خیبر پختونخوا: سرکاری کالج میں دو ہزار طلباء کیلئے صرف دو کمرے

    September 16, 2018 12:09 am PST
taleemizavia single page

رپورٹ: بی بی سی

خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقے باجوڑ کے ایک کالج میں طلبا جگہ کی کمی کی وجہ سے اکثر کھڑکیوں میں بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر لیکچر سنتے ہیں جبکہ کالج کے بیشتر حصے میں سکیورٹی اہلکار مقیم ہیں۔

طلبا کے مطابق اس کالج میں کم و بیش دو ہزار طالبعلم زیر تعلیم ہیں اور ان کے لیے کل آٹھ کمرے ہیں جن میں سے دو میں پرنسپل اور اساتذہ ہوتے ہیں۔

طلبا نے بتایا کہ اکثر بچے جلد آنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ بیٹھنے کی جگہ مل جائے وگرنہ یا تو کھڑے ہو کر لیکچر سننا پڑتا ہے یا کلاس روم سے باہر کھڑکی سے سننے کی کوشش کرنی پڑتی ہے۔

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر لال زمان پختون یار نے بی بی سی کو ٹیلیفون پر بتایا کہ اس کالج کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں تین حصے سکیورٹی اہلکاروں کے پاس ہیں جبکہ ایک حصے میں تدریسی عمل ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک حصے میں ہاسٹل، ایک میں اساتذہ اور پرنسپل کے کمرے، ایک حصے میں کھیل کا میدان اور ایک میں کلاس رومز ہیں۔ ان میں کلاس رومز تدریسی عمل کے لیے اور باقی تین حصوں میں سکیورٹی اہلکار ہوتے ہیں۔

ضلع باجوڑ کی تحصیل ماموند میں واقع گورنمنٹ ڈگری کالج برخلوزو کے طلبا اور مقامی تنظیموں نے اس حوالے سے احتجاجی مظاہرے میں کہا ہے کہ کالج میں مکمل تدریسی عمل شروع کیا جائے اور کالج سے سکیورٹی اہلکاروں کو کہیں اور منتقل کیا جائے۔

سکیورٹی فورسز کے اہلکار فوجی آپریشن کے لیے سات سال پہلے اس علاقے میں تعینات کیے گئے تھے اور اس کالج میں قیام کی اجازت دی گئی تھی، جبکہ آپریشنز کی وجہ سے مقامی لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

حکام کے مطابق تین سال پہلے فوجی آپریشنز جب مکمل کر لیا گیا تھا تو متاثرین کی واپسی ہوئی تھی جس کے بعد اس کالج میں تدریسی عمل شروع کر دیا گیا تھا۔

مقامی طلبا کے مطابق کالج میں طلبا ایف اے، ایف ایس سی، بی اے، بیس ایس سی کے متعدد مضامین کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس کالج میں انٹر میڈیٹ کی سطح پر میڈیکل انجینیئرنگ، آرٹس کے علاوہ بیچلر کی سطح پر 15 سے 20 مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔

ایک مقامی طالبعلم مصباح الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ طلبا کو کلاس رومز سے باہر کم جانے دیا جاتا ہے اکثر مسلح سکیورٹی اہلکار کالج میں موجود ہوتے ہیں جس سے ان کے زہنوں پر دباؤ رہتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سکیورٹی اہلکاروں کو کسی اور عمارت میں منتقل کر دیا جائے اور کالج میں مکمل تدریسی عمل شروع کیا جائے۔

اس وقت کالج میں اساتذہ کی کمی پائی جاتی ہے، کالج میں لیبارٹریز اور لائبریری نہیں ہے جس سے تعلیمی معیار گر گیا ہے۔

طلبا کے مطابق اس کالج سے ماضی میں بڑی تعداد میں طالب علم صوبے کے اچھے میڈیکل کالجز اور انجینیئرنگ یونیورسٹیز کو جاتے تھے لیکن اب یہ تعداد کم ہو گئی ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جس کے لیے سکیورٹی اہلکاروں نے ان قبائلی علاقوں میں قیام کیا تھا۔ ان علاقوں سے بڑی تعداد نے نقل مکانی کی تھی اور سکیورٹی اہلکاروں کو سکولوں اور کالجوں کے علاوہ سرکاری عمارتوں میں قیام کی اجازت دی گئی تھی۔

اس بارے میں کہا جاتا ہے کہ دیگر قبائلی علاقوں میں بھی بعض ایک سکول اور کالجوں کی عمارتوں میں یا سکیورٹی اہلکار مقیم ہیں یا سرکاری کاموں کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔

فاٹا سیکریٹیریٹ کے ترجمان عبدالسلام وزیر نے کہا ہے کہ اس وقت کسی بھی سکول یا کالج میں سکیورٹی اہلکار نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ فوجی آپریشنز کے بعد جن سکولوں اور کالجز میں سکیورٹی اہلکار تھے وہ خالی کر دیے گئے اور ان میں تدریسی عمل باقاعدگی سے شروع کر دیا گیا تھا۔

عبدالسلام وزیر کے مطابق بیشتر سکولوں کی تعمیر اور مرمت میں انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں نے اہم رول ادا کیا۔