وفاقی اُردو یونیورسٹی سینیٹ کا اجلاس متنازعہ ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟

    June 19, 2017 3:28 pm PST
taleemizavia single page

کراچی

فیڈرل اُردو یونیورسٹی آف آرٹس، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سینیٹ کے اجلاس میں بجٹ پر بحث اور ملازمین کی ترقیوں اور مستقل تعیناتیوں کے ایجنڈے پر بحث کی گئی لیکن یہ اجلاس اُس وقت متنازعہ ہوگیا جب یونیورسٹی کے سینئر ترین سینیٹ ممبران نے قائمقام وائس چانسلر کی موجودگی پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔

سینیٹ کے ان ممبران نے موقف اپنایا کہ قائمقام وائس چانسلر اُردو یونیورسٹی کے پاس اب اس آفس میں رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا کیونکہ کراچی یونیورسٹی اور سندھ ہائیکورٹ نے اُن کی پی ایچ ڈی کی ڈگری کو جعلی قرار دینے کے بعد منسوخ کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

اور یونیورسٹی آف کراچی کی جانب سے جلد ہی اس ڈگری کی منسوخی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔

اس احتجاج کے دوران یونیورسٹی سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین جاوید اشرف نے ممبران کو یقین دلایا کہ جیسے ہی یونیورسٹی کی جانب سے پی ایچ ڈی کی ڈگری منسوخی کا نوٹیفکیشن جاری ہوگا تو فوری قائمقام وائس چانسلر کو عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔

سینیٹ اجلاس پر اعتراضات کرنے والوں میں فیڈرل ایجوکیشن منسٹر کے نمائندے رفیق طاہر، ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے سپیشل نمائندے ڈاکٹر رضا بھٹی، اور یونیورسٹی کی انجمن اساتذہ کے نمائندے ڈاکٹر افتخار طاہری شامل تھے۔

ان ممبران کا موقف تھا کہ سینیٹ اجلاس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے 15 جون کو حکم امتناعی جاری کیا تھا جس کے بعد یہ اجلاس منعقد کرنا غیر قانونی ہے جبکہ عدالت نے وائس چانسلر سلیمان محمد کی پی ایچ ڈی ڈگری بھی منسوخ کر دی ہے۔

سینیٹ ممبران کا موقف ہے کہ یونیورسٹی آف کراچی کی جانب سے ڈگری منسوخی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد بھی قائمقام وائس چانسلر نے اپنا عہدہ نہ چھوڑا تو انہیں سینیٹ کے ذریعے سے یونیورسٹی سے نکالنے کا فیصلہ کرایا جائے گا۔

قائمقام وائس چانسلر کی جانب سے سینیٹ کا اجلاس ملازمین کی ترقیوں اور یونیورسٹی ایکٹ میں ترامیم کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔

ملازمین کی ترقیوں کے معاملے پر وفاقی اُردو یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کے سینئر پروفیسر کی درخواست پر سینیٹ اجلاس منعقد کرنے کے حوالے سے عدالت نے حکم امتناعی جاری کیا تھا جبکہ دو سینئر اساتذہ ڈاکٹر طاہر مسعود اور ڈاکٹر تحسین فراقی نے سینیٹ اجلاس میں شرکت کرنے سے بائیکاٹ کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ سٹینڈنگ کمیٹی آن فنانس اینڈ سٹینڈنگ کمیٹی آن ایجوکیشن نے وفاقی وزارت تعلیم کو وائس چانسلر ڈاکٹر سلیمان محمد کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش بھی کر دی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *