پنجاب:اساتذہ کی پرموشن پالیسی میں نرمی، 3 سال کا رزلٹ چیک ہوگا

  • November 4, 2018 11:48 am PST
taleemizavia single page

بہاولپور: حکومت پنجاب نے اساتذہ کی پرموشن پالیسی 2010ء میں ترمیم کر دی ہے اور اساتذہ کی ترقیوں کو بورڈز، یونیورسٹیز نتائج سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

حکومت نے پرموشن پالیسی 2010ء کے پیراگراف نمبر 6 کی شق 8 اے میں ترمیم کرتے ہوئے اساتذہ کی ترقیاں بورڈز اور یونیورسٹیوں کے تین سال کے نتائج سے مشروط تصور ہوں گی۔

ترمیم شدہ پیراگراف میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذکورہ تین سالہ نتائج میں سے ایک سال کا نتیجہ بورڈز اور یونیورسٹیوں کے مجموعی رزلٹ سے 10 فیصد کم ہونے کی رعائیت دی جائے گی۔ اگر بورڈ کا رزلٹ 55 فیصد ہوگا تو سرکاری سکول کے استاد کا رزلٹ 45 فیصد تک قابل قبول ہوگا.

سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری مراسلہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ادارے کے سربراہ یعنی ہیڈ ماسٹر، ہیڈمسٹریس اور پرنسپل کی کارکردگی اور ترقی کا جائزہ مجموعی رزلٹ سے لیا جائے گا۔

پنجاب حکومت نے مذکورہ مراسلے پر عمل درآمد کے لیے محکمہ سکولز ایجوکیشن کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔

پنجاب ٹیچرز یونین کے جنرل سیکرٹری رانا لیاقت علی نے تعلیمی زاویہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس نئی پالیسی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب اساتذہ پر لازمی نہیں ہوگا کہ اُن کا نتیجہ بورڈ کے نتیجے کے برابر ہو بلکہ اس میں رعائیت دے دی گئی ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ اب اساتذہ کی ترقیاں التواء کا شکار نہیں ہوں گی اور انھیں اُمید ہے کہ نئی پالیسی سے اساتذہ کی بہتری ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.