شیخ الہند انگریز راج کیخلاف جدوجہد کا استعارہ

    November 30, 2018 12:26 am PST
taleemizavia single page

وسیم اعجاز

جنگ آزادی کے ٹھیک چھ سال قبل 1851ء میں بریلی میں محمود حسن کی پیدائش ہوتی ہے یہ وہی محمود حسن ہیں جو بعد میں‌ شیخ الہند قرار پائے اور شاہ ولی اللہ کی سیاسی تحریک کو اگلے دور میں داخل کرنے میں کلیدی کردار ادا نبھایا جن کے والد مولانا ذوالفقار علی دار العلوم دیوبند کی پہلی مجلس شوریٰ کے رکن تھے اور خود محمود حسن دیوبند کے پہلے شاگرد تھے.

آج سے ٹھیک 98 برس قبل 30 نومبر 1920ء کو شیخ الہند دُنیا فانی سے رخصت ہوگئے لیکن اُن کی زندگی ہندوستان میں انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد کی نا مٹنے والی علامت بن گئی.

1868ء میں دار العلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا تو شیخ الہندؒ دیوبند تشریف لائے اور دار العلوم میں داخل ہو گئے. یہاں مولانا محمد قاسم نانوتویؒ سے علوم دینی اور سیاست کی تعلیم بھی حاصل کی تھی او رتربیت بھی پائی تھی اب اس تحریک سے وابستہ تمام احباب کی دینی و سیاسی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری آپ پر تھی۔

1878ء میں اس تحریک کے مجاہدوں کی تعلیم وتربیت، اسے تنظیمی ڈھانچہ دینے اورسیاسی امر کی ادائیگی کی ذمہ داری آپ نے سنبھال لی۔ آپ نے مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے ایماء پر فضلاء دارالعلوم کی ایک انجمن ”ثمرة التربیت “ کے نام سے قائم کی۔

یہ بھی پڑھیں:

دار العلوم دیوبند اور برطانوی راج کیخلاف تعلیمی تحریک
طلباء تنظیمیں اور دار العلوم دیوبند
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی برطانوی سامراج کیخلاف مزاحمت

1909ء میں جمعۃ الانصار کا قیام عمل میں آیا۔ 1913ء میں عبیداللہ سندھیؒ نے دہلی میں حضرت شیخ الہندؒ کے حکم پر نظارة المعارف القرآنیہ کے نام سے ایک اجتماعی تربیت کا ادارہ قائم کیا جس کا مقصد جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کو حضرت امام شاہ ولی اللہ کے فلسفہ کے مطابق ہندوستان کے معروضی حالات میں سیاسی رہنمائی کرنا تھا۔

عبید اللہ سندھیؒ اس کے ناظم قرارپائے جبکہ اس کے سرپرستوں میں حضرت شیخ الہندؒکے ساتھ ڈاکٹر مختار احمد انصاریؒ اور نواب وقار الملکؒ برابر شریک تھے۔ یوں شیخ الہندؒ نے شاہ ولی اللہؒ کے اجتماعی افکار کی روشنی میں ملکی آزادی کی تحریک کا آغاز کیا۔

تاریخ آزادی کی اس تحریک کو “تحریک ریشمی رومال” کے نام سے یاد کرتی ہے۔

تحریک کے اہم ترین مراکز میں دیوبند ،دہلی، گوٹھ پیر جھنڈا، دین پور، امروٹ، کراچی، چکوال، ترنگ زئی، یاغستان، کابل، رائے پور، پانی پت ، راجستھان، مدینہ منورہ شامل تھے. تحریک ریشمی رومال کے دوران شیخ الہند رائے پور کے شاہ عبد الرحیم رائپوری کے مشوروں پر عمل کرتے.

انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی کی خاطر شیخ الہندؒ حجاز جانے لگے تو شاہ عبد الرحیم رائپوری کو اپنا قائمقام بنایا.

1915ء میں شیخ الہندؒ نے حجاز پہنچتے ہی مکہ معظمہ کے گورنر غالب پاشاسے ملاقات کی جو پہلے ہی آپ سے واقف تھے ،آپ نے انہیں ہندوستان کی صحیح صورتحال اور اپنے منصوبے سے آگاہ کیا ۔غالب پاشا نے ہر طرح کی آپ کی امداد اورآپ سے تعاون کا یقین دلایااور اس سلسلے میں آپ کوکئی تحریریں دیں ۔

ایک تحریر مسلمانان ہند کے نام تھی جس میں انہیں ظالم انگریز کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی تلقین کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ اہل ہند کو آزادی کامل پر آمادہ ہوجاناچاہیے اوراپنی جدوجہد کو تیز کر دینا چاہیے ۔یہی وہ تحریر ہے جو تاریخ میں’ غالب نامہ‘ کے نام سے مشہور ہے۔ شیخ الہندؒ یہ تحریریں لے کر مدینہ منورہ تشریف لائے. حسن اتفاق سے غازی انور پاشا اور جمال پاشا بھی وہاں پہنچ گئے ،اس طرح ان دونوں ترکی زعماء سے آپ کی ملاقات مدینہ منورہ ہی میں ہوگئی ۔

جمال پاشا آپ کے خیالات سے بہت متاثر ہوئے اور ملاقات کے بعد آپ کی استعمار دشمنی کویوں خراج تحسین پیش کیا :اگر محمود حسن کو جلا کر راکھ بھی کر دیاجائے تواس کی راکھ بھی انگریز سے کترا ک رگزرے گی۔

