تعلیمی انقلاب، سید بابر علی اور نواز لیگ

  • July 18, 2017 12:39 pm PST
taleemizavia single page

اکمل سومرو

پنجاب میں مسلم لیگ نواز کی حکومت کو دس سال مکمل ہونے کو ہیں اور یہ تسلسل کے ساتھ دوسری مدت ہے جو پوری ہونے جارہی ہے۔ حکومتوں کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے پانچ سالہ ترقیاتی منصوبوں کو پرکھا جاتا ہے اور حکومت خود بھی ان پانچ سالہ ترقیاتی سکیموں کے مکمل ہونے کی بناء پر نئے الیکشن کی تیاری پکڑتی ہے۔

اہل اقتدار سے لے کر اہل دانش کا مجموعی مزاج سیاست زدہ ہے اور اس سیاست زدہ مزاج کے باعث سوچ کی اُٹھان سیاسی مسائل سے اُوپر جانے سے گریزاں ہوتی ہے۔ 2013ء میں مسلم لیگ نواز کے منشور میں تعلیم پہلی ترجیح تھی جس کی بناء پر پنجاب میں پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب کی تعلیمی مہم لانچ کی گئی یہ مہم اگرچہ اشتہارات کی حد تک بہت زیادہ کامیاب رہی۔

لیکن حکومت سکولز سے وہ نتائج برآمد کرنے میں ناکام رہی جس کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس مہم کا دائرہ کار سرکاری سکولز میں اینرولمنٹ بڑھانا اور شرح خواندگی کے اہداف کو پورا کرنا تھا جو کہ بُری طرح فلاپ ہوگئی۔

جب یہ تعلیمی مہم اپنے اہداف پورے نہیں کر سکی تو پھر پنجاب حکومت نے زیور تعلیم کے نام سے ایک اور مہم کا آغاز کیا اگرچہ پنجاب ایجوکیشنل اینڈومنٹ فنڈ کے ذریعے سے پہلے بھی طلباء کی تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے معاونت کی جارہی ہے لیکن اس مہم کے ذریعے سے یہ تاثر دیا گیا کہ حکومت سکولوں میں ایک اور انقلاب برپا کرنے جارہی ہے۔

یہ پڑھیں؛ پاکستان کا نظام تعلیم اور ذہنی آزادی کا تصور

مسلم لیگ نواز کے گزشتہ دور حکومت میں 2010ء میں سرکاری کالجوں میں بھی انقلاب برپا کرنے کی ٹھانی گئی اور پھر چار سالہ بی ایس آنرز پروگرام 26 کالجوں میں شروع کیا گیا لیکن آج 7 سال بعد بھی اس پروگرام سے وابستہ اساتذہ کی نہ تو ٹریننگ کرائی گئی اور نہ ہی کالجوں میں سائنس، کمپیوٹر لیبز کو اپ گریڈ کیا گیا۔

ناقص امتحانی نظام کے باعث طلباء نے جو ڈگری چار سال میں مکمل کرنا تھی وہ چھ سال میں مکمل ہوئی۔ اس کے علاوہ سرکاری کالجوں میں تعلیمی انقلاب کا خواب نہیں دیکھا گیا البتہ ڈینگی مار مہم سرکاری کالجوں میں ہٹ لسٹ پر رہی۔

اب ذرا سرکار کی یونیورسٹیوں کے ساتھ بے رحمی کا جائزہ لے لیں۔ اس وقت پنجاب کی جنرل، انجینئرنگ اور میڈیکل یونیورسٹیز اپنے تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہی ہیں۔ خادم اعلیٰ کو دیگر سیاسی منصوبہ جات سے فرصت نہ ہونے کی وجہ سے یونیورسٹیاں تباہی کے دہانے پر ہیں۔

اب کیا یہ سوچی سمجھی ترغیب کے تحت سرکاری جامعات کو بحران کا شکار کیا جارہا ہے یا پھر حکومت کی ترجیح میں اعلیٰ تعلیم شامل نہیں ہے؟ اندازہ لگائیں کہ پنجاب کی 27 سرکاری یونیورسٹیوں میں سے 14 یونیورسٹیاں مستقل وائس چانسلر کی منتظر ہیں۔

اس خطے کی قدیم ترین یونیورسٹی، جامعہ پنجاب جنوری 2016ء سے لاوارث ہے اور ورلڈ بنک کے سابقون اس کے وارث بن گئے حکومت کو کانوں کان خبر تک نہ ہوئی۔ اس جامعہ کو مستقل وائس چانسلر سے محروم رکھنا کس کا ایجنڈا ہے حکومت کا یا پھر کسی اور کا؟

یہ بھی پڑھیں؛ پنجاب کے بھٹہ سکول بمقابلہ لاہور نالج پارک

چلیں چھوڑیں، اس خطے میں خواتین کی قدیم ترین میڈیکل کالج (فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی) کی ڈگریوں کی تصدیق سے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے انکار کر دیا ہے کیونکہ یہ ادارہ یونیورسٹی کے معیار پر ہی پورا نہیں اُترتا لیکن خادم اعلیٰ اور مشیران حکومت کو پہلے میٹرو بس اور اب اورنج ٹرین یا پھر سیاسی مخالفین پر لفظی حملوں سے فرصت ہوتو وہ اس طرف دھیان دیں۔

