کراچی یونیورسٹی کا اپنی ٹیسٹنگ سروس شروع کرنے کا فیصلہ

    August 7, 2019 12:06 pm PST
taleemizavia single page

کراچی: صفدر رضوی

جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے این ٹی ایس(نیشنل ٹیسٹنگ سروس) کو خیر باد کہتے ہوئے اپنی ٹیسٹنگ سروس قائم کرنے اور اسی ٹیسٹنگ سروس کی بنیاد پر یونیورسٹی میں داخلے دینے کافیصلہ کیاہے۔

جامعہ کراچی کی انتطامیہ کی جانب سے نئی ٹیسٹنگ سروس کانام ’’کراچی یونیورسٹی اسسمنٹ اینڈ ٹیسٹنگ سروس‘‘ (کے یو اے ٹی ایس) تجویز کیا گیا ہے، ٹیسٹنگ سروس کے قیام اوراین ٹی ایس کے بجائے مذکورہ سروس کے تحت 2020 کے داخلے دینے کے فیصلے پرمزیدبحث اورمنظوری کل جمعرات کو دوپہر 3 بجے منعقد ہونے والے اکیڈمک کونسل کے اجلاس میں دی جائے گی جس کی صدارت جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرخالد عراقی کریں گے۔

ٹیسٹنگ سروس کے معاملے کو اکیڈمک کونسل ایجنڈے میں نئے تعلیمی سال 2020 کی داخلہ پالیسی کے ساتھ شامل کر لیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اکیڈمک کونسل کے ایجنڈے میں داخلہ پالیسی سے متعلق انچارج داخلہ کمیٹی ڈاکٹرصائمہ اختر کا لکھا گیا ورکنگ پیپر اور ٹیسٹنگ سروس کے انتظامی ڈھانچے کے خاکے کے ساتھ اس کا تعارف اور قیام کے مقاصد پر مشتمل رجسٹرارجامعہ کراچی کی سمری شامل کی گئی ہے۔

انچارج داخلہ کمیٹی ڈاکٹرصائمہ اخترکی جانب سے داخلہ پالیسی کے حوالے سے لکھے گئے ورکنگ پیپرمیں داخلے 2020 کے سلسلے میں داخلہ ٹیسٹ Entrance test این ٹی ایس کے بجائے جامعہ کراچی کی جانب سے منعقدکرنے اوراس کامکینزم طے کرنے کی سفارش کی گئی ہے اوراس میں گزشتہ برس 19اکتوبر2018کومنعقدہ اکیڈمک کونسل کاحوالہ دیتے ہوئے کہاگیاہے کہ اس اکیڈمک کونسل میں وائس چانسلرنے کہاتھاکہ ’’ہم مجبوری میں این ٹی ایس کی جانب جارہے ہیں‘‘۔

دوسری جانب رجسٹرارجامعہ کراچی کی جانب سے کراچی یونیورسٹی اسسمنٹ اینڈ ٹیسٹنگ سروس کے قیام کے سلسلے میں تیارکی گئی سمری میں کہاگیاہے کہ ’’کے یواے ٹی ایس‘‘ چار مختلف سیکشنز پر مشتمل ہو گا جو آزادانہ طور پر ایک کنوینر؍ڈائریکٹرکے ماتحت کام کریں گے، ان چار سیکشنز میں ’’ریسرچ اینڈ ڈیٹابیس ڈیویلپمنٹ سیکشن، ٹیسٹ پیپر ڈیویلپمنٹ سیکشن، ٹیسٹ ایڈمنسٹریشن سیکشن اورٹیسٹ اسسمنٹ سیکشن‘‘شامل ہونگے۔

سمری میں کہا گیاہے کہ جامعہ کراچی نے مختلف شعبوں مین 1994سے ٹیسٹ کی بنیادپرداخلوں کاسلسلہ شروع کیا تھا جو شعبہ جات میں انفرادی بنیاد پر منعقد ہوتے تھے تاہم ازاں بعد یہ سلسلہ مرکزی بنیاد پر ڈائریکٹوریٹ آف ایڈمیشن کے تحت شروع ہوگیالیکن کچھ سال قبل داخلہ ٹیسٹ این ٹی ایس کے سپرد کردیے گئے تاہم جامعہ کراچی کی اکیڈمک کونسل نے کئی باراس بات پر زوردیاکہ جامعہ کراچی کی اپنی ٹیسٹنگ سروس شروع ہونی چاہیے جودیگراداروں کوبھی اپنی خدمات دے سکے، جامعہ کراچی تھرڈ پارٹی کے ذریعے ٹیسٹ کے انعقاد کراتی ہے جس سے ایک بھاری رقم خرچ ہوتی ہے۔

مزیدبراں ٹیسٹنگ سروس کے قیام کے مقاصد کے سلسلے میں کہاگیاہے کہ ایک نفسیاتی تجزیے psychometric کے ساتھ آئٹم بینک Item bank بنایاجائے گا جبکہ جامعہ کراچی کے متعلقہ شعبہ جات کے داخلہ ٹیسٹ بھی اسی کے ذریعے ہونگے، مزید براں ٹیسٹنگ سروس کایہ ادارہ سرکاری ،نیم سرکاری اورنجی اداروں کواپنی خدمات فراہم کرے گا.

اسی طرح سرکاری، نیم سرکاری اورنجی اداروں کوبھرتیوں کے سلسلے میں بھی ایکزامینیشن کی خدمات فراہم کی جاسکیں گی جبکہ سروس ٹریننگ پروگرام کے تحت فیکلٹی اراکین کوامتحانات کے جدید طریقہ کار سے متعلق تربیت بھی دی جائے گی۔

ادھر ذرائع کے مطابق ٹیسٹنگ سروس کے تحت منعقدہونے والے امتحانات یا ٹیسٹ کی اسسمنٹ آنسرشیٹس کی اسکیننگ کی بنیادپرہوگی، علاوہ ازیں اکیڈمک کونسل میں تعلیمی سال 2020کی داخلہ پالیسی کے سلسلے میں جامعہ کراچی کے شعبہ ویژوول اسٹڈیزمیں داخلوں کے سلسلے میں ٹیسٹ ؍سلیکشن طریقہ کارکی قانونی حیثیت اورفیس اسٹریکچرجبکہ انٹری ٹیسٹ کے پاسنگ مارکس پر بھی بحث ہو گی۔