شیخ الہندؒ نے وہ خطوط مولانا ہادی حسنؒ کے ذریعہ ہندوستان اورمولانا محمد میاں منصور انصاریؒ کے ذریعے آزاد قبائل میں پہنچا دیئے۔تحریک کی معلومات ریشمی رومال پر تحریر کر کے شیخ الہندؒ تک پہنچانے کا بندوبست کیا گیا لیکن اگست 1916ء میں ان خطوط کا علم انگریز کو ہو گیا۔ آزادی کی اس تحریک کی سربراہی کی پاداش میں فروری 1917ء میں شیخ الہندؒ کو ان کے ساتھیوں کے ہمراہ جزیرہ مالٹامیں قید کر دیا گیا۔

اس زمانہ میں ان صبر کے پیکروں نے قوم و وطن کے لیے بڑے مصائب برداشت کیے، تکلیفیں اٹھائیں ۔ دورانِ قید شیخ الہندؒ مستقل بیماریوں میں مبتلا ہوگئے لیکن آپ کی استقامت میں لغزش پیدانہ ہوئی ۔ مالٹا میں آپ تقریباً ساڑھے تین سال تک اسیر رہے۔15مارچ بروز 1920ءکو آپ کی رہائی کے احکامات جاری ہوئے ۔

بمبئی کی بندرگاہ پر ہزارہا آزادی کے متوالوں نے آپ کا پرجوش استقبال کیا،اور خلافت کمیٹی کی جانب سے آپ کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیاگیا اور آپ کو’ شیخ الہند ‘کا خطاب دیاگیا ۔

تحریک ریشمی رومال کے بعد حالات کا تجزیہ کرنے کے بعد تحریک کی حکمتِ عملی میں تبدیلی پیدا کی اور فرمایا کہ آج کا دور تشدد پر مبنی جدوجہد کی بجائے مطالبہ حقوق کا دور ہے۔آپؒ نے مذہب کے گروہی اور تقسیم انسانیت پر مبنی نظریہ کی نفی کرکے عدم تشدد کی بنیاد پراسلام کے انسان دوست تصور پر مبنی قومی حکمت عملی کی اہمیت کو اُجاگر کیا ۔

یہ بھی پڑھیں:

عبید اللہ سندھی اور یورپین ازم کا تصور
بھگت سنگھ انقلابی کتابوں کا رسیا
شاہ عبد الرحیم رائپوری پر انقلابی کتاب
مولانا سندھی برٹش ایمپائر کا جنگی مُجرم

شیخ الہندؒ کی حکمت عملی آغاز سے یہ رہی کہ جدوجہد آزادی میں علماءکے شانہ بشانہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ کوشامل ہونا چاہیے ، چنانچہ ڈاکٹر مختاراحمد انصاریؒ، حکیم اجمل خاںؒ، مولانا محمد علی جوہرؒ، مولانا حسرت موہانیؒ، ڈاکٹر سیف الدین کچلوؒ اور خان عبدالغفار خانؒ جیسے لوگ آپ کی جدوجہد کے ساتھی رہے۔

شیخ الہندؒ باوجود سخت علالت اور نقاہت کے 29 اکتوبر1920ء کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے افتتاح کے لیے علی گڑھ تشریف لے گئے. بیماری کی بناءپر احباب نے روکنا چاہاتو فرمایاکہ:’ اگر میری صدارت سے انگریز کو تکلیف ہوگی تو ضرور شریک ہوں گا‘۔

شیخ الہندؒ اپنے خطبہ میں مزید فرماتے ہیں :’اے نونہالان وطن !جب میں نے دیکھا کہ میرے اس درد کے غم خوار (جس سے میری ہڈیاں پگھلی جارہی ہیں ) مدرسوں اورخانقاہوں میں کم، سکولوں اور کالجوں میں زیادہ ہیں، تو میں نے اور میرے چند مخلص احباب نے ایک قدم علی گڑھ کی طرف بڑھایا اور اس طرح ہم نے ہندوستان کے دوتاریخی مقاموں (دیوبند اور علی گڑھ) کا رشتہ جوڑا۔‘

شیخ الہندؒ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد رکھی اور تاسیسی اجلاس میں قنوطی مذہب کے حوالہ سے تشکیل پانے والے رویوں پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

’بہت سے نیک بندے ہیں جن کے چہروں پر نماز کا نور اور ذکر اللہ کی روشنی جھلک رہی ہے، لیکن جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خدارا اٹھو ،اور اس امت مرحومہ کو کفار کے نرغے سے بچاﺅ تو ان کے دلوں پر خوف و ہراس مسلط ہوجاتاہے ۔ خدا کا نہیں بلکہ چند ناپاک ہستیوں کا اوران کے سامان حرب و ضرب کا‘۔

شیخ الہندؒ نے موجودہ دور کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ اس دور میں دو اسباب سے ہم زوال کا شکار ہیں ایک قرآنی انقلابی تعلیمات سے دوری اور دوسرا آپس کے شدید اختلافات۔ آپؒ کے یہ الفاظ آج بھی ہمیں جدوجہد کی دعوت دیتے ہیں۔

مالٹا سے واپسی کے صرف 6ماہ بعد یہ عظیم لیڈر اور ہندوستانی قوم کے جلیل القدر قائد 30 نومبر1920ء بروز منگل ڈاکٹر مختار احمد انصاریؒ کے مکان پراللہ کا ذکر کرتے ہوئے اس دار فانی سے رخصت ہوگئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *