لمز کے پروچانسلر سید بابر علی کو پرنس فلپ نے ایوارڈ کیوں دیا؟

    June 14, 2017 8:24 pm PST
taleemizavia single page

ویب ڈیسک

پاکستان سوسائٹی ایوارڈ پرنس فلپ، ڈیوک آف ایڈنبرا نے سید بابر علی کو دیا ہے۔ یہ ایوارڈ سید بابر علی کی پاکستان اور برطانیہ کے مابین مضبوط تعلقات کے فروغ میں کردار پر دیاگیا ہے۔ یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ یہ ایوارڈ ایسے شخص کو دیا گیا ہے جو برطانیہ میں رہائش پذیر نہیں ہے۔

سید بابر علی نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اشتراک سے پاکستان میں بہت سارے پراجیکٹس لانچ کر رکھے ہیں جبکہ امریکہ کی سرپرستی میں1985ء میں قائم کیے گئے لمز کے وہ پرو چانسلر بھی ہیں۔ 1992ء میں اُنہوں نے علی انسٹیٹیوٹ لاہور قائم کیا جبکہ وہ اس وقت ایچی سن کالج، کینئرڈ کالج اور لاہور سکول آف اکنامکس کے بورڈ آف گورنرز کے ممبر ہیں۔

سید بابر علی پنجاب میں وائس چانسلرز سرچ کمیٹی کے چیئرمین بھی تعینات ہیں اور وہ صوبے کی تمام سرکاری یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز تقرری کے لیے اُمیدواروں کے انٹرویوز کرتے ہیں۔

babar ali2

سید بابر علی ساؤتھ ایشیا انیشیٹو آف ہارورڈ یونیورسٹی کے فاؤنڈنگ ممبر اور نیپال میں قائم ساؤتھ ایشیا سنٹر فار پالیسی اسٹڈیز کے کو چیئر ہیں۔ سید بابر علی 1993ء میں پاکستان کے وزیر فنانس، اکنامک آفیئرز اینڈ پلاننگ بھی رہے ہیں۔

سید بابر علی 1996ء سے لے کر 1999ء تک ڈبلیو ڈبلیو ایف کے صدر بھی رہے ہیں اس سے پہلے پرنس فلپ اس تنظیم کے صدر تھے۔

پاکستان سوسائٹی ایوارڈ کا آغاز 2004ء میں ہوا تھا جس کا بنیادی مقصد پاکستان سے متعلق برطانیہ میں پبلک نالج کو فروغ دینا تھا۔ پاکستان سوسائٹی کا قیام 1951ء میں لندن میں ہوا اس وقت اس تنظیم کے چار سو ممبران ہیں۔ اس سوسائٹی کے پیڑن پرنس فلپ ہیں۔

babar ali

ایوارڈ دینے کے لیے خصوصی عشائیہ کا انعقاد ہوا یہ عشائیہ عالیشان محل میں ہوا۔ ڈیوک آف ایڈنبرا پرنس فلپ، دو سابق ہائی کمشنر مارک لائل گرانٹ اور ملیحہ لودھی نے بھی شرکت کی۔ مارک لائل گرانٹ نے عشائیہ پر بتایا کہ پاکستان دوسرا بڑا ملک ہے جسے یو کے ایڈ دی جارہی ہے۔ اس عشائیہ میں اُردن کی شہزادی ثروت الاحسان اور لارڈ میئر آف لندن بھی موجود تھے۔

عشائیہ کے شرکاء میں ایک پمفلٹ بھی تقسیم کیا گیا جس کا عنوان تھا؛ شیئرڈ ہسٹری، شیئرڈ فیوچر۔ اس پمفلٹ میں پاکستان کی چھ نامور خواتین کا پروفائل بھی درج تھا۔ جس میں مادر ملت فاطمہ جناح، بیگم شائستہ اکرام اللہ، زینت راشد، بلقیس بانو ایدھی، ملیحہ لودھی اور ملالہ یوسفزئی شامل ہیں۔

اس عشائیہ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم 2 ارب پاؤنڈز سالانہ ہے جبکہ اس وقت پاکستان میں 100 برطانوی کمپنی کام کر رہی ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *