پنجاب میں وائس چانسلر کے عہدے کا حقدار کون؟

  • February 9, 2018 2:33 pm PST
taleemizavia single page

ڈاکٹر محبوب حسین

حکومت پنجاب کی بیوروکریسی کی جانب سے سرکاری جامعات میں وائس چانسلر کی تعیناتی میں اہلیت کے نئے معیار میں تباہ کن تبدیلیاں کی گئی ہیں جس میں اساتذہ کے مقابلے میں بیوروکریٹس کی تعیناتی کی راہ ہموار کرنے کے لئے کمال مہارت کے ساتھ دھوکہ دیا گیا ہے۔

اہلیت کے نئے معیار کے مطابق ایک کوڑا اٹھانے والی کمپنی کا صرف ایم اے پاس مینیجنگ ڈائریکٹر تو کسی سرکاری جامعہ کے وائس چانسلر کی تقرری میں شارٹ لسٹنگ کے لئے ذیادہ سے ذیادہ نمبر لے سکتا ہے تاہم دنیا کی بہترین یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے ،متعلقہ شعبہ میں دنیا بھرکی سائنسی تحقیقات پر اثر انداز ہونے اور یونیورسٹیوں میں تیس تیس سال پڑھانے والے اساتذہ کو انٹرویو میں شارٹ لسٹنگ کے لئے تکنیکی طور پر نمبروں سے محروم رکھا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کی یونیورسٹیاں وہ واحد ادارہ ہیں جنھوں نے گزشتہ چند سالوں میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحقیق کے میدان میں دنیا کو حیران کر دیا ہے ۔جس کا ثبوت تھامسن رائٹرز کی 2015 کی رپورٹ ہے۔

تھامسن رائٹرز کے مطابق پاکستان کے سائنسدانوں کی تحقیقات کے حوالہ جات اور سائنسی اثر برک ممالک یعنی برازیل ، روس ، بھارت اور چین کے تمام سائنسدانوں سے مجموعی طور پر ذیادہ ہے۔

لازمی پڑھیں؛ وائس چانسلر کیلئے بیوروکریٹ،آئی ایم ایف نمائندہ بھی اہل قرار

یہ ایک غیر معمولی اور ناقابل یقین کامیابی ہے ۔ پاکستان کی سرکاری جامعات ایسی تاریخ ساز کارکردگی کا صرف اسی وجہ سے مظاہرہ کر پائی ہیں کہ وہ تاحال بیوروکریسی کے شکنجے سے آزاد رہی ہیں۔ اور یونیورسٹیوں کو وہی اساتذہ چلا رہے ہیں جو تحقیق کے کلچرکو سمجھتے ہیں۔

پاکستان کے جو محکمے بیوروکریسی چلا رہی ہے اور ان کی جو کارکردگی ہے، اس پر بحث کرنا وقت کا ضیاع ہے اور ان محکموں کی کارکردگی سے سبھی بخوبی آگاہ ہیں۔

وائس چانسلر کی تعیناتی کے لئے اہلیت کا نیا معیار بیوروکریسی کا ایک خوبصورت ڈھکوسلہ ہے۔ اہلیت کے نئے معیار میں اساتذہ کو بطور وائس چانسلر تعیناتی سے محروم رکھنے کے لئے باقاعدہ طور پر سازش کی گئی ہے۔ پنجاب حکومت کے مراسلے کے مطابق، وائس چانسلر بنیادی طور پر ایک لیڈرشپ پوزیشن ہے اس میں کمال ہوشیاری سے ’’اکیڈیمک لیڈرشپ‘‘ کا لفظ نکال دیا گیا ہے۔

صرف ’’لیڈرشپ پوزیشن ‘‘ کا لفظ استعمال کرنے سے تو ٹریڈ یونین کے صدر بھی بطور وائس چانسلر تعیناتی کے اہل ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب وائس چانسلر کی تعیناتی کے لئے امیدورار کو جن سات خوبیوں کا حامل ہونا چاہئے ان کا احوال مندرجہ ذیل ہے۔

1) Preferably earned PhD degree from a recognized institution;

