پنجاب یونیورسٹی: برطرف اساتذہ و ملازمین کا احتجاج50 ویں روز داخل

    May 23, 2018 12:31 pm PST
taleemizavia single page

لاہور: عاصم قریشی

پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے گیارہویں سکیل سے لے کر سترہویں سکیل تک کے کنٹریکٹ ملازمین کی مدت ملازمت پوری ہوتے ہی انہیں یونیورسٹی سے نکال دیا ہے اور ان کے کنٹریکٹ میں توسیع کرنے سے بھی انکار کر دیا گیا ہے۔ یہ اساتذہ و ملازمین دو اپریل سے سراپا احتجاج ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے تدریسی و انتظامی شعبہ جات کے پانچ سو سے زائد کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کیا ہے۔

برطرف ملازمین نے آج وائس چانسلر ڈاکٹر ناصرہ جبیں کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے، برطرف ملازمین نے معاشی قتل بند کرو کے پلے کارڈز بھی اُٹھا رکھے تھے۔ یونیورسٹی نے ایسے اساتذہ کو بھی فارغ کر دیا ہے جن کے پاس پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔

تعلیمی زاویہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سعدیہ ساغر کا کہنا تھا کہ ہم دس سالوں سے یونیورسٹی میں کام کر رہے ہیں اور اب ہم پر بے روزگاری کا ایٹم بم گرا دیا گیا ہے، عمر کی حد زیادہ ہونے کے باعث وہ کسی اور سرکاری ادارے میں ملازمت کے بھی اہل نہیں رہے۔ ڈاکٹر سعدیہ کا کہنا ہے کہ ہمیں بہترین کارکردگی پر سرٹیفکیٹس دیے گئے ہیں لیکن اب ہمیں سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔

ڈاکٹر سعدیہ ساغر کے ساتھ اس احتجاج میں وہ افراد بھی شامل ہیں جن کے پاس ایم فل کی ڈگریاں ہیں۔

احتجاج کرنے والے سید شکیل حسن کہتے ہیں کہ چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیر اعلی پنجاب ہماری شنوائی کریں اور وائس چانسلر کو حکم دیں کہ ہمارے کنٹریکٹ بحال کیے جائیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ حکومت کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے ایجوکیٹرز کو مستقل کر رہی ہے جبکہ یونیورسٹی پی ایچ ڈی اساتذہ کو فارغ کر رہی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اگر کنٹریکٹ بحال نہ کیا گیا تو وہ پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاج کریں گے۔