سماجی ترقی کے چار اُصولوں پر مفتی عبد الخالق آزاد کا مکالمہ

    March 9, 2017 6:32 pm PST
taleemizavia single page

رپورٹ: محمد اکرم سومرو

ابلاغ عامہ میں ذمہ داری کا عنصر شامل ہو تو پھر سماج کی تشکیل میں مثبت رویے پروان چڑھتے ہیں اور انہی رویوں کی بنیاد پر ہی احساس ذمہ داری کا تعین انفرادی اور اجتماعی سطح پر کرنے میں معاونت ملتی ہے۔

یہ مکالمہ ادارہ علوم ابلاغیات پنجاب یونیورسٹی لاہور میں منعقدہ نشست میں ہوا جس میں مفتی عبد الخالق آزاد نے خصوصی گفتگو کی۔ عبد الخالق آزاد رائپوری ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ لاہور کے ڈائریکٹر جنرل ہیں اور اُنہیں “ابلاغ عامہ اور سماجی ذمہ داریاں” کے موضوع پر گفتگو کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔

اس نشست میں ادارہ علوم ابلاغیات کی انچارج سویرا شامی، ڈاکٹر بشریٰ رحمان، ڈاکٹر عامر سعید، ڈاکٹر عامر باجوہ سمیت مختلف شعبہ جات کے ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔

عبد الخالق آزاد رائپوری بنیادی طور پر امام شاہ ولی اللہ کے فکر و فلسفہ کے اُستاد ہیں اور اُنہوں نے شاہ ولی اللہ پر مستند تصانیف مرتب کی ہیں جو تعلیمی اداروں میں بطور حوالہ ریسرچ ورک میں بھی استعمال کی جارہی ہیں۔ وہ فکر شاہ ولی اللہ پر اس خطے میں اتھارٹی تصور کیے جاتے ہیں۔

مولانا آزاد نے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مکالمہ کسی بھی آزاد معاشرے کی بہترین خصوصیت ہے۔ آزادانہ افکار و خیالات کا تبادلہ امور کے نکھرنے کا موجب بنتا ہے جس کی روشنی میں اقوام ترقی کرتی ہیں۔ پاکستان کا معاشرہ بنیادی مسائل سے دوچار ہے جس میں معاشی عدم مساوات، سیاسی عدم استحکام اور سماجی بد امنی شامل ہے گویا 70 سال پہلے ہمیں آزادی تو مل گئی تاہم پاکستان خود مختار ریاست کے طور پر نہیں اُبھر سکا۔

چنانچہ وہ سمجھتے ہیں کہ اب سماج کی تشکیل میں بنیادی ذمہ داریوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ اسلام کوئی فرقہ نہیں، نہ ہی کسی مخصوص خطے یا نسل کی اجارہ داری کا حامل نظام ہے بلکہ اس کا موضوع کل انسانیت ہے بلکہ یہ ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کا کردار ادا کرتا ہے۔

مگر اسلام کی اساس پر ملک کے حصول کے باوجود ہم نے اپنے اس جوہرِ نایاب ( قرآنِ پاک اور سیرت) کو فراموش کردیا اور اسلام کو سماج کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کرنے کی بجائے اسے اپنی خواہشات ، طبقاتی اور گروہی مفاد اور فرقہ ورانہ جھگڑوں میں مبتلا کردیا ہے۔

دنیا میں اقوام نے جو نظریہ اپنایا اسی کے تناظر میں اپنے سیاسی ، معاشرتی اور معاشی نظام اور سماجی ڈھانچے تشکیل دیے اور ترقی کی منازل طے کیں۔ ہمارے ہاں جب سرمایہ اور دولت اصل ہوگئی تو سرمائے کے گرد گھومنے کے حوالے سے سماج کی تشکیل کے تصورات بنیادی ضرورت بن گئے ۔ اور پس انسانیت سرمائے کے فروغ اور اس کے پھیلاؤ کا ایک ذریعہ بن گئی۔

مولانا آزاد کہتے ہیں کہ سماج کی تشکیل میں دین کا کوئی تعلق ہمارے علمی ماحول میں نہیں رہا ۔ مساجد اور مدارس ہم نے چھوڑ دیں اور ہر فرقے کے سپرد کر دیا کہ وہ زکوٰۃ و خیرات کی بنیاد پر اپنا اپنا ڈھانچہ بنائیں اور اپنے فرقے کی تبلیغ کے لیے معاشرے کو فرقوں میں تقسیم کردیں۔