اس کاصاف مطلب ہے کہ امیدوار نے ترجیحاََ پی ایچ ڈی کسی بھی منظور شدہ ادارے سے کر رکھی ہو۔ البتہ اگر امیدوار نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل نہیں کی تو کوئی مضائقہ نہیں۔ جامعات کا بنیادی مقصد نئے علم کی تخلیق ہے۔

پڑھیں؛ کیا پروفیسرز اچھوت ہیں؟

اہلیت کے نئے معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے تصور کیجئے کہ سرکاری جامعات کا سربراہ تعینات ہونے والے امیدوار نے اگر کبھی زندگی میں پی ایچ ڈی کی سطح پر تحقیق نہیں بھی کی تو کوئی مسئلہ نہیں، جیسے ہی وہ کسی سرکاری جامعہ کا سربراہ تعینات ہو جائے گی تحقیق کے سب اسرار ورموز، زیر زبر اسے ازبر ہو جائیں گے اور وہ یونیورسٹی کے تحقیقی معیار کو ترقی کی کمال بلندیوں پر پہنچانے کی صلاحیت حاصل کر لے گا ۔

ضرور پڑھیں؛ خیبر پختونخوا کی 8 یونیورسٹیز میں تعینات نئے وائس چانسلرز کا مڈ ٹرم آڈٹ

ذرا سوچئے کہ تحقیق کے نظام سے عاری شخص جب کسی جامعہ کا سربراہ بنے گا تو جامعات میں تحقیق سے متعلق پالیسی اقدامات لیتے وقت کیا حشر برپا کرے گا؟

دوسری جانب یونیورسٹی کے اساتذہ جنھوں نے دنیا بھر کے اعلیٰ ترین تعلیمی اداروں سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ تیس تیس سال سے یونیورسٹیوں میں تعلیم و تحقیق کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

کیا وہ کسی ایسے شخص کو جامعہ کا سربراہ قبول کریں گے جو نان پی ایچ ڈی ہو؟ اس اہلیت کی تشریح میں ایک اہم قابل اعتراض نکتہ یہ ہے کہ اگر کسی نے دنیا کی بہترین 500 یونیورسٹیوں سے ایم اے کر کے کسی بھی یونیورسٹی میں ایک دن بھی نہیں پڑھایا یا ایک کلاس بھی نہ لی اور ساری زندگی رئیل سٹیٹ کے شعبے سے وابستہ رہا اسے بھی 8 پوائنٹس ملیں گے جبکہ دنیا کی 500 بہترین جامعات سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے امیدوار ، جو خواہ تعلیم و تحقیق کے میدان میں 30 برس سے زائد بھی منسلک ہو ، اسے بھی 8 نمبر ملیں گے۔

2) Experience in a senior academic, research or management leadership position;

بیوروکریسی نے کمال مہارت سے لفظ مینجمنٹ استعمال کر کے اکیڈمک اینڈ ریسرچ کے تجربے کو زیرو کر دیا ہے۔ یعنی جس امیدوار کے پاس پاکستان کی نمبر 1 اور دنیا کی نمبر 1 یونیورسٹی میں تعلیم اور تحقیق کا وسیع تجربہ ہووہ ایک طرف اور پاکستان میں کسی بھی شہر کی کوڑا اٹھانے والی کمپنی میں ڈائریکٹر تعینات ہو تو دونوں امیدوار ایک برابر ہیں۔

3) Experience of working in a well-reputed organization (teaching /research/management) at a relatively senior position;

وائس چانسلر کی اہلیت کے معیار کے دوسرے نمبر پر امیدوار کی خصوصیت کو تیسرے نمبر پر ذرا تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ جس کا وہی مطلب نکلتا ہے کہ اگر آپ نے کسی یونیورسٹی میں ایک دن بھی نہ پڑھایا ہو اور کسی یونیورسٹی سے ایم اے کرنے کے بعد یونیورسٹی کی ایک دن بھی شکل نہ دیکھی ہو۔

جانیئے؛ پاکستانی تاریخ میں پہلے ہندو وائس چانسلر کی سرکاری جامعہ میں تقرری

بس آپ نے کسی غیر معروف بین الاقوامی تنظیم جس کا تعلیم سے دور دور تک واسطہ بھی نہ ہو اس میں ایم ڈی کی سطح پر کام کیا ہو تو آپ اس امیدوار کے بالکل برابر ہیں جس نے ساری زندگی کسی یونیورسٹی میں تعلیم و تحقیق کرتے گزار دی ہو جس کا اوڑھنا بچھونا تعلیم و تحقیق ہو اور جو یونیورسٹی میں سینئر انتظامی پوزیشنز پر کام کرنے اور یونیورسٹی کے معاملات چلانے کا تجربہ رکھتا ہو ۔

4) Demonstrated capability for mobilizatoin of financial resources from national/international agencies

وائس چانسلر کے امیدوار کی چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے پاس قومی اور بین الاقوامی ایجنسیوں سے حاصل کردہ مالی وسائل کو محرک / استعمال کرنے کی صلاحیت ہو۔

اسی نوٹیفیکیشن میں آگے چل کر بتایا گیا ہے کہ جس امیدوار کے پاس پچاس کروڑ روپے سے زائد کے منصوبے چلانے کا تجربہ ہو گا اسے شارٹ لسٹنگ کے مرحلے میں 5 پوائنٹس کے ساتھ نوازا جائے گا۔ خس کم جہاں پاک! بھلا کسی یونیورسٹی کے پروفیسر موصوف نے کبھی پچاس کروڑ کی شکل بھی دیکھی ہے ؟ بھلا یونیورسٹی کے کسی پروفیسر کو حکومت کی جانب سے 50 کروڑ روپے کا تحقیقی منصوبہ آج تک کبھی دیا گیا ہے؟

صاف ظاہر ہے کہ اہلیت کے اس معیار میں واضح طور پر بیوروکریسی کو نوازنے اور اساتذہ کو وائس چانسلر کی دوڑ سے باہر نکالنے کے لئے اہلیت کے معیار میں تباہ کن تبدیلی کی گئی ہے۔

5) Demonstrated/documented experience of establishing new organizations or restructuring existing organizations/departments;

عام فہم بات ہے کہ اگر آپ کو کسی جامعہ کا سربراہ تعینات کرنا ہے تو یقیناًآپ کو ایسے شخص کی تلاش ہونی چاہئے جس نے کسی اعلیٰ تعلیمی ادارے میں کوئی نیا ادارہ قائم کیا ہو یا پہلے سے قائم شدہ کسی تعلیمی ادارے کی از سر نو تشکیل دی ہو یا اصلاحات متعارف کرائی ہوں۔ اب بیوروکریسی کا ستم دیکھئے۔

دیکھیں؛ پنجاب: مستقل وائس چانسلرز کی تقرری کیلئے سرچ کمیٹی کے اختیارات فائنل

کہ ایک جانب وہ پروفیسر پی ایچ ڈی امیدوارہے جس نے کوئی نئی یونیورسٹی بنائی ہو یا کوئی ریسرچ سنٹر قائم کیا ہویا بین الاقوامی معیار کی کوئی ریسرچ لیبارٹری قائم کی ہو تو وہ اس ایم اے پاس امیدوار کے برابر ہے جس نے ساہیوال صاف پانی کی فراہمی ایک ’’اعلیٰ پائے ‘‘کی کمپنی قائم کی ہو ۔ واہ رے بیوروکریسی تیری پھرتیاں

6) Distinguished research and publications record;

وائس چانسلر کی تعیناتی میں امیدوار اس خصوصیت کا حامل ہو کہ اس کا منفرد تحقیقی اور پبلیکیشنز کا ریکارڈ ہو۔ مذکورہ نوٹیفیکیشن میں بیوروکریسی نے اس اہلیت کی تعریف کچھ یوں کی ہے کہ اگر کسی امیدوار نے دنیا کی سب سے بلند معیار کے تحقیقی جرائد میں ایسی ریسرچ شائع کی ہے، جو اس سے قبل دُنیا کے کسی سائنسدان نے نہیں کی اور وہ اس تحقیق کا یو ایس پیٹنٹ حاصل کر چکا ہے۔

اُس کی یہ ریسرچ وائس چانسلر کے عہدے کے لیے اُس اُمیدوار کے برابر تصور ہوگی جس نے لاہور کے اُردو بازار کے کسی معروف پبلشر کی شائع ہونے والی کتاب چیخ و پکار میں صرف ایک چیپٹر لکھا ہو۔

اس بات کو مذاق مت سمجھئے بلکہ مذکورہ نوٹیفیکیشن کے صفحہ نمبر دو کے کالم تین اے کو پڑھ لیں۔ اس کالم کی تعریف میں وہ امیدوار بھی 10 نمبر لینے میں کامیاب ہو جائے گا جس نے زبوں حالی کا شکار کسی کوڑا اٹھانے والی کمپنی میں اصلاحات متعارف کرانے کے لئے ایک پالیسی ڈاکیومنٹ تیار کیا ہو۔ یقین نہیں آ رہا نہ؟ براہ مہربانی نوٹیفیکیشن کی مذکورہ شق ایک مرتبہ ضرور پڑھ لیں۔

7) Earned awards/honors at national/international level;

وائس چانسلر تعیناتی میں امیدواروں کی اہلیت جانچنے کا یہ معیار بھی بہت سے ابہام کا شکار ہے مذکورہ نوٹیفیکیشن کی کلاز تین بی میں اس کی کسی قسم کی تعریف نہ کر کے اور خالی خانہ چھوڑ کر بہت سے شکوک و شبہات پیدا کر دئیے گئے ہیں۔

پڑھیں؛ قراقرم یونیورسٹی میں وائس چانسلرکیلئے پی ایچ ڈی کی شرط ختم

اس امر کی تعریف بھی نہیں کی گئی کہ کس معیار کے حامل ایوارڈز کو تسلیم کیا جائے گا۔ یعنی اگر کسی جعلی یا معمولی سے بین الاقوامی ادارے سے اگر کسی نے جعلی ایوارڈ حاصل کیا ہویا تمباکو نوشی سے بچنے کے آگاہی سٹالز لگانے پر کسی بھی ادارے سے کوئی ایوارڈ حاصل کیا ہو، اسے بھی 5 نمبر ملنے کی بھرپور توقع ہے خواہ اس نے تعلیم و تحقیق کے شعبے میں سرے سے کوئی کام کیا ہی نہ ہو۔

اس بات سے قطع نظر کہ بیوروکریسی کا یہ اقدام پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو تحقیق کے کلچر سے دور کرنے کی کوئی بین الاقوامی سازش ہے یا پھر بیوروکریسی کی یونیورسٹیوں کے وسائل پر نظر ہے، یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ پاکستان کی یونیورسٹیاں اس وقت تحقیق کے میدان میں دنیا کو اپنی کارکردگی سے حیران کر رہی ہے۔

ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی حال ہی میں جاری ہونے والی ایشیا رینکنگ میں بھی پاکستان کی یونیورسٹیوں نے گزشتہ برس سے بھی بہتر کارکردگی دکھائی ہے ٹائمز ہائر ایجوکیشن کے ایڈیٹوریل ڈائریکٹر آف گلوبل رینکنگز فل باٹے کا موٗقر انگریزی اخبار دی نیوز میں چھ فروری کو شائع ہونے والا یہ بیان پاکستان کی یونیورسٹیوں کی شاندار کارکردگی کا کھلا اعتراف ہے۔

“It is fantastic achievement that Pakistan now has 10 universities in the Asia rankings and that its two leading universities have risen up the table.”

یونیورسٹیوں کی یہ کارکردگی صرف اسی لئے بہتر ہے کہ یہ تا حال بیوروکریسی کی شکنجے سے آزاد ہیں وہ بیورو کریٹس اپنے محکمے نہیں چلا سکتے اور عوام کو ریلیف نہیں دے سکتے انہیں جامعات کی سربراہی سونپنے کا یہ اقدام ناقابل فہم ،تعلیم دشمنی اور بدنیتی پر مبنی ہے۔

یونیورسٹیوں میں اساتذہ اپنی زندگی گزارتے ہیں اور وہ بیورکریٹس جنھوں نے تعلیم حاصل کرنے کے بعد زندگی میں کبھی یونیورسٹی کا منہ نہیں دیکھا ان کو سرکاری جامعات کا سربراہ تعینات کرنے کے لئے راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

ضرور پڑھیں؛ تعلیمی انقلاب، سید بابر علی اور نواز لیگ

افسوسناک امر یہ ہے کہ سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کی تعیناتی کے لئے امیدوار کو جن خصوصیات پر نمبر ملنے چاہئیں ان میں سے ایک بھی اہلیت کے معیار میں شامل نہیں ۔ مثلاَ؛

دنیا کی ٹاپ یونیورسٹیوں سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کرنے کا کوئی صلہ نہیں ۔ یا زائد تحقیقی منصوبوں یا ایم فل پی ایچ ڈی مقالوں کی نگرانی کرنے کا کوئی صلہ نہیں ۔ یونیورسٹی میں دہائیوں کے تدریسی تجربے کا کوئی صلہ نہیں۔ متعلقہ تعلیمی و تحقیقی میدان میں کوئی منفرد اعزاز حاصل کرنے کا کوئی صلہ نہیں ۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے بہترین استاد قرار دئیے جانے کا کوئی صلہ نہیں۔

موقر جرائد کے ادارتی بورڈز میں شامل ہونے یا تحقیقی جرائد شائع کرنے کا کوئی صلہ نہیں۔

بیوروکریسی کی جانب سے کی جانے والی اس سازش کے تحت جس امیدوار نے ایک دن بھی یونیورسٹی میں نہیں پڑھایا، ایک تحقیقی منصوبے کی نگرانی نہیں کی وہ وائس چانسلر تعینات ہونے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جو کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ایک گھناوٗنا کھیل کھیلا گیا ہے۔

اگر پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ یہ سازشیں بند نہ کی گئیں اور ان کی مالی سرپرستی نہ کی گئی تو ہمیں بھول جانا چاہئے کہ پاکستان کا مستقبل کبھی روشن ہو سکتا ہے۔ کیونکہ یہ نالج اکانومی کا دور ہے۔ آج وہی قومیں ترقی یافتہ ہیں جن کی یونیورسٹیاں ایسی سازشوں اور دخل اندازی سے پاک ہیں اور تحقیق پر گامزن ہیں۔


mehboob hussain final

ڈاکٹر محبوب حسین شعبہ تاریخ، پنجاب یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں اور یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے منتخب ممبر ہیں۔

  1. بہت اعلی۔ کمال مہارت سے آپ نے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا ھے۔ آپکی سوچ داد تحسین کی مستحق ھے۔

  2. محترم ڈاکٹر محبوب صاحب آپ نے انتہای اہم معاملے پر توجہ دلائی ہے۔ ہمارے تعلیمی شعبہ جات کو تباہ کرنے کا یہ گھنونا منصبہ ایک عرصہ سے لاگو کر دیا گیا ہے جس ک نتیجہ میں ہم سرکاری سکولز اور کالجز سے پہلے ہی ہاتھ دھو چکے ہیں۔نتیجتاً پرائوٹ سیکٹر نے تعلیم کو کاروبار بنا رکھا ہے اور یہی کچھ اب پبلک سکٹر ینیورسٹز کے ساتھ کرنے کی کوشیش کی جا رہی ہے۔ ہمیں ہر حال میں اپنے وطن کی تعمیرو ترقی میں فعال رہ جانے والے ان اداروں کو بچانا ہو گا۔

  3. Dr. Mahmood Hussain,
    You have really unveiled the insincere intentions of bureaucracy with a sound support of references in a lucid manner. Being university teachers, we can’t accept any bureaucrat as vice chancellor who is non PhD and has no experience of teaching and research in university.

Leave a Reply to Dr. Ghulam Fatima Cancel reply

Your email address will not be published.