بیانیہ ذہن کو کیسے کنٹرول کرتا ہے؟

    October 27, 2016 3:00 pm PST
taleemizavia single page

نمرہ طاہر

بچپن میں مطالعہ پاکستان پڑھتے ہوئے ایک سوال نے شدت سے دماغ کو جھنجھوڑا کہ ھماری کتابیں پاکستان کی حمائیت میں بولتی ھیں تو ھندوستان کی کتابیں بھی پاکستان کے خلاف اور ھندوستان کی حمائیت میں بولتی ہوں گی؟ لیکن پھر سوچ میں آیا کہ اگر ایسا ہے تو غلط اور صحیح کا انتخاب کیسے کیا جائے ؟

پاکستانی محبت جو دل میں ڈالی گئی تھی اس کے تحت پاکستان کو تو غلط تصور نہ کر سکی اور جہاں تک بھارت کی بات ہے توسوچا کہ اس کی وجہ صرف نظریاتی پہلو کا مختلف ہونا ہے بالکل اسی طرح جیسے ایک سکے کے دو اطراف کا ہونا ہے۔

لیکن یہ بات ایک محترم استاد سے معلوم پڑی کہ کسی بھی (چیز) کے نظریے کی بنیاد “بیانیے “سے ڈلتی ہے اور یہ بیانیہ ہمیشہ طاقت ور کی طرف سے معاشی ،سماجی، سیاسی اور بعض اوقات ذاتی فوائد کے حصول کے لئے قائم کیاجاتا ہے۔

تعلیمی اصطلاح میں بیانیے کی تعریف سچی بھی اور من گھڑت بھی یہ دونوں ایسی کہانیاں ہیں جو کہ تحریر اور تقریر کی شکل میں تخلیق کی جاتی ہیں ، لیکن عام معنوں میں بیانیہ معاشرے میں کسی بھی (چیز) کے بارے میں ایک پچیدہ کلامیہ (ڈسکورس )ہے یہ کلامیہ مکمل سیاق و سباق پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ وقت اور جگہ کے ساتھ تبدیل ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں 1960ء کی دہائی میں بیانیےکو مطلق العنانیت کی وجہ سے استعارے کے طور پر لیا جاتا تھا لیکن پچھلے کچھ سالوں میں “بیانیہ” کے لفظ نے شہرت حاصل کی جس کی بڑی وجہ تعلیمی شعور کا پھیلاؤ ہے۔پاکستان کے سیاق و سباق میں کچھ مشہور بیانیے جو کہ ناصر عباس نیر نے اپنے آرٹیکل “نیریٹو ایز آ تھنگ” میں بیان کیے ھیں درج زیل ھیں؛

مغربی لوگ ترقی یافتہ اور آزاد خیال ھیں، مسلمان شدت پسند اور سائنسی تخیل کے خلاف ھیں، خواتین مردوں سے زیادہ ذہا نت رکھتی ہیں،پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا، اردو برصغیر کے مسلمانوں کی زبان ہے۔

مزید انہوں نے کہا ” کچھ ایسے بیانیے ہیں جو کے ہم اپنی روزمرہ زندگی میں سنتے اور پڑھتے ہیں،قبول اور رد کرتے ہیں، ذہن نشین اور نظر انداز کرتے ہیں”۔

یہ بھی پڑھیں:کالونیل ازم اور یورپ کی مرکزیت کا نظریہ

بیسوی صدی میں بیانیے کو مطلق العنان تصور کیا جاتا تھا یہ وہ وقت تھا جب لوگ کچھ تصورات کو اٹل حقیقت سمجھنے کے عادی تھے مثال کے طور پر پہلے کے دور میں بیکار بیٹھنا صحت مندانہ خیال نہیں سمجھا جاتا تھا۔

جیسا کہ اب بھی کئی لوگوں سے سننے میں ملتا ہے کہ خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے، لیکن برنارڈ رسل نے اس خیال کو اپنے مضمون “اِن پریز آف آئیڈلنیس” میں یہ کہہ کر جھٹلا یا کہ ایلیٹ کلاس کسی بھی معاشرے میں نئے خیالات کو جنم دیتی ہے کیونکہ ان کے پاس سوچنے کے لئے فارغ وقت میسر ہوتا ہے۔

زمین کے بارے میں سائنسی تصورات جیسا کہ ، زمیں گول ہے،زمیں سورج کے گرد گھومتی ہے،کو اٹل سمجھا جاتا تھا لیکن اس قیاس کو بھی جھٹلا دیا گیا۔اس کے علاوہ امام غزالی نےاپنی کتاب “انکوہیرنس آف فلاسفر” میں دنیا کے لافانی ہونے کے یقین کو جھٹلایا ہے۔

آئن سٹائن نے ” تھیوری آف ریلیٹوزم” پیش کر کے نئوٹن کی”ابزولیوٹ ٹائم اینڈ سپیس تھیوری” کو جھٹلایا۔یہ وہ قیاس تھے جن کو ایک وقت میں اٹل حقیقت تصور کیا جاتا تھا لیکن بعد میں انہی تصورات کو متبادل بیانیہ پیش کر کے جھٹلا دیا گیا۔

طاقت کے ٹھیکیدار بیانئے کو قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اس بات کا فیصلہ بھی انہی ٹھیکیداروں کے ہاتھ میں ہوتا ہے کہ کونسے بیانیے کو زیادہ اہمیت دینی ہے اور کون سے بیانیے کو کم اہمیت دے کر کنارے پر رکھنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا تعلیمی ڈھانچہ نوآبادیات کا تسلسل

یہی بنیادی وجہ ہے کہ تمام بیانیے ہمیشہ حقیقت پر مبنی نہیں ہوتے ۔ بعض اوقات سچے واقعات کے بیانیے کا تانا بانا بھی غیر حقیقی عناصر کے ساتھ بُنا جاتا ہے۔

محمد حنیف ایک انٹرو یو میں اپنے ناول “اے کیس آف اکسپلوڈنگ مینگوذ” جو کہ جنرل ضیاء الحق کے جہاز کے تباہ ہونے کے واقعہ پر مبنی ہے، اس واقعہ کی تصویر کشی پر وہ کہتے ہیں کہ یہ ناول نوے فی صد من گھڑت عناصر پر مبنی ہے اور تاریخ (دانوں )کا بھی حا ل اس سے کچھ مختلف نہیں ہے۔

تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جب دنیا کے طاقت وروں نے انسانیت کے پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے بیانیے کا استحصال کیا جسکی ایک بڑی مثال ایشیا میں برطانوی استعماریت ہے جس نےایک برتر شہر اور کمتر نو آبادیوں کے بیانیے کو پروان چڑھایا۔

اس کے علاوہ “نازی ازم” کی مثال ہی دیکھ لی جائے کہ ہٹلر نے کیسے اپنے ذاتی مفاد کے لیے جرمنی کے لیے اعلیٰ قوم کا بیانیہ قائم کر کے اپنی سیاسی قیادت کو مضبوط بنایا اور یہ وہی بیانیہ ہے جن کی بنیاد پر انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے اپنی جانیں قربان کیں۔

بیانیے کا استحصال صرف طاقتوروں نے ہی نہیں کیا بلکہ تعلیمی شعبے میں بھی بیانے کو خود غرض مقاصد کے لیے نصابی کتب میں استعمال کیا گیا ہے جب یونیورسٹی آف نیبراسکا کو افغانستانی سکولوں کے لیے نصاب بندی کا کام سونپا گیا تو انہوں نے اس موقع کا فائدہ روس کے خلاف نصاب میں ایسا مواد رکھ کے حاصل کیا جو کہ افغانستانی طلبا ء کو روس کے خلاف اکسائے۔

جیسا کہ ریاضی کی کتاب میں ایسے سوالات پوچھے گئے کہ اگر اپ ایک روسی فوجی سے 2کلومیٹر دور کھڑے ہیں تو بندوق کی گولی 25 میٹر فی سیکنڈ کے حساب سے روسی فوجی کے جسم میں پیوست ہونے میں کتنا وقت لے گی؟

لفظ بیانے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی ایک وجہ انسانی سوچ کا پہلے سے زیادہ آزاد ہونا ہے کہ آج کا انسان زیادہ معقول سوچ رکھتا ہے جیسا کہ برنارڈ رسل اپنے مضمون “سکپٹسزم “میں کہتا ہے کہ “کسی بھی مفروضے پر بغیر کسی توثیق کے یقین کر لینا قابلِ اعتراض ہےاور میں اس بات کو یقینا قبول کرتا ہوں کہ اگر ایسے قیاس عام ہو جائیں تو یہ ہماری معاشرتی زندگی اور سیاسی نظام کو بالکل تبدیل کر کے رکھ دیتا ہے”۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی اشرافیہ اور تعلیم کا حاکمیتی ماڈل

اسی بیانے پر اب لوگوں نے نہ صرف قیاس کو شک کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا ہے بلکہ ان پر بحث و مبا حثے کے ساتھ تحقیق کا بھی آغاز کر دیا ہے جس کا ثبوت لاہور میں موجود پاک ٹی ہاؤس ہے جو کہ دانش وروں اور ادیبوں کا گڑھ رہا ہے۔

آج کے دور میں بیانئے کی جانچ پڑتال ایک اہم معمہ ہے تا کہ چیزوں کو ان کے صحیح تناظر میں دیکھا جا سکے جیسا کہ سٹیفن کونوے “سیون ہیبٹس آف ہائلی افیکٹڈ پیپل “میں کہتا ہے ” یہ واضح سی بات ہے کہ اگر ہم معاشرے میں معمولی تبدیلیاں کرنا چاہتے ہیں تو، ہم شاید مناسب طور پر اپنے رویے پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔

لیکن اگر ہم اہم اور واضح تبدیلی کرنا چاہتے ہیں تو، ہمیں نظریات اپنے بنیادی نمونوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔لہذا بھی بیانیے کے معیار کی جانچ پڑتال کے لئے اس کا انسانیت کی لئے فا ئدہ مند ہونا ضروری ہے۔لہذا اس بیانیے کو بڑھانے کے لئے توانا جدوجہد کرنی چاہیے جو کہ انسانوں کی بڑی تعداد کے لیے فائدہ مند ہو۔


nimra-tahir

نمرہ طاہر پنجاب یونیورسٹی لاہور میں شعبہ انگریزی میں بی ایس آنرز کی طالبہ ہیں۔ وہ زبان و ادب کے مطالعہ میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