پنجاب کی 4 خواتین یونیورسٹیز میں مستقل وائس چانسلرز تعیناتی کی منظوری

    May 5, 2019 1:30 pm PST
taleemizavia single page

لاہور: حافظ اعجاز بشیر

صوبے کی سرکاری یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر کے خالی عہدوں پر تقرریوں کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ناموں کی منظوری دے دی ہے۔ چار سرکاری یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر تعیناتی کے لیے منظور کیے گئے ناموں میں سے تین کا تعلق لاہور سے ہے۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ انفارمیشن مینجمنٹ کی سابقہ چیئرپرسن ڈاکٹر کنول امین کو یونیورسٹی آف ہوم اکنامکس لاہور کا وائس چانسلر تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

ڈاکٹر کنول امین نے 150 ریسرچ مقالہ جات شائع کر رکھے ہیں جبکہ امریکہ سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ہے، ڈاکٹر کنول امین جاپان میں فیلو شپ پروفیسر کے عہدے پر بھی تعینات رہ چکی ہیں۔ 2010ء میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے انھیں بیسٹ ٹیچر کے ایوارڈ سے بھی نوازا تھا۔

پنجاب یونیورسٹی سے ہی انسٹیٹیوٹ آف ایڈمنسٹریٹو سائنسز کی ڈائریکٹر ڈاکٹر ناصرہ جبیں کو ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کا وائس چانسلر تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ ڈاکٹر ناصرہ جبیں پنجاب یونیورسٹی میں قائم مقام وائس چانسلر کے عہدے پر بھی تعینات رہ چکی ہیں۔ انھوں نے اپنے شعبے میں 43 ریسرچ پیپرز شائع کر رکھے ہیں۔

لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کو ویمن یونیورسٹی ملتان کا وائس چانسلر تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔ ڈاکٹر عظمیٰ قریشی لاہور کالج کی وائس چانسلر رہ چکی ہیں تاہم میرٹ کے خلاف تقرری پر سپریم کورٹ نے انھیں نا اہلیت کی بناء پر عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے 18 ریسرچ پیپرز شائع کر رکھے ہیں۔

قائد اعظم یونیورسٹی کی پروفیسر آف بائیو کیمسٹری ڈاکٹر بشریٰ مرزا کو ویمن یونیورسٹی فیصل آباد میں وائس چانسلر تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی منظوری کے بعد سمری گورنر پنجاب کو ارسال کی گئی ہے۔ گورنر پنجاب بطور چانسلر مذکورہ ناموں کی حتمی منظوری دیں گے۔

ڈاکٹر بشریٰ مرزا نے کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔

محکمہ ہائیر ایجوکیشن پنجاب نے وزیر اعلیٰ کو تین تین ناموں پر مشتمل سمری ارسال کی تھی جس میں سے مذکورہ ناموں کی منظوری دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کی منظوری کے بعد اب سمری گورنر پنجاب کو بھیجی گئی ہے۔ گورنر پنجاب بطور چانسلر مذکورہ ناموں کی وائس چانسلر کے لیے حتمی منظوری دیں گے۔