آکسفرڈ، کیمبرج میں پی ایچ ڈی تھیسز کی خرید و فروخت کا انکشاف

    April 3, 2019 11:48 pm PST
taleemizavia single page

رپورٹ: تعلیمی زاویہ

برطانیہ میں تعلیم کا بڑا سیکنڈل منظر عام پر آگیا ہے. رقم دو تھیسز لو. پی ایچ ڈی سکالرز کو تھیسز فروخت کرنے کے لیے آن لائن ملز کی پیش کش پر اسٹنگ آپریشن نے برطانیہ کی دو بڑی یونیورسٹیوں کی ساکھ دائو پر لگا دی ہے.

برطانیہ میں آن لائن کمپنیوں کی جانب سے طلبا کے لیے تھیسز لکھنے کی پیش کش کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ برطانوی اخبار میل آن لائن کے صحافی نے کمپنیوں پر اسٹنگ آپریشن کیا۔

برطانیہ کی تین کمپنیاں تھیسز فروخت کرنے میں‌ ملوث ہیں. ان میں King’s Academic Help, PhD Dissertation and British Dissertation Editors, شامل ہیں. یہ کمپنیاں 2,559 سے 6,173 پائونڈز تک کی قیمت میں تھیسز لکھنے کی سہولت فراہم کر رہی ہیں.

شیکسپئر کے ناولز پر مقالہ ہو یا نفسیاتی امور کے تجزیوں کا، سب ملے گا۔ آن لائن ملز کے مطابق طالبِ علم کا کام صرف پہلے صفحے پر اپنا نام لکھنا ہے۔ پی ایچ ڈی کے لیے 80 ہزار الفاظ پر مشتمل اچھا مقالہ چار ماہ میں تیار ہو جاتا ہے، جس کی قیمت 11 لاکھ روپے ہے۔

روزانہ سو آرڈر ملتے ہیں، جن میں 15 سے 20 پی ایچ ڈی کے ہوتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق وہ سالانہ 12 ہزار برطانوی طلبہ کو مقالے بیچ رہے ہیں۔ جن میں سے 50 خریدار آکسفرڈ اور کیمبرج میں پی ایچ ڈی کے طلبہ ہیں۔

آکسفرڈ اور کیمبرج نے لکھے لکھائے مقالوں پر پی ایچ ڈی ڈگری دینے کا الزام مسترد کر دیا ہے۔ 46 یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز نے چیٹنگ ویب سائٹس کے خلاف پچھلے برس وزیر تعلیم کو خط لکھا تھا۔

برطانیہ میں معیار کو پرکھنے والی ایجنسی سے منسلک گیرتھ کراسمین کا موقف اِس بارے میں سخت ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اِس طرح طالبِ علم نہ صرف اپنی تعلیم کو خراب کرتے ہیں بلکہ اِس کے بڑے نقصانات بھی ہیں۔

‘یہ لوگ مجموعی طور پر معاشرے کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں کیونکہ کوئی نہیں چاہے گا کہ افرادی قوت میں ناکافی تعلیمی استداد رکھنے والے بھی شامل ہوں۔