الطاف حسین سے تعلق: کراچی یونیورسٹی کے دو پروفیسرز گرفتار

    April 2, 2017 6:45 pm PST
taleemizavia single page

کراچی

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) لندن سے تعلقات کے شبہے میں کراچی پریس کلب کے قریب سے 2 اساتذہ کو حراست میں لے لیادوسری جانب کراچی یونیورسٹی کی خاتون ٹیچر نے دعویٰ کیا کہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنے کی غرض سے جانے والے ان کے تین ساتھی اساتذہ لاپتہ ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق حراست میں لیے گئے ڈاکٹر ریاض اور ڈاکٹر مہر افروز مراد کا تعلق کراچی یونیورسٹی کی ٹیچرز سوسائٹی سے ہے، جو پریس کانفرنس کی غرض سے پریس کلب آئے، تاہم انھیں اس سے قبل ہی حراست میں لے لیا گیا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق ان دونوں اساتذہ کا تعلق ایم کیو ایم لندن سے ہے اور لندن قیادت کے ہی کہنے پر یہ پریس کانفرنس کے لیے آئے، تاہم اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔

کراچی یونیورسٹی کی خاتون استاد ڈاکٹر نوین حیدر نے دعویٰ کیا کہ پریس کانفرنس کرنے کے غرض سے جانے والے تین اساتذہ دوپہر 2 بجے سے لاپتہ ہیں، ان سے کوئی بھی رابطہ نہیں ہو رہا ڈاکٹر نوین حیدر نے بتایا کہ لاپتہ ہونے والے افراد میں ڈاکٹر ریاض، ڈاکٹر مہر افروز اور ڈاکٹر نغمہ شیخ شامل ہیں۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ لاپتہ ہونے والے استاد ایم کیو ایم لندن کے گرفتار رہنما حسن ظفر عارف کو انسانی ہمدری کی بنیاد پر علاج کی سہولت فراہم کرنے کی حمایت کے حوالے سے پریس کانفرنس کرنے والے تھے ان کے مطابق تینوں لاپتہ استادوں کا تعلق کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی سے ہے، تاہم انہوں نے ان کی ایم کیو ایم لندن سے تعلقات کے حوالے سے تردید یا تصدیق نہیں کی۔

کراچی یونیورسٹی سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر شکیل فاروقی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گرفتار اساتذہ کو فوری رہا کیا جائے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اساتذہ پر جھوٹے مقدمات بنائے جارہے ہیں جس کی انجمن اساتذہ سخت مذمت کرتی ہے۔

ڈاکٹر شکیل فاروقی کا کہنا ہے کہ گرفتار اساتذہ کو اگر رہا نہ کیا گیا تو کراچی سمیت پورے ملک کی جامعات میں اساتذہ احتجاجی تحریک شروع کریں گے۔ کراچی یونیورسٹی کےاساتذہ کی گرفتار پر فیڈریشن آف آل پاکستان اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن نے بھی سخت مذمت کی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس 22 اگست کو ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین نے کراچی پریس کلب پر اشتعال انگیز اور پاکستان مخالف تقریر کی تھی، جس کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے الطاف حسین اور لندن قیادت سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

بعد ازاں فاروق ستار کی قیادت میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے پارٹی کے بانی کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کو پاکستان سے چلانے کا اعلان کرتے ہوئے نئی رابطہ کمیٹی کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن ایم کیو ایم لندن نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی کو مسترد کرتے ہوئے ایک نئی رابطہ کمیٹی کا اعلان کیا جس میں حسن ظفر عارف کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل تھی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *