پنجاب یونیورسٹی :9 ارب کا بجٹ، فیسوں میں 5 فیصد اضافہ کی منظوری

    June 8, 2017 12:05 pm PST
taleemizavia single page

لاہور: عاصم قریشی

پنجاب یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے اجلاس میں طلباء کی فیسوں میں پانچ فیصد اضافہ، سات شعبہ جات کو آپس میں ضم کرنے، ملازمین کے لیے مفت حج و عمرہ پالیسی کی منظوری دے دی گئی ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کا اجلاس قائمقام وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین ناصر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ سنڈیکیٹ میں 9 ارب 27 کروڑ روپے مالیت کا بجٹ منظور کر لیا گیا ہے۔ بجٹ میں 6 ارب 77 کروڑ 30 لاکھ روپے آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ بجٹ خسارہ 2 ارب 25 کروڑ 46 روپے ہے۔

امتحانات سے فیس وصولی کی مد میں 2 ارب 28 کروڑ 93 لاکھ روپے کی آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ رجسٹریشن اور ڈگریوں کی مد میں 69 کروڑ 60 لاکھ روپے آمدن کا تخمینہ ہے۔ یونیورسٹی ایںڈومنٹ فنڈ سے 30 کروڑ روپے، ریگولر اسٹوڈنٹس کی فیسوں کی مد سے 12 کروڑ 99 لاکھ روپے آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

آئندہ مالی سال میں سیلف سپورٹ سٹوڈنٹس پروگرام کی مد سے 26 کروڑ 46 لاکھ روپے جبکہ غیر ملکی طلباء سے 3 کروڑ روپے آمدن کا تخیمنہ لگایا گیا ہے۔ بجٹ میں یونیورسٹی اساتذہ کی تنخواہوں اور پنشن کی مد میں 1 ارب 83 کروڑ 52 لاکھ روپے جبکہ ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی مد میں ایک ارب 17 کروڑ 17 لاکھ روپے کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

ایڈمنسٹریٹو سٹاف کی تنخواہوں کی مد میں ایک ارب 55 کروڑ 77 لاکھ روپے کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ امتحانات کے اعزازیہ کے لیے 67 کروڑ 69 لاکھ روپے جبکہ گیس بجلی اور ٹٰیلی فون کی مد میں 39 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ انٹرنیٹ پر تین کروڑ 50 لاکھ روپے، ریسرچ گرانٹ پندرہ کروڑ، نیشنل اینڈ انٹرنیشنل کانفرنسز کے لیے سات کروڑ روپے، طلباء سکالر شپ کے لیے 18 کروڑ 14 لاکھ روپے، اوورسیز سکالر شپ کی مد میں سات کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

یونیورسٹی کے ترقیاتی کاموں کی مد میں 20 کروڑ 20 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اساتذہ کی مراعات اور الاؤنسز کی مد میں 21 کروڑ 80 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سنڈیکیٹ میں پنجاب یونیورسٹی کی سات شعبہ جات کو ضم کرنے کی بھی منظوری دی جائے گی۔ یونیورسٹی کا ڈیپارٹمنٹ آف یورپین لینگوئج کو انسٹیٹیوٹ آف لینگوئجز میں ضم کرنے،اُردو ڈویلپمنٹ کمیٹی کو اُردو ڈیپارٹمنٹ میں ضم کر دیا گیا ہے۔

چائلڈ ویلفیئر سنٹر کو ڈیپارٹمنٹ آف سپیشل ایجوکیشن میں ضم کر دیا گیا۔ ڈیپارٹمنٹ آف لٹریری ہسٹری آف دی مسلم آف انڈو پاکستان کو شعبہ تاریخ میں ضم کیا جارہا ہے جبکہ ڈیپارٹمنٹ آف ٹیکسٹائل انجینئرنگ کو پولیمر انجینئرنگ کے ڈیپارٹمنٹ میں ضم کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ڈیپارٹمنٹ آف ٹیکسٹائل انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں تین سال سے ایک بھی طالبعلم نے داخلہ نہیں لیا ہے۔

ڈیپارٹمنٹ آف جینڈر اسٹڈیز کو انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل اسٹڈیز میں ضم کرنے، کیرئیر کونسلنگ،پلیسمنٹ سنٹر اور سکلز ڈویلپمنٹ کو ایک ہی ڈیپارٹمنٹ کا درجہ دے دیا گیا۔ پنجاب یونیورسٹی ریشنلائزیشن پالیسی کے تحت مذکورہ شعبہ جات کو ضم کیا گیا ہے۔ آپس میں ضم کیے گئے شعبہ جات کے اساتذہ اور ملازمین بھی ضم کر دیے گئے ہیں۔

سنڈیکیٹ کے اجلاس میں پنجاب یونیورسٹی میں پہلے سکیل سے گریڈ سولہ تک کی 161 آسامیوں کو ختم کرنے کے فیصلے کی حتمی منظوری دے دی گئی ہے۔ جبکہ یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں ملازمین کی تعیناتیوں کے لیے 86 نئی آسامیوں کی منظوری بھی دی گئی ہے۔

یونیورسٹی کے سیکورٹی سٹاف کا نیا سٹرکچر منظوری کے لیے پیش ہوگا جس کے تحت اب اٹھارویں گریڈ کے چیف سیکورٹی آفیسر کا عہدہ ختم کر کے اُنیسوویں گریڈ کا ڈائریکٹر سیکورٹی اینڈ ویجیلنس کے عہدے کی منظوری لی گئی ہے جس کے لیے ایک لاکھ پچاس ہزار روپے تک کی تنخواہ مقرر کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے۔

یونیورسٹی کے سکیل ایک سے لے کر چوتھے سکیل تک کے ملازمین کو یونیورسٹی کے خرچے پر حج و عمرہ کرانے کی پالیسی کی بھی منظوری لی گئی ہے۔ جس کے تحت ہر سال پانچ ملازمین کو حج و عمرہ کے لیے بھیجا جائے گا جس کے لیے دس سال سروس کی شرط رکھی گئی ہے۔ ان ملازمین کو قرعہ اندازی کے زریعے سے سلیکٹ کیا جائے گا۔

سنڈیکیٹ کے اجلاس میں فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کی تجویز پر 185 ملازمین کی انٹر ڈیپارٹمنٹ ٹرانسفرز کی منظوری دی ہےاور ان ملازمین کی فہرستیں سنڈیکیٹ میں پیش کر دی گئی ہیں۔ سنڈیکیٹ کے ایجنڈے میں ڈائیگناسٹک لیب کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے جس کے تحت یونیورسٹی میں سٹیٹ آف دی آرٹ لیب بنائی جائے گی اور یونیورسٹی کے تمام میڈیکل ٹیسٹ اسی لیب سے ہوں گے۔

واضح رہے کہ یونیورسٹی ملازمین اور اساتذہ کے میڈیکل ٹیسٹ کی مد میں سالانہ تین کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی نے سنڈیکیٹ سے سکیل ایک سے لے کر گریڈ سولہ تک کے ملازمین کے لیے ہالیڈے کی مد میں تنخواہوں کی ادائیگی کی منظوری کے ایجنڈے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب یونیورسٹی سنڈیکیٹ ممبران پروفیسر ڈاکٹر عامر اعجاز، ڈاکٹر حافظ محمد رفیق، جاوید سمیع اور شمائلہ گل کی مدت ختم ہوگئی ہے۔ اب یونیورسٹی میں ان عہدوں پر دوبارہ سلیکشن کے لیے الیکشن ہوں گے جس کے شیڈول کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *