پنجاب: نئی ہائیر ایجوکیشن پالیسی مرتب کرنے کا ٹاسک “لمز” کو سُپرد

    November 6, 2018 9:25 pm PST
taleemizavia single page

لاہور: آمنہ مسعود

محکمہ ہائیر ایجوکیشن پنجاب نے وزیر ہائیر ایجوکیشن کی ہدایات پر صوبے میں نئی ہائیر ایجوکیشن پالیسی مرتب کرنے کے لیے چھ ورکنگ گروپس تشکیل دیے ہیں۔ وائس چانسلرز اور پروفیسرز پر مشتمل یہ گروپس اپنی سفارشات محکمہ کو ارسال کریں گے۔ تمام ورکنگ گروپس کا سربراہان لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے پروفیسرز کو تعینات کیا گیا ہے.

ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر ہائیر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں کی ہدایت پر لمز کے اساتذہ کو ہر گروپ میں نمائندگی دی گئی ہے اور ان گروپس کا فوکل پرسن بھی وزیر کی ہدایت پر تعینات کیا گیا ہے. محکمہ ہائیرایجوکیشن کے تشکیل کردہ ورکنگ گروپس یہ ہیں؛

Group1: Exploring Access, Equity & Affordability Dimensions of Higher Education Sector

اس گروپ کا فوکل پرسن لمز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد احسن رانا جبکہ وائس چانسلر ایجوکیشن یونیورسٹی ڈاکٹر رؤوف اعظم، ایڈیشنل سیکرٹری پلاننگ اینڈ بجٹ اور ڈائیریکٹر پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن نعمان مقبول ممبرز مقرر کیے گئے ہیں۔

Group 2: Reforming College Education; Idea of Community Colleges and other Approaches for better Employability

اس گروپ کا فوکل پرسن لمز کے پروفیسر ڈاکٹر جمشید حسن خان جبکہ وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر نیاز احمد اختر، لمز کے پروفیسر ڈاکٹر عدیل ظفر، ڈپٹی سیکرٹری محکمہ ہائیر ایجوکیشن اور ڈائیریکٹر پی ایچ ای سی زینب سراج مبرز مقرر ہوئے ہیں۔

Group 3: Qualifications, Courses & Curricula Standardization

اس گروپ کا فوکل پرسن لمزکے سکول آف ایجوکیشن سے ڈاکٹر طاہر اندرابی، لمز سے پروفیسر ڈاکٹر مریم چغتائی، محکمہ ہائیر ایجوکیشن پنجاب سے ڈاکٹر فرحان عبادت یار خان، جی سی یو لاہور کی کوالٹی اینہانسمنٹ سیل کی ڈائیریکٹر ارم سہیل اور ڈائیریکٹر پی ایچ ای سی سدرا مقبول ممبر مقرر کی گئی ہیں۔

Group 4: Faculty Development for better learning and Research Outcomes

اس گروپ میں لمز کے پروفیسر ڈاکٹر فرید ظفر فوکل پرسن، ڈین جی سی یو ڈاکٹر طاہر کامران، ایڈیشنل سیکرٹری ایسٹیبلشمنٹ محکمہ ہائیر ایجوکیشن اور ڈائیریکٹر پی ایچ ای سی سید موسیٰ حسن ممبر مقرر ہوئے ہیں۔

Group: 5: Fostering Research, Innovation and Developing Partnership with Businesses

اس گروپ میں لمز کے پروفیسر ڈاکٹر عارف نذیر بٹ، وائس چانسلر جی سی یونیورسٹی ڈاکٹر حسن امیر شاہ، لمز سے پروفیسر فرید ظفر، ایڈیشنل سیکرٹری اکیڈمکس محکمہ ہائیر ایجوکیشن پنجاب اور ڈائیریکٹر پی ایچ ای سی طاہر بشیر ممبر مقرر ہوئے ہیں۔

Group 6: Examinations & Assessment Systems

اس گروپ میں لمز کے پروفیسر ڈاکٹر فیصل باری فوکل پرسن، کنٹرولر امتحانات پنجاب یونیورسٹی رؤوف نواز، پرنسپل ٹاؤن شپ کالج ڈاکٹر اعجاز بٹ، ڈپٹی سیکرٹری بورڈز محکمہ ہائیر ایجوکیشن پنجاب نعمان جمیل، سیکرٹری لاہور بورڈ ریحانہ الیاس اور پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے ڈاکٹر سید شہباز حسین شمسی کو ممبر تعینات کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

لمز بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین عبد الرزاق داؤد عمران خان کے مشیر مقرر
لمز کے پروچانسلر سید بابر علی کو پرنس فلپ نے ایوارڈ کیوں دیا؟
لمز کے طلباء کا دورہ ربوہ ڈاکٹر تعمور رحمان کے “رنگ پراجیکٹ” کا حصہ

مذکورہ ورکنگ گروپس کے سیکرٹریز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ گروپ کے فوکل پرسن کی مشاورت سے سفارشات تیار کریں گے اور ان سفارشات پر مبنی ڈرافٹ وزیر ہائیر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں کو 19 نومبر کو پیش کیا جائے گا۔

ماہرین تعلیم نے نقطہ اُٹھایا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نجی اداروں‌ کو سرکاری اداروں‌ پر فوقیت دے رہی ہے جس کے باعث سرکاری اداروں کے منتظمین اور اساتذہ میں‌ تشویش کی لہر پیدا ہوگی. سرکاری یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ وزیر ہائیر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں Myer’s کالج چلاتے ہیں وہ اس پرائیویٹ ادارے کے چیئرمین ہیں اور وہ اپنے ذاتی مراسم کی بناء پر نجی یونیورسٹی کو ہر کمیٹی میں‌ نمائندگی دے رہے ہیں.

ایک اور وائس چانسلر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹیوں میں صرف تین سرکاری یونیورسٹیوں‌ کو نمائندگی دی گئی ہے اور تینوں‌ کا تعلق لاہور سے ہے جبکہ باقی پنجاب کی یونیورسٹیوں‌ کو نظر انداز کر دیا گیا ہے. انھوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں‌ ہائیر ایجوکیشن کے مسائل زیادہ ہیں‌ جبکہ کمیٹی میں‌ جنوبی پنجاب کی ایک یونیورسٹی کو بھی نمائندگی نہیں‌ دی گئی.

اُن کا کہنا ہے کہ سرکاری یونیورسٹیوں‌ کے 22 ویں گریڈ کے وائس چانسلرز کو نجی یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسرز کے ماتحت کرنا توہین ہے اور یہ سرکار کی جانب سے جان بوجھ کر کیا گیا ہے.