پڑھتا جا اور شرماتا جا، لاہورکالج فار ویمن یونیورسٹی پہلے تو دو سال تک مستقل وائس چانسلر سے محروم رہی لیکن جب مستقل وائس چانسلر تعینات کیا گیا تو محکمہ ہائر ایجوکیشن نے جان بوجھ کر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کی گردن پر تلوار لٹکا دی جس کا آفٹر شاک یہ ہے کہ عدالت میں ان کی تعیناتی کو چیلنج کر دیا گیا ہے۔

پڑھیں؛ لمز کے پرو چانسلر سید بابر علی کو پرنس فلپ کا ایوارڈ کیوں؟

تعلیمی انقلاب کا قصہ ابھی ختم ہوا۔ پنجاب کی واحد انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی لاہور میں بھی 6 مہینے سے مستقل وائس چانسلر نہیں ہے۔

خادم اعلیٰ نے ڈاکٹر عمر سیف کو عارضی چارج دے رکھا ہے اور اسی عارضی سیٹ اپ میں طلباء کے داخلے بھی کر لیے گئے ہیں۔ پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب میں لاہور کی حالت یہ ہے کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج (یونیورسٹی) کو اساتذہ کی بدترین کمی کا سامنا ہے اور اساتذہ کی 84 سیٹیں خالی پڑی ہیں لیکن کس سے دھائی کریں؟

جنوبی پنجاب میں غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں وائس چانسلر کا عہدہ خالی پڑا ہے۔ مسلم لیگ نواز کی حکومت تو اتنی ظالم ہوگئی ہے کہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے نام پر ملتان میں قائم کی گئی انجینئرنگ یونیورسٹی کو بھی وائس چانسلر نصیب نہیں ہوسکا(ویسے مجھے تو نواز شریف کے نام پر یونیورسٹی کانام رکھنے پر ہی احتجاج ہے کہ آج تک تعلیم کے لیے عوام پر ذاتی جیب سے ایک روپیہ خرچ نہیں کیا)۔

جانیئے؛ استعماری اجارہ داری بذریعہ تعلیم و زبان

حکومت نے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا ٹارگٹ پورا کرتے ہوئے اوکاڑہ اور ساہیوال میں بھی ایک ایک یونیورسٹی بنانے کی منظوری دی لیکن الحمد للہ یہاں پر بھی ابھی تک وائس چانسلر نہیں لگائے گئے۔

پنجاب ملک کا ترقی یافتہ صوبہ ہے لیکن یہاں پر اعلیٰ تعلیم پسماندگی کی جانب گامزن ہے۔ سکولز ایجوکیشن سے تو مسلم لیگ نواز نے پہلے آٹھ ہزار سرکاری سکولوں کی نجکاری کی اور اب مزید دس ہزار سکولوں کی نجکاری کر رہی ہے تاکہ یہ اعتراض ہی ختم ہوجائے کہ سرکاری سکولوں کی چار دیواری، فرنیچر، بجلی نہیں ہے جب سکول ہی ریاست کی ذمہ داری نہیں ہوں گے تو حکومت کیسے جواب دے گی؟

تعلیمی انقلاب کے نفاذ کے لیے البتہ خادم اعلیٰ کی جانب سے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی سرپرستی میں ایسی کمیٹی ضرور تشکیل دے دی ہے جو وائس چانسلر تقرری کا نیا طریقہ کار وضع کرے گی۔

رانا ثناء اللہ کا ہائر ایجوکیشن کے ساتھ دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے، لیکن اُنہیں وائس چانسلر تقرری کی ہائی پروفائل کمیٹٰی کا سربراہ بنانے میں کیا منطق ہے؟ کیا وہ وزیر اعلیٰ کے بعد صوبے کے طاقتور ترین شخص بن گئے ہیں؟ یہ وہی رانا ثناء اللہ ہیں جو 2014ء میں اسلامیہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر محمد مختار کو دوسری بار تقرری کے لیے رکاوٹ بنے اورانٹرویوز کے دوران ڈاکٹر محمد مختار پر سب سے بڑا اعتراض یہ لگایا گیا کہ جناب وزیر قانون کو جنوبی پنجاب میں یونیورسٹی کا سب کیمپس بنانے کے لیے آکموڈیٹ کیوں نہیں کیا گیا تھا؟ بس اُس کے بعد ڈاکٹر مختار کی چھٹی کرا دی گئی اور وہ آج کل دُبئی میں امریکی یونیورسٹی کے سربراہ ہیں۔

جانیئے؛ پاکستان کی اشرافیہ اور تعلیم کا حاکمیتی ماڈل

پنجاب حکومت بلکہ مسلم لیگ نواز کے دور کی بدترین شخصی آمریت کے باعث اعلیٰ تعلیمی ادارے بربادی کی طرف جارہے ہیں اور اس کے مہروں میں ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی، امریکی فنڈز سے تعمیر شدہ لمز کے مالک سید بابر علی اور بعض بیوروکریٹس ہیں۔ سید بابر علی پنجاب میں متعدد تعلیمی کمیٹیوں کے سربراہان اور اہم تعلیمی اداروں کے بورڈ آف گورنرز کا حصہ ہیں۔ نواز لیگ کے اس تعلیمی انقلاب کا نقطء انجام مخصوص طلباء تنظیموں کے جامعات میں راج کے سواء کچھ نہیں ہوگا۔


akmal-dawn

اکمل سومرو سیاسیات میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ تاریخ اور ادب پڑھنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔وہ لاہور کے مقامی ٹی وی چینل کے ساتھ وابستہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *