جامعہ کراچی: پی ایچ ڈی سکالر نادیہ اشرف کی خود کشی کے اصل حقائق

    August 24, 2020 12:42 am PST
taleemizavia single page

کراچی: جامعہ کراچی کے ڈاکٹر پنجوانی سینٹر فار مالیکیولر میڈیسن اینڈ ریسرچ کی پی ایچ ڈی سکالر نادیہ اشرف نے 16 اگست کو مبینہ طور پر اپنے سپروائزر سے تنگ ہوکر زندگی ختم کر لی۔

نادیہ اشرف اپنا پی ایچ ڈی تھیسز ڈاکٹر اقبال چوہدری کی زیر نگرانی لکھ رہی تھیں، تاہم پندرہ برس سے نادیہ کی پی ایچ ڈی ڈگری مکمل نہیں ہو پا رہی تھی۔

نادیہ اشرف کی انتہائی قریبی دوست کے مطابق نادیہ اشرف بسا اوقات یہ کہتی تھی کہ ڈاکٹر اقبال چوہدری میری پی ایچ ڈی نہیں ہونے دیں گے، ڈاکٹر صاحب نہ جانے مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ نادیہ اشرف سے متعلق مذکورہ تحریر فیس بُک پر گردش کرتی رہی۔ تعلیمی زاویہ نے اس واقعہ کی کھوج لگانے کے لیے فیکلٹی ممبران اور خاندان سے رابطہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق نادیہ اشرف سب سے پہلے ڈاکٹر امین سوریا کی زیرِ نگرانی2007میں ایم فل پی ایچ ڈی میں این رول ہوئی تھی تاہم ڈاکٹر امین سوریا کے جانے کے بعد یہ طالبہ پروفیسرڈاکٹراقبال چوہدری کے زیرِ نگرانی اپنا پی ایچ ڈی مکمل کررہی تھی۔

ڈاکٹر پنجوانی سینٹر نے تحقیقی تربیت کے لیے نادیہ اشرف کو فرانس بھی بھجوایا تھا مگر وہ اپنی بیماریوں اور گھریلو پریشانیوں کی وجہ سے وہاں بھی تحقیق پرتوجہ نہ دے سکی۔ خاندانی ذرائع نے بتایا کہ نادیہ اشرف کے والد ڈیمنشیا کے مریض تھے اور وہ بہاولپور سے بذریعہ ریل گاڑی کراچی آتے ہوئے لاپتہ ہوگئے اور پھر کبھی گھر نہیں لوٹے۔

نادیہ اشرف نے ڈاکٹر پنجوانی سینٹر سے دور رہ کر اپنے خانوادے کی کفالت کے لیے دیگر کئی اداروں میں کام بھی کیا، ان مصروفیات کی وجہ سے نادیہ کی پنجوانی سینٹر میں آمد و رفت بہت کم تھیں۔

نادیہ اشرف ان کی رجسٹریشن کی مدت میں دو بار توسیع کرائی گئی تاکہ وہ اپنا پی ایچ ڈی مکالہ مکمل کرلیں

ڈاکٹر پنجوانی سنٹر کے ایک فیکلٹی ممبر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ادارے میں اساتذہ کے دو گروپس کی باہمی سیاست کے باعث نادیہ اشرف کی موت کو پی ایچ ڈی ڈگری کے ساتھ منسوب کیا جارہا ہے اور اس کے لیے باقاعدہ مہم کا آغاز بھی ادارے سے وابستہ اساتذہ اور چند ملازمین نے کیا۔

نادیہ اشرف نے اپنی خود کشی سے متعلق کوئی بھی تحریر نہیں کی جس سے معلوم کیا جاسکے کہ انھوں نے کیوں اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔

مذکورہ فیکلٹی ممبر نے یہ بھی بتایا کہ ڈاکٹر پنجوانی سنٹر میں ٹینور ٹریک سسٹم پر جمشید ہاشم، سونیا صدیقی اور رضوانہ ثناء اللہ کو تعینات کیا گیا تھا تاہم ٹی ٹی ایس قواعد پورا کرنے میں ناکامی پر انھیں ادارے سے نکال دیا گیا تھا، نادیہ اشرف کی خود کشی کی مہم میں مذکورہ اساتذہ کے مبینہ طور پر شامل ہونے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔

کراچی یونیورسٹی سے ریٹائرڈ ہونے والے پروفیسر ڈاکٹر شکیل فاروقی نے تعلیمی زاویہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پی ایچ ڈی کی دوڑ غلط سمت میں نکل پڑی ہے۔ پاکستان کو پی ایچ ڈی کی بڑی تعداد کی نہیں معیار کی ضرورت ہے۔ پی ایچ ڈی کا معیار ناپنے کا کوئی آلہ نہیں بنایا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ ایچ ای سی کا یونیورسٹیز کی خود مختاری میں نقب لگاکر ناقص شرائط اور قوانین مسلط کرنا پاکستان میں پی ایچ ڈیز کی بہتات اور معیار کے انحطاط کا باعث ہے۔ اگر کوئی وزیرِ ہوابازی جیسا مخبوط الحواس ایچ ای سی کا چیئر مین بن کر بیان داغ دے تو پاکستانی پی ایچ ڈیز کو بھی دنیا مسترد کردے گی۔

ڈاکٹر شکیل فاروقی کہتے ہیں کہ صرف چند ادارے اور ان سے وابستہ پروفیسرز ہی اعلی معیار کے پی ایچ ڈی پیدا کررہے ہیں۔ لیکن ایچ ای سی کے قیام کے بعد سے اکثر طالبعلم کی اہلیت اور معیار جانچے بغیر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے داخلے دیے جارہے ہیں نتیجتاً ناکامی کی صورت میں امیدوار اپنی غلطی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ طالبعلم کے لیے وظیفے کے بغیر اور ننوکری کے ساتھ پی ایچ ڈی کرنا ناممکن ہے۔ جو لوگ کررہے ہیں وہ اپنے اور پی ایچ ڈی کے ساتھ زیادتی کررہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *