ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں لاکھوں تنخواہوں پر غیر قانونی کنسلٹنٹس کی بھرتیاں

    December 21, 2019 4:06 pm PST
taleemizavia single page

اسلام آباد: ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں کنسلٹنٹس کی بھرتیوں کے لیے کمیشن ایکٹ کی بھی سنگین خلاف ورزی کا انکشاف ہوا ہے. چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر طارق بنوری کی ایماء پر  21 ویں گریڈ کی مراعات اور چار لاکھ روپے تک ماہانہ تنخواہوں کے عوض کنسلٹنٹس بھرتی کر لیے گئے.

ایچ ای سی پاکستان ایک جانب کفایت شعاری اور فنڈز کی کمی کے باعث پاکستان کی 190 سے زائد یونیورسٹیوں کی فنڈنگ میں کٹوتی کر چکی ہے تاہم دوسری جانب سے ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چار لاکھ روپے تک ماہانہ تنخواہوں کے عوض دس مشیروں کو تعینات کر لیا گیا ہے. کمیشن کی 16 سالہ تاریخ میں پہلی بار کنسلٹنٹس کی تقرریاں ہوئی ہیں.

ایچ ای سی میں اس وقت 800 ملازمین، ایڈوائزرز اور 9 ڈائیریکٹر جنرل تعینات ہیں.

تفصیلات کے مطابق ایچ ای سی نے کنسلٹنٹ فار پالیسی اینڈ لیگل افیئرز کیلئے داؤد منیر، کنسلٹنٹ آئی ٹی ایم آئی ایس کیلئے رضوان راشد، محمد ارشد کو کنسلٹنٹ فنانس ، آصف کو آئی ٹی کنسلٹنٹ،  سارا زمان کنسلٹنٹ نینشل اکیڈمی فار ہائیر ایجوکیشن کے عہدے پر تعینات کیا ہے.  

فضل عباس کو کنسلٹنٹ انسٹیٹیویشن ریفارمز ، میجر جنرل ریٹائرڈ محمد اصغر  کنسلٹنٹ سی پیک اور منصور طارق کو لیگل ایڈوائزر کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے.

ذرائع نے بتایا ہے کہ ایچ ای سی میں وفاقی حکومت کے قوانین کے کے تحت ہی ملازمین بھرتی کیے جا سکتے ہیں جبکہ ان بھرتیوں کے لیے ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

سرکاری یونیورسٹیوں کے اساتذہ چھ مہینوں سے ایچ ای سی کی جانب سے فنڈنگ مین کٹوتی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور ایچ ای سی فنڈز نہ ہونے پر یونیورسٹیوں کو کفایت شعاری اپنانے اور فیسوں میں اضافے کی ہدایات کر چکا ہے۔ فنڈز کی عدم کمی کے باوجود کنسلٹنٹس کی بھرتیوں پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ ایچ ای سی کی ڈائیریکٹر میڈیا عائشہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ کنسلٹنٹس کی بھرتیوں کے لیے کمیشن سے منظوری حاصل کی گئی ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *