سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈوب گیا، تمام پراجیکٹس بند ہوگئے

    July 17, 2018 11:46 am PST
taleemizavia single page

کراچی: سید محمد عسکری

سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن فعال نہ ہونے کی وجہ سے مختلف پروجیکٹس کے لیے رکھی گئی کروڑوں روپے کی رقم رواں سال بھی استعمال نہ ہونے کے باعث 30 جون کے بعد ضائع ہوگئی۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کے تقریبا ساڑھے چار سال پورے ہوچکے ہیں اور اب تک کمیشن کے محض تین اجلاس ہوئے ہیں جب کہ کمیشن کے کئی اراکین کی مدت بھی مکمل ہوچکی ہے۔ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں وفاقی چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر طارق بنوری نے وائس چانسلرز کا تعارفی اجلاس رکھا، جس میں سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین اور پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین کو بھی مدعو کیا گیا مگر اس اہم اجلاس میں سندھ ہائر ایجوکیشن کی نمائندگی کسی نے بھی نہیں کی۔

سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن میں مستقل سیکرٹری بھی نہیں ہے اور عہدے کا چارج سیکرٹری بورڈ و جامعات قاضی عبدالکبیر کے پاس ہے جو اس کے غیر فعال ہونے کی وجہ ہے ۔اسی طرح سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے واحد ڈائریکٹر نور شاہ کو ایڈیشنل سیکرٹری بورڈز کا بھی چارج دے دیا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو فعال کرنے اور اسے وفاقی ہائر ایجوکیشن کے مساوی کرنے کیلئے 8؍ پروجیکٹس تیار کئے گئے تھے ہر پروجیکٹ کے لئے ڈھائی سے 3؍ کروڑ روپے مختص رکھے تاہم سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو ان پروجیکٹس کو چلانے کے لئے عملہ ہی فراہم نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ان 8؍ پروجیکٹس پر کام نہیں ہوسکا اور رقم ضائع ہوگئی۔

آٹھ پروجیکٹس میں سندھ ریسرچ پروگرام، اسکالر شپ پروگرام، ٹریننگ پروگرام، ہائر ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم پروگرام، یونیورسٹی مینجمنٹ پروگرام، غیر ملکی ٹریننگ پروگرام، پی ایچ ڈی پروگرام اور لیبارٹریز ٹریننگ پروگرام کے لئے 21؍ گریڈ کاایک مشیر، 20؍ گریڈ کے 3؍ ڈائریکٹر جنرلز اور 8؍ ڈائریکٹرز کے علاوہ دیگر ضروری عملہ تقرر کرنے کی سفارش کی گی تھی تاہم سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو یہ عملہ مل نہیں پایا اور کروڑوں روپے کی رقم ضائع ہوگئی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *