لیاقت میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ کیخلاف دو سینئر اساتذہ مستعفی

    August 10, 2018 10:07 pm PST
taleemizavia single page

کراچی: صفدر رضوی

لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز جامشورو کی انتظامیہ کے غیر سنجیدہ رویے اور اساتذہ کے ساتھ ہتک آمیز رویہ بڑھتا جارہا ہے جس پر دو سینئر پروفیسر نے استعفیٰ دے دیے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ رجسٹرار یونیورسٹی کے غیر پیشہ وارانہ رویے پر اساتذہ مسلسل سراپا احتجاج ہیں۔

یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات اور دماغی امراض کے ماہر پروفیسر معین انصاری نے اپنا استعفیٰ وائس چانسلر ڈاکٹر بیکھا رام کو بھجوا دیا ہے۔ اس سے قبل برطانیہ سے آئے ہوئے پاکستان کے معروف ماہر امراض منہ و جبڑا پروفیسر ڈاکٹر غضنفر حسن نے بھی اپنے شعبے سے بطور چیئرمین عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

ڈاکٹر معین انصاری نے اپنے استعفیٰ میں موقف اپنایا ہے کہ استحقاق و عزت سے محروم کرنے اور مسلسل دباؤ کے سبب وہ یونیورسٹی میں اپنی موجودہ پوزیشن سے مستعفی ہورہے ہیں تاہم ایک ماہ تک بطور نوٹس پیریڈ کام کریں گے۔

ڈاکٹر معین انصاری کا موقف ہے کہ ریٹائرڈ اور سیاسی بنیادوں پر رکھے گئے رجسٹرار ڈاکٹر روشن علی بھٹی اساتذہ و ماہرین طب کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں، وہ انتظامی امور چلانے کے بجائے سینئر فیکلٹی کے ساتھ مسلسل بد تہذیبی اور ناشائستہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ رجسٹرار اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر رہا ہے۔ ڈاکٹر معین انصاری کے مطابق رجسٹرار نے انھیں اسلام آباد میں ایف سی پی ایس کا امتحان لینے کے لیے یہ کہہ کر جانے سے روک دیا گیا کہ ان کی چھٹیاں ختم ہو چکی ہیں۔

دوسری جانب رجسٹرار ڈاکٹر روشن علی بھٹی کا کہنا ہے کہ جو اساتذہ سینٹ اور ایسوسی ایٹ پروفیسر کی نشست پر سنڈیکیٹ کے لیے الیکشن لڑ رہے ہیں وہ میرے خلاف مہم چلا رہے ہیں، یہ ان کی انتخابی مہم کا حصہ ہے۔