پیشگی فیس وصولی پر نامور 22 نجی اسکولز کے بینک اکاؤنٹس منجمد

    May 12, 2018 11:02 am PST
taleemizavia single page

پشاور: خیبرپختونخوا میں پیشگی فیس وصول کرنے پرعائد پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے نجی اسکولز کے خلاف کارروائی کا آغازکر دیا گیا۔ کے پی پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے تحت صوبے کے تمام نجی اسکولز تعطیلات کی فیس یکمشت وصول نہیں کرسکتے۔

نوٹیفیکیشن میں فیس پر سالانہ اضافہ کرنے اور طلبہ سے ٹرانسپورٹ فیس لینے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں صوبے کے 22 بڑے نجی اسکول سسٹمز کے بینک اثاثے منجمد کرنے کا نوٹس جاری کردیا گیا۔ صوبائی انتظامیہ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو خلاف ورزی کرنے والے تمام اسکولز کے بینک اکاؤنٹس سیل کرنے کا حکم جاری کیا۔

ان سکولوں میں دی سٹی سکول سسٹم، دی سمارٹ سکول سسٹم، الائیڈ سکول سسٹم، بیکن ہاؤس سکول سسٹم، دی ایجوکیٹرز سکول سسٹم، پشاور ماڈل سکول سسٹم،آئی ایل ایم سکول سسٹم، اقراء روضتہ الاطفال سکول، ورسک ماڈل سکول سسٹم فارورڈ ماڈل سکول سسٹم، روٹس میلینئم سکول سسٹم شامل ہیں۔

قائد اعظم پبلک سکول سسٹم، سینٹ میری سکول پشاور، فرنٹئیر چلڈرن اکیڈمی پشاور، دی لاہور لائسیم سکول پشاور، سینٹ فرانسز سکول پشاور، پاک تُرک انٹرنیشنل سکول اینڈ کالج پشاور، سر سید پبلک سکول سسٹم، بلوم فیلڈ ہال سکول پشاور، دی ریسائنز سکول سسٹم کے اکاؤنٹس منجمد کیے گئے ہیں۔

پچیس اپریل کو پشاور ہائی کورٹ نے ایکشن لیتے ہوئے حکم جاری کیا کہ ہڑتال کی صورت میں اسکولز کو حکومتی تحویل میں لے لیا جائے جس کے بعد دو روز سے جاری ہڑتال ختم کر دی گئی اور تمام پرائیویٹ اسکول کھول دیے گئے۔

ہائی کورٹ نے آئندہ ایسی صورت میں اسکول مالکان کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