پی ایم ڈی سی کی عبوری کمیٹی، سندھ کی میڈیکل یونیورسٹیز نظرانداز

  • January 20, 2018 10:41 pm PST
taleemizavia single page

کراچی: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے امور چلانے کے لیے قائم کردہ عبوری کمیٹی میں سندھ کی ایک بھی سرکاری میڈیکل یونیورسٹی کو نمائندگی نہیں دی گئی اور سندھ کی کسی بھی میڈیکل یونیورسٹی سے پروفیسر کو شامل نہیں کیا گیا۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل میں سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کو شامل کیا جاتا ہےتاہم حیرت انگیز طور پر پی ایم ڈی سی میں سندھ سے جناح ہسپتال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو عبوری کمیٹی میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اُصولی طور پر پی ایم ڈی سی میں ممبران کا تعلق میڈیکل یونیورسٹیز کے پروفیسرز سے ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ بارہ جنوری کو پی ایم ڈی سی کو تحلیل کر کے عبوری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کا سربراہ جسٹس ریٹائرڈ شاکر اللہ جان کو بنایا گیا۔

کمیٹی کے دیگر ارکان میں اٹارنی جنرل آف پاکستان، وفاقی سیکرٹری صحت، سرجن جنرل پاکستان آرمڈ فورسز، وائس چانسلر نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، وائس چانسلر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور، ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سنٹر، وائس چانسلر خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور، اور پرنسپل بولان میڈیکل کالج کوئٹہ شامل ہیں۔

حیرت انگیز طور پر اس عبوری کمیٹی میں سندھ کی میڈیکل یونیورسٹیز کو نظر انداز کیا گیا ہے اور انہیں کمیٹی میں نمائندگی نہیں دی گئی۔ دوسری جانب ملک کے باقی تینوں صوبوں کی بڑی میڈیکل یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کو عبوری کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ کمیٹی میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق رفیع کا نام شامل کیا گیا تھا جو کہ بعد وجوہات بتائے بغیر نکال دیا گیا اور ان کی جگہ جناح ہسپتال کے ایگزیکٹو کو شامل کر لیا گیا جو کہ پی ایم ڈی سی کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published.