پی ٹی آئی حکومت میں جمعیت کا پنجاب یونیورسٹی میں راج

    September 27, 2018 4:31 pm PST
taleemizavia single page

لاہور: پنجاب یونیورسٹی میں بی ایس آنرز اور ایم اے ایم ایس سی میں داخلوں کے لیے پہلی بار آن لائن فارم جمع کیے جارہے ہیں اس ضمن میں یونیورسٹی نے اُمیدوارو ں کیلئے تمام تر تفصیلات اپنی ویب سائٹ پر بھی جاری کر رکھی ہیں ۔

دوسری جانب پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ کی رٹ کو اسلامی جمعیت طلباء نے چیلنج کر دیا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی میں انسٹیٹیوٹ آف ایڈمنسٹریٹو سائنسز کے سامنے اسلامی جمعیت طلباء نے اپنے داخلہ سٹال لگا رکھے ہیں جبکہ یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ نمبر ۲ پر بھی جمعیت نے داخلہ سٹال لگا رکھے ہیں اور انتظامیہ کی جانب سے جمعیت کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جارہا ہے۔

جمعیت کی جانب سے یونیورسٹی میں داخلے کی غرض سے آنے والے طلباء وطالبات میں جمعیت اپنا لٹریچر بھی تقسیم کر رہی ہے اور اُمیدواروں کے کوائف کو جمع کیا جارہا ہے۔

اس لٹریچر میں جمعیت کی جانب سے لکھا گیا ہے کہ جامعہ پنجاب میں طلباء کے لیے سٹڈی سرکل سمیت دیگر سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں اور جمعیت یونیورسٹی کے طلباء کی رہنمائی کرتی ہے۔

جمعیت کی جانب سے تقسیم ہونے والے لٹریچر کولاہور کے پرائیویٹ ادارے ورلڈ ٹائمز انسٹیٹیوٹ کی جانب سے فنانس کیا گیا ہے اوررہنمائے داخلہ کی صورت میں شائع ہونے والے اس لٹریچر پر ورلڈ ٹائمز انسٹیٹیوٹ نے اپنا اشتہار بھی جاری کیا ہے۔

اسلامی جمعیت طلباء نے تین روز قبل یونیورسٹی آڈیٹوریم کے سامنے بھی داخلہ سٹال لگایا تھا جس پر یونیورسٹی طلباء کی جانب سے رد عمل کا اظہار کیا گیا اور یونیورسٹی انتظامیہ نے سٹال ختم کرنے کے لیے جمعیت کے ساتھ مذاکرات کیے جس کے بعد جمعیت نے یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ پر داخلہ سٹال لگا لیا ہے اور اس سٹال پر جمعیت نے اپنے جھنڈے بھی لگا رکھے ہیں۔

یونیورسٹی طلباء کا ماننا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلباء متحرک ہوگئی ہے جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے گیٹ نمبر ۲ پر لگے جمعیت کے سٹال کو ختم کرنے کے لیے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ داخلوں کے دوران یونیورسٹی میں جمعیت کے لٹریچر اور جھنڈے لگنے پر یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور وزیر ہائیر ایجوکیشن راجہ ہمایوں یاسر کو اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے بھی کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