وفاق کا ہائر ایجوکیشن بجٹ بلوچستان دُشمنی پر مبنی ہے: فپوآسا صدر

    May 29, 2017 10:51 pm PST
taleemizavia single page

کوئٹہ

فیڈ ریشن آف آ ل پاکستان ایکڈ یمک سٹاف ایسو سی ایشن کے مرکزی صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ ،فپو اسا بلو چستان کے صدر فرید خان اچکزئی ، سیکرٹری پروفیسر خالد بادینی اور پروفیسر محمد قاسم نے اپنے الگ الگ بیان میں وفاقی بجٹ برائے مالی سال دو ہزار سترہ اٹھارہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ڈاکٹر کلیم اللہ کہتے ہیں کہ اعلی تعلیمی اداروں اور ہائیر ایجو کیشن کمیشن کے رواں سال کیلئے منصو بوں کی مد میں ہمیشہ کی طرح اس سال پھر بلو چستان کو مکمل طو ر پر نظر انداز کردیا گیا ہے کیونکہ وفاقی ایچ ای سی کی جانب سے 62نئے منصو بوں کیلئے 9188ملین روپے سے زائد جبکہ پچھلے سال کے منصو بوں کیلئے 26474ملین روپے کے 105منصوبوں میں سے بلو چستان کی 7جامعات اور 3سب کیمپسسز کیلئے رواں سال صرف 400ملین روپے کے تین منصو بہ جات رکھے گئے ہیں۔

ڈاکٹر کلیم اللہ کا مانن ہے کہ ہائر ایجوکیشن کا مختص بجٹ بلو چستان کے پسماندہ اور ہر لحاظ سے محروم صوبے کے ساتھ مزاق کے مترادف ہے۔

ڈاکٹر کلیم اللہ نے تعلیمی زاویہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد تعلیم بشمول اعلی تعلیم صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اب تک صوبائی حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھا یاگیا ہے ۔نتیجتا صوبے کا ہر سال صرف اعلی تعلیمی بجٹ کی مد میں سالانہ اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور ایچ ای سی سے پرزو ر مطالبہ کیا گیا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کے آئینی حق کو تسلیم کرتے ہوئے نہ صرف انکا 9فیصد حصہ دیا جائے بلکہ دعووں کے مطابق حقیقی معنوں میں مزید منصوبوں کا اعلان کیا جائے۔

فیڈریشن آف آل پاکستان اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشنز کے صدر نے صوبائی حکومت سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے اپنے صوبے کا آئینی و قانونی حصہ لیکر صوبے پر احسان کریںاور آنے والے صوبائی بجٹ میں اعلی تعلیم کیلئے 24فیصد سے زائد رقم مختص کی جائے اور صوبے کی سات جامعات اور بالخصوص جامعہ بلو چستان کی گرانٹ میں کم ازکم تین ارب روپے کا اضافہ کرکے تعلیم دوستی کا ثبوت دیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *