پنجاب یونیورسٹی تصادم میں ملوث 17 طلباء کے نام خارج

    February 18, 2018 11:56 am PST
taleemizavia single page

لاہور: آمنہ مسعود

پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے 22 جنوری کو ہنگامہ کرنے والے طلباءکے خلاف پہلے مرحلے میں سخت کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے اسلامی جمعیت طلباء کے 13 اور پشتون / بلوچ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 4 طلباءکو مستقلاََ یونیورسٹی سے نکال دیا ہے۔

جبکہ پشتون بلوچ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے مزید 6 طلباءکو ایک سال کے لئے یونیورسٹی سے نکالنے کی سزا دے دی۔

دوسری جانب ڈسپلنری کمیٹی نے شواہد کے بنیاد پر کارروائی کے دوسرے مرحلے کا آغازکرتے ہوئے مزید 30 طلباءکو شوکاز نوٹسز جاری کر دیئے ہیں۔

یاد رہے کہ پنجاب یونیورسٹی کی حالیہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہنگاموں میں ملوث طلباءکے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کرتے ہوئے انہیں یونیورسٹی سے نکال باہر کیا ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذکریا ذاکر کی ہدایت پرسینئر پروفیسرز پر مشتمل ڈسپلنری کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے۔

ہنگامے میں ملوث طلباءکے خلاف پہلے مرحلے میں یہ کارروائی ٹھوس شواہد بشمول سی سی ٹی وی فوٹیج، عینی و دستاویزی شہادتوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی سے مستقل طور پر نکالے جانے والے جمعیت کے 13 طلباءمیں اسامہ اعجاز، منیب فاروق، راحت علی، سکندر کاکڑ، محمد انیب افضل، احمد ذکریا، عبدالبصیر، اسامہ بن شفاعت، ہدایت اللہ، سمیع اللہ خان، ذیشان اشرف، میاں ارسلان اور عارف الرحمن شامل ہیں۔

جبکہ پنجاب یونیورسٹی سے مستقل طور پر نکالے جانے والے پشتون اور بلوچ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 4 طلباءمیں اسفند یار، عالمگیر خان، نعیم وزیر، پائیدین خان شامل ہیں۔

پشتون / بلوچ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے ایک سال کے لئے نکالے جانے والے 6 طلباءمیں معظم علی شاہ، مقبول لہری، سلمان وزیر، سلمان احمد، وارث خان اور اشرف خان شامل ہیں جبکہ ایک طالبعلم احمد خان کو وارننگ جاری کرتے ہوئے تین ماہ تک زیر نگرانی رہنے کی سزا دی گئی ہے۔

ڈسپلنری کمیٹی نے 5 طلباءپر دس ہزار روپے جرمانے اور تین ماہ تک زیر نگرانی رہنے کی سزا سنائی ہے جن میں عجب خان ، امیر عباس ، عبدالسلام، دولت خان اور ریحان خان شامل ہیں۔ دونوں اطراف کے ایک ایک سابق طالبعلم بلال احمد اور داود خان کو ڈسپلنری کمیٹی نے ”پرسانا نان گریٹا“ قرار دے دیا ہے۔

ڈسپلنری کمیٹی نے نکالے جانے والے طلباءکے یونیورسٹی میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے ۔ یونیورسٹی سے نکالے گئے متعلقہ طلباءقانون کے مطابق پندرہ روز میں کمیٹی کے فیصلے کے خلاف وائس چانسلر کو اپیل دائر کر سکتے ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق چند طلباءنے انضباطی کارروائی سے بچنے کے لئے جعلی دستاویزات پیش کیں تاہم کمیٹی میں ان طلباءکو ہنگامے میں ملوث ہونے کے شواہد دکھائے گئے۔

پنجاب یونیورسٹی نے پہلے مرحلے میں 34 طلباءکو نوٹسز جاری کئے گئے تھے جن میں سے 3 طلباءشاہد نواز، احمد جنید اور معاذ احمد کو دستیاب شواہد کے مطابق ہنگامے میں ملوث نہ ہونے پر بری کیا گیا ہے ۔

پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ اس امر کو یقینی بنایا گیا ہے کہ کسی بھی طالبعلم کے ساتھ کسی قسم کی ذیادتی نہ ہو اور یونیورسٹی انتظامیہ کسی طالبعلم تنظیم کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔

ترجمان نے خبردار کیا کہ انکوائری کمیٹی کے فیصلے کے خلاف کسی قسم کا غیر قانونی ردعمل ظاہر کرنے والے طلباءکے خلاف حکمت عملی تیار کی جا چکی ہے اور ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *