بحریہ یونیورسٹی کی طالبہ حلیمہ امیر کی ہلاکت پر ریکٹر مستعفی

    September 28, 2019 2:39 pm PST
taleemizavia single page

اسلام آباد: بحریہ یونیورسٹی میں طالبہ حلیمہ امیر کی ہلاکت پر انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے طلبہ نے سڑک ٹریفک کے لیے بند کردی ہے۔ طلباء نے یونیورسٹی کے سامنے شاہین چوک کو ٹریفک کےلیے بند کر دیا ہے اور شدید احتجاج جاری ہے۔

احتجاج میں شریک لڑکی کے کلاس فیلوز اور دیگر طلبا ریکٹرکے استعفے کو ڈھونگ قرار دے رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ چوتھے فلور پر لفٹ کے لیے جگہ خالی چھوڑنے کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔

دوران احتجاج طلبہ و طالبات نے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے زیرتعمیر عمارت کو استعمال کرنے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ طلباء نے مطالبہ کیا کہ اس زیرتعمیر عمارت کو بند کیا جائے اور ساتھی طالبہ کے گر کر جاں بحق ہونے کے معاملے کی تحقیقات کی جائیں۔

پولیس اور ہسپتال کے عملے کا کہنا تھا کہ بحریہ یونیورسٹی کی چوتھی منزل سے گر کر ایک نوجوان خاتون جاں بحق ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 23 سالہ حلیمہ امین بحریہ یونیورسٹی میں بیچلرز کے دوسرے سیمسٹر کی طالبہ تھی اور وہ اس نئے یونیورسٹی بلاک کی چوتھی منزل سے گریں جس کا تعمیراتی کام ابھی تک مکمل نہیں ہوا تھا۔

ہسپتال کے عملے کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر سمیت یونیورسٹی اسٹاف کی جانب سے دوپہر میں حلیمہ امیر کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں لایا گیا، اس وقت وہ بے ہوش تھیں لیکن انہیں ریڑھ کی ہڈی سمیت متعدد فریکچرز آئے تھے۔

عملے کے مطابق انہیں نگرانی میں رکھ کر علاج مہیا کیا گیا تھا لیکن وہ تقریباً ساڑھے 4 بجے کے قریب انتقال کرگئیں، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بعد میں لڑکی کی لاش کو وہ لوگ ہسپتال سے لے گئے جو انہیں پمز لائے تھے۔

دوسری جانب مارگلہ پولیس کا کہنا تھا کہ انہیں اس واقعے کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا جب خاتون کو ہسپتال پہنچایا گیا، پولیس کے بقول انہیں یہ بتایا گیا کہ خاتون اس وقت عمارت سے گریں جب وہ سیلفی لے رہی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی جانب سے جائے وقوع کے معائنے کے لیے پولیس کو رسائی دینے سے انکار کردیا گیا تھا اور پولیس کو کہا گیا کہ یونیورسٹی خود دیکھے گی کہ کیا ہوا ہے اس کے بعد پولیس کو آگاہ کردے گی اور اس سلسلے میں ایک رپورٹ بھی جمع کروادے گی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ طالبہ کے اہل خانہ کی جانب سے اب تک کسی قسم کی قانونی کارروائی کے لیے رابطہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر پولیس کو شکایت درج کروائی گئی تو پوسٹ مارٹم سمیت دیگر قانونی کارروائی کی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *