ملاقاتیں ہوئیں۔ یہ ملاقات روسی وزارت خارجہ کے فرسٹ کلاس سیکرٹری رائسز کے ذریعے سے ہوئی۔ اس ملاقات کی کہانی دلچسپ ہے۔

رائسز کو مولانا سندھی کے شاگرد ظفر حسن آیبک اُردو کا سبق دیتے تھےایک دن آیبک نے رائسز کو بتایا کہ روس میں ایک ایسا ہندستانی لیڈر آیا ہوا ہے جس کا رسوخ نہ صرف اپنے ہم وطنوں میں بہت زیادہ ہے بلکہ جس نے افغانستان کو انگریزوں سے لڑا دیا تھا اور جس کے افغانستان میں آج بھی جنرل نادر جیسے بڑے بڑے سردار دوست ہیں اور جو آل انڈیا نیشنل کانگرس کی کابل کمیٹی کا صدر اور حکومت موقتہ ہند کا وزیر داخلہ رہ چکا ہے تو کیا روسی حکومت ایسے شخص کے ساتھ تعاون کر کے انگریزوں کے خلاف جو روسی بالشویک حکومت کے دشمن جان ہیں اور جنھوں نے اس حکومت کا تختہ اُلٹنے کے لیے جنرل کولچک اور جنرل ڈینکن جیسے سفید روسی کمانڈروں کو مدد دی تھی ، کوئی کارروائی کرنا نہیں چاہتی؟ مولانا سندھی ہندستان کے بڑے بڑے لیڈروں کے ذاتی دوست ہیں، ہندستان میں انگریزوں کے خلاف بہت کام کر سکتے ہیں بشرطیکہ روسی حکومت ان کو مدد دینے کو تیار ہو۔

یہ وہ پس منظر تھا جس کے باعث رائسز نے وزیر خارجہ چیچرن کی مولانا سندھی سے ملاقات کا اہتمام کیا۔

وزارت خارجہ کے دفتر میں ہونے والی اس ملاقات میں مولانا سندھی نے چیچرن سے کہا کہ وہ ہندستان سے انگریزی حکومت کا قلع قمع کرنے کے لیے روس کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہیں لیکن یہ تعاون روسی کیمونسٹ پارٹی کے ساتھ ہرگز نہیں ہوسکتا پارٹی کی بجائے روسی حکومت سے اس بارے میں گفتگو کر کے ایک سمجھوتے پر پہنچنا ان کا مقصد زندگی ہے۔ چیچرن کو اس پر کچھ تعجب ہوا کہ کیونکہ روس میں کوئی سرکاری کام پارٹی کی منظوری کے بغیر نہیں ہوسکتا لیکن مولانا سندھی نے چیچرن پر واضح کر دیا کہ وہ بحثیت انڈین نیشنل کانگرس کے ایک ممبر کے روسی کیمونسٹ پارٹی سے کوئی لین دین نہیں کرسکتے چونکہ انگریزوں کو ہندستان سے نکالنا روسی حکومت کے مفاد کا باعث اور مطمع نظر مانا جاتا ہے تو اس لیے روسی حکومت کو انڈین نیشنل کانگرس سے سمجھوتا کرنا چاہیے اور اس سمجھوتے کی گفتگو میں روسی کیمونسٹ پارٹی کا کوئی دخل نہیں ہونا چاہیے۔ چیچرن مولانا سندھی کی اس تجویز کو روسی کیبنٹ میں پیش کرنے پر راضی ہوگیا۔

یہ مولانا سندھی کی بہت بڑی کامیابی تھی کیونکہ روسی کیمونسٹ اُس وقت جب تک کسی نوآبادی ملک سے کیمونسٹ پروگرام پوری طرح نہ منوا لیں اس کو اس کی قومی آزادی کی لڑائی میں کبھی مدد دینے کو تیار نہیں ہوتے تھے۔

یہ ملاقات انتہائی خفیہ رکھی گئی۔ ایک ہفتے بعد رائسز نے یہ خبر دی کہ چیچرن مولانا سندھی سے دوبارہ ملاقات کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ وزارت خارجہ میں دوبارہ ملاقات ہوتی ہے، چیچرن نے مولانا سندھی کو بتایا کہ روسی حکومت ہندستانی قومی تحریک کی مدد دینے پر تیار ہے مگر اس بارے میں مولانا سے پوچھنا چاہتی ہے کہ یہ مدد مالی ہوگی یا ہتھیاروں کی شکل میں ہوگی اور اس کو ہندستان کیسے پہنچایا جائے گا؟

مولانا سندھی نے اس کا جواب یوں دیا: انڈین نیشنل کانگرس کا اُصول پر امن اور عدم تعاون ہے اس لیے ہتھیاروں کی مدد کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔ مدد صرف روپے کی صورت میں ہونی چاہیے اور اس کے لیے فی الحال انڈین نیشنل کانگرس کو ایک کروڑ روپے دیا جانا چاہیے جس کو ہندستان قرض سمجھے گا اور آزاد ہونے پر روس کو واپس کر دے گا۔ اس کے ساتھ ضروری ہے کہ افغانستان بھی روس کے ساتھ مل کر کام کرے کیونکہ روس کے لیے ہندستان سے تعلق پیدا کرنے اور اس تعلق کو برقرار رکھنے کا سب سے زیادہ محفوظ راستہ افغانستان ہی کا راستہ ہے۔ یہ ملاقات ختم ہوگئی۔ ایک ہفتے بعد دوبارہ ملاقات ہوئی۔

اب چیچرن کی مولانا سندھی سے تیسری ملاقات ہوتی ہے۔ چیچرن نے مولانا سندھی کو مطلع کیا کہ سوویت حکومت نے ان کی ساری تجاویز مان لی ہیں اور وہ ہندستان کو اس کی قومی تحریک میں مالی مدد دینے کے ساتھ ساتھ افغانستان کو بھی روپے کی کمک بھیجنے پر تیار ہے سوال یہ ہے کہ یہ مدد ہندستان اور افغانستان کیسے پہنچائی جائے۔ روسی حکومت اس بارے میں آپ کے خیالات معلوم کرنا چاہتی ہے؟ اس پر مولانا نے فرمایا:

میں تُرکی جانا چاہتا ہوں اور وہاں کسی کانگرسی لیڈر کو بلا کر یا کسی قابل اعتماد شخص کے ذریعے کانگرسی لیڈروں کو خبر بھیج کر ان کو یہ پیغام دوں گا کہ روسی حکومت ہندستان قومی تحریک کو ایک کروڑ روپیہ تک مالی مدد دینے پر تیار ہے، ہندستانی لیڈروں کو اس پیغام کے ساتھ پہنچنے کے بعد میں انڈین نیشنل کانگرس اور روسی حکومت کے درمیان ایک معاہدہ کرائوں گا۔ معاہدے کے بغیر یہ رقم یا اس کا کوئی حصہ کسی کانگرسی لیڈر کو حتیٰ کہ خود مجھ کو بھی نہیں دیا جائے گا۔ افغانستان کو مالی مدد دینے سے پہلے ضروری ہے کہ میں سردار محمد نادر خان سے خط و کتابت کر کے افغانستان کے ماحول کو تیار کروں تاکہ افغانستان اس کے بعد کبھی اپنے وعدے سے نہ پھرے جیسا کہ 1921 ء میں انگریزوں سے معاہدہ کر کے ہندستان کو اکیلا چھوڑ دیا تھا۔ اگر یہ کام میں تُرکی میں رہ کر نہ کر سکا تو ضروری ہوگا کہ میں حجاز جائوں اور وہاں حج پر آنے والے اپنے دوستوں سے مل کر ان کے ذریعے سے یہ پیغام ہندستان بھیجوں اور افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات از سر نو قائم کر لوں۔

چیچرن نے یہ پلان سن کر اسے اپنی حکومت کے سامنے پیش کرنے کا وعدہ کیا اور ایک ہفتے بعد دوبارہ ملاقات کا وقت مقرر کر دیا گیا۔

چوتھی ملاقات میں چیچرن نے مولانا سندھی کو اطلاع دی کہ روسی حکومت نے ان کی تمام تجاویز منظور کر لی ہیں اور وہ ترکی جا کر ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کام شروع کر سکتے ہیں۔

ہندستان سے 25 سال تک جلا وطن رہنے کے باوجود مولانا سندھی برٹش ایمپائر کے خلاف مسلسل کام کرتے رہے اور عالمی سطح پر اپنی طاقت کا اظہار کیا اس جدوجہد میں فکر ولی اللہی کی بنیاد پر اپنے اُستاد محمود الحسن کی ٹریننگ تھی. یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ تحریک آزادی کی اتنی قد آور شخصیت سے متعلق ہمارے نصاب میں کچھ بھی درج نہیں‌ ہے.


akmal-dawn

اکمل سومرو سیاسیات میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ تاریخ اور ادب پڑھنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔وہ لاہور کے مقامی ٹی وی چینل کے ساتھ وابستہ ہیں۔