پرائیویٹ سکولز کو منظور شدہ نئی فیس کا سٹرکچر جمع کرانے کا حکم

  • January 15, 2019 1:10 pm PST
taleemizavia single page

کراچی: ہائی کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے اسکول فیسوں میں اضافے سے متعلق درخواست پر منظور شدہ فیس اسٹریکچر اور اسکولوں کی جانب سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رقم کی تفصیل بھی پیش کرنے کا حکم دیدیا جسٹس عقیل عباسی، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اشرف جہاں پر مشتمل 3 رکنی بینچ کے روبرو اسکول فیسوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

نجی اسکول کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ میں مزید3 سماعتیں ہوچکی،عدالت عظمیٰ نے ملک بھرکے اسکولوں کی فیسوں میں 20 فیصد کمی کا حکم دیا، اس حکم کا اطلاق 5ہزار روپے سے زائد فیسوں پر ہوگا،5ہزار سے زائد والی فیسوں میں 5ہزار روپے کم کرکے بقیہ رقم پر کٹوتی کا اطلاق ہوگا، بیکن ہاؤس اور سٹی اسکول کی فیسوں میں دسمبر کا چالان نئے فارمولے کے تحت جاری کیا گیا.

جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے کہ کیا سپریم کورٹ نے ابھی تک ہمارا کوئی حکم معطل یا ختم کیا ہے؟ والدین کے وکیل نے موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ سپریم کورٹ کا حکم تمام احکام پر مقدم ہوگا، سپریم کورٹ کا حکم عبوری ہے اور مقدمہ نمٹایا نہیں گیا، ہائی کورٹ کے کسی حکم کو ختم نہیں کیا گیا ۔

ہائی کورٹ کے گزشتہ احکامات پر عمل نہ ہونے پر اسکول مالکان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے، وکیل بیکن ہاؤس اور سٹی اسکول نے موقف اختیار کیا کہ ہم عمل درآمد کررہے ہیں اور نئے چالان جاری کردیے گئے ہیں، والدین کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے بھی اسکولوں کو متعلقہ اتھارٹی سے منظوری کے لیے پابند کیا ہے، ہائی کورٹ کے 3 ستمبر کے حکم کی مسلسل خلاف ورزی ہورہی ہے.

وکیل پرایؤیٹ اسکول نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے تمام ہائی کورٹس کے احکامات کو روکا ہے، جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے کہ آپ ہمیں بار بار یہ نہ بتائیں سپریم کورٹ نے روکا ہے آپ سپریم کورٹ کے حکم کر بڑھا چڑھا کر پیش نہ کریں، ہمیں معلوم ہے ہم نے کیا حکم دیا اور سپریم کورٹ کا کیا حکم ہے۔

والدین کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے کسی حکم کو معطل نہیں کیا، جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس میں کہا کہ ہمارے 3 رکنی بینچ کے فیصلے کیخلاف کوئی حکم آیا ہے تو بتائیں، نجی اسکول کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے آپ کے حکم کے خلاف درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی ہے.

جسٹس محمد علی مظہر نے ریماکس دیے وہ معاملہ 2 رکنی بینچ کے حکم کے خلاف ہوگا۔ 3 رکنی بینچ کے کسی حکم کے خلاف کوئی درخواست منظور نہیں ہوئی ہوگی، آپ نے 5 فیصد سے زائد لی گئی فیس کی جو رقم سپریم کورٹ میں جمع کرارہے ہیں اس کی تفصیل کیوں نہیں دیں، جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے کہ ہم نے ابھی تک آپ کو مشکل میں ڈالا ہی نہیں ہے جو حکم ہم نے دیا تھا بس اس پر عمل درآمد کردیں۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس میں کہا کہ اگر آپ نے پانچ فیصد سے زائد فیس میں اضافہ کیا ہے تو یہ توہین عدالت ہے، جسٹس عقیل عباسی نے استفسار کیا کہ ہمیں صرف یہ بتا دیں کہ ہمارے حکم پر کتنا عمل درآمد ہوا؟

وکیل ایف پی ایس اور ہیڈ اسٹارٹ اسکول نے موقف اختیار کیا کہ ہم 5 فیصد اضافے کے بعد 20 فیصد فیس کم کررہے ہیں،ہائی کورٹ نے5 فیصد اضافے کی اجازت دی تھی، عدالت نے ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکولز منسوب صدیقی سے استفسار کیا کہ ان اسکولوں کا فیس اسٹرکچر منظور ہوا ہے؟

منسوب صدیقی نے کہا کہ سٹی اور بیکن ہاؤس نے فیس اسٹرکچر منظور نہیں کرایا، جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیوں کہ یہ کہتے ہوں گے کہ معاملہ کورٹ میں ہے، پہلے یہاں تھا اور اب سپریم کورٹ میں ان کو کیا ضرورت ہے فیس اسٹرکچر کی منظوری کی، یہ بڑے لوگ ہیں۔

عدالت نے وکیل نجی اسکول سے مکالمہ میں کہا کہ کوئی شفافیت نہیں ہے آپ کی دستاویزات میں تضاد ہے، عدالت نے منصوب صدیقی سے کہا کہ آپ لکھ کر دیں ان اسکولوں نے فیس اسٹرکچر منظور کرایا یا نہیں؟ منسوب صدیقی نے کہا کہ بیکن اور سٹی اسکول نے کبھی فیس اسٹرکچر منظور ہی نہیں کرایا، جسٹس اشرف جہاں نے منسوب صدیقی سے استفسار کیا کہ آپ نے ان اسکولوں کے خلاف کیا کارروائی کی؟

حکومت کی نااہلی ہے فرد جرم تو حکومت پر عائد ہونی چاہیے، منسوب صدیقی نے کہا کہ ان لوگوں نے عدالت سے حکم امتناع حاصل کیا ہوا تھا۔ نجی اسکول کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مجھے اجازت دیں بولنے کی، جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے کہ آپ بولتے بہت ہیں اور سنتے کم ہیں سننے کا مادہ بھی پیدا کریں آپ لوگوں نے سالہال سال کے ٹیکسز سے بھی استثنیٰ حاصل کیا ہوا تھا، جسٹس عقیل عباسی نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریماکس دیے کہ آپ کارروائی چلنے دیں ایسا نہ ہو ہمارا صبر جواب دے جائے۔

عدالت نے والدین کے وکیل سے مکالمہ میں کہا کہ آپ سپریم کورٹ سے گزارش کریں کہ نجی اسکولوں کے وکیل یہاں آکر کہتے ہیں سپریم کورٹ نے روک دیا ہے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالت اپنے حکم کی خود تشریح کرے گی یہ کہہ کر یہ جان چھڑا لیتے ہیں، جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے ہمیں بتادیں کیا ہم کارروائی بند کرکے بیٹھ جائیں؟ عدالت نے اسکولوں کا فیس اسٹرکچر طلب کرلیا.

عدالت نے منظور شدہ فیس اسٹرکچر کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیدیا، تین رکنی بینچ نے ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکولز منسوب صدیقی کو ہدایت کی کہ کسی اسکول کا فیس اسٹرکچر منظور نہیں ہوا تو اس کی بھی تفصیل بتائیں، ہائیکورٹ نے اسکولوں کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رقم کی تفصیلات بھی پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 28 جنوری تک ملتوی کردی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.