اس نشست میں مولانا آزاد نے نشاندہی کی کہ ابلاغِ عامہ کے حوالے سے ہماری سماجی ذمہ داریوں پر نہ تو بحث کی جاتی ہے اور نہ اس کی اساس پر نصاب اور تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا گیا اور نہ اسلام کی تحریک پذیر توانائیوں اور اس کے فکری افق کی بلندیوں کو ذہن میں نقش کیا گیا ہے۔ آزادی رائے کو سب سے پہلے قومی اساس کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں بھی بے شمار ایسے واقعات ہیں جس میں دینِ اسلام نے غلامی سے آزادی اور حریت کی تحریک کو فروغ دیا ۔

نشست کے دوران بی ایس آنرز کے طالبعلم حمزہ اشتیاق نے ذاتی رائے کی اہمیت اور میڈیا کے اثرات پر سوال اُٹھایا جس کے جواب میں مولانا آزاد نے کہا کہ اپنی رائے کق دوسروں کی آراء کی مرغوبیت میں بدل لینا دینِ اسلام کے قطعی منافی ہے۔ مگر ہمارا قومی نظام ہمیشہ دوسروں کے مفاد کی روشنی میں اپنی رائے کو بیچ دیتا جس کی بنا پر ہم نے اپنی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ نوآبادیاتی دور میں تعلیمی نظام نے بھی طبقاتی نظام کو فروغ دیا اور قومی امنگوں اور ملی تقاضوں کو فراموش کردیا۔ بہترین سماجی نضام کی تشکیل کے لئے آزادیِ رائے کو اولین درجہ حاصل ہے۔

اُنہوں نے اس مکالمہ کے دوران سماجی تشکیل میں جن محرکات کی طرف توجہ دلائی اس میں دوسرا بڑا کردار سماجی ترقی میں عدل و انصاف کو قرار دیا۔

اس محرک پر بات کے دوران اُنہوں نے کہا کہ سماجی معاہدون میں تمام فریقوں کے مابین عدل کی نسبت قائم کرنا بہت ضروری ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تیسرا بڑا اصول سماجی معاشرے کے امن و امان کے لئے مظبوط اور مستحکم سیاسی نظام کا قیام ہے۔ تاکہ رنگ، نسل اور مذہب کی تفریق کے بغیر شہریوں کو امن اور جان، مال، عزت و آبروکا تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

چوتھا اصول بنیادی ضروریات کی منصفانہ تقسیم کا ہے۔ تاکہ معاشرے کے تمام افراد اطمینان کی زندگی گزار سکیں مگر ان تمام اصولوں کا تعارف ہمارے معاشرے میں نہیں ملتا۔ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ جو بھی واقعہ معاشرے میں وقوع پذیر ہو اس کو من و عن لوگوں تک پہنچا دیا جائے جس سے قوم کے فیصلے آزادانہ ہو اور مثبت سوچ پروان چڑھے۔

معاشرے کو سنسنی اور ذاتی مفاد کی مد میں غلط معلومات پہنچانے سے گریز کیا جائے۔ پیغام پہنچانے والے کی اپنی حیثیت کی جانچ پڑتال کی جائے اورخبر کی سچائی کی ممکنہ تصدیق کی جائے تاکہ معاشے کو بگاڑ اور انتشارسے دور رکھا جا سکے۔

ریاست کی بنیادی اقدار کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے اور اس کے بنیادی اساسی اصولوں کو فروغ دیا جائے تاکہ تخلیقی صلاحتیں بیدار ہوں اور ائے کی خرید و ٖ فروخت سے حاصل کی گئی غلامانہ ذہنیت سے بچا جا سکے۔ بد امنی کے کسی واقعے پر بریکنگ نیوز بنانے کی بجائے امن کے فروغ کے لئے حکمتِ عملی اپنائی جائے۔ میڈیا کو ہماری قومی ضروریات کی درست عکاسی کرنی چاہئے اور شعوری تحریک کو آگے بڑھانے کے لئے ہر وقت کوشاں رہنا چاہئے۔


  1. Very informative.especially for those whose research basd on this topic.No doubt media play a vital role especially among youth.

  2. پہلے تو میڈیا کے لوکوں کو معاشی طور پر ازاد کریں پھر بات ہو گی

  3. افسانوی دنیا سے ہٹ کر عملی میدان میں نوجوانوں کے اعتماد اور
    سوچ کووسعت دینے کے لئے بترین مکالمہ

  4. Very informative.
    Very different from other philosphers.
    These sort of seminars should arranged around the country.
    The idiology must be adopted as Law for prospirity and development.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *