وزیر تعلیم سندھ کی پرچے آئوٹ ہونے پر انکوائری کمیشن بنانیکی سفارش

    April 30, 2019 9:15 am PST
taleemizavia single page

کراچی: صوبائی وزیرتعلیم سردارعلی شاہ نے سندھ کے تعلیمی بورڈزکی کنٹرولنگ اتھارٹی ’’محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز‘‘ کی جانب سے میٹرک اور انٹر کے امتحانات کے شفاف انعقاد میں کردار ادا نہ کرنے کے سبب مسلسل پرچے آؤٹ ہونے کے معاملے پر خاموشی توڑ دی۔

وزیراعلیٰ سندھ کو خط کے ذریعے اس حوالے سے انکوائری کمیشن تشکیل دے کرپرچے آؤٹ ہونے کے معاملے کی غیرجانبدار تحقیقات کی سفارش کردی.

سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ریاض الدین احمد اپنی عدم دلچسپی کے سبب سندھ میں امتحانات کے بہتر اور شفاف انعقاد کے لیے اپناکردارادا کرنے سے تاحال قاصر ہیں ان کی جانب سے انٹربورڈ کراچی میں بے ضابطگیوں کے پے درپے واقعات سامنے آنے کے باوجود ان معاملات پر کوئی تحقیقات ہی نہیں کی گئی۔

تعلیمی بورڈزکاکنٹرول گورنرسندھ سے وزیراعلیٰ کے منتقل ہونے کے بعد یہ پہلاموقع ہے جب متعلقہ سیکریٹری کی جانب سے چیئرمین بورڈز کو بلا کر امتحانات کے انعقادکے حوالے سے کوئی اجلاس کیاگیا اور نہ ہی امتحانات کی تیاریوں یا شفاف انعقادکے حوالے سے کوئی حکمت عملی دی گئی جس کے واضح اثرات نظرآرہے ہیں۔

ادھر صوبائی وزیرتعلیم سردارعلی شاہ کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ کو لکھے گئے خط میں ان سے کہا گیا ہے کہ امتحانات کے آغاز کے پہلے روزسے ہی مافیا کی جانب سے پرچے آؤٹ کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور صوبے میں امتحانات کے شفاف انعقاد کے لیے وزیرتعلیم سندھ کی جانب سے کی گئی کوششوں کے باوجودایک سوالیہ نشان ہے۔

خط میں مزیدکہا گیاہے کہ امتحانات کا انعقاد امتحانی بورڈز کی ہی مکمل ذمے داری ہے تاہم یہ ادارے پرچے آؤٹ ہونے کے معاملے پر قابوپانے میں ناکام نظرآتے ہیں لہذا وہ اس بات کی سفارش کرتے ہیں کہ اس معاملے پر انکوائری کمیشن قائم کیاجائے جومعاملے کی تحقیقات کر کے اس کی تہہ تک پہنچے ملوث افرادکے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

خط کی ابتدا میں وزیرتعلیم سندھ نے موقف اختیار کیا ہے کہ سندھ میں میٹرک اورانٹرکے امتحانات میں بے ضابطگیوں اوربدعنوانیوں کی متعدد اطلاعات موجود ہیں وزیرتعلیم کا خط میں کہنا ہے کہ انھوں نے کراچی، کراچی، ٹھٹھہ، حیدرآباد، لاڑکانہ، قمبر اور شہید بینظیر آبادسمیت دیگرشہروں کے امتحانی مراکز کے خود دورے کیے ہیں اوراس موقع پر امتحانات بے ضابطگی میں ملوث افرادکے خلاف کارروائی بھی کی گئی۔

انھوں نے موقع پر ہی کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد اساتذہ،ممتحن اورصدورمعلم کومعطل بھی کیاجن کا تعلق محکمہ تعلیم سے تھا تاہم اس کے باوجود بدقسمتی سے پہلے روزسے سوالیہ پرچے آؤٹ ہونے کی اطلاعات آتی رہیں۔