تعلیمی ڈھانچہ سیاسی نظریات کے تابع

  • 759 Views
  • دسمبر 26, 2016 12:06 بجے PST

pag1-image
سرمایہ دارانہ جمہوریت میں ریاست طبقہ اشرافیہ کی خدمت گار ہوتی ہے ایسے معاشرے میں قانون، انصاف، مذہب، اقتدار، طبقہ اشرافیہ کی خدمت کے لیے ہوتے ہیں۔

مسعود خالد

غیر پیداواری نصاب تعلیم، تدریس کا حاکمیتی ماڈل اور مادری زبان کا ذریعہ تعلیم نہ ہونا اگرچہ کالونیل تعلیمی ڈھانچہ کا لازمی حصہ ہیں مگر یہ سوال جو آج بھی اُتنا ہی اہم ہے جتنا کہ کالونیل دور میں تھا وہ یہ کہ کیا تعلیم دینا ریاست کا فریضہ ہے؟ یا لوگوں کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے تعلیم حاصل کریں؟

یا پھر سماجی خدمت کے ادارے قائم کیے جائیں جن کو امیر لوگوں کے صدقات اور خیرات سے چلایا جائے کچھ امداد حکومت بھی کرے؟ اگر تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے تو کیا ریاست اپنی پوری آبادی کو تعلیم دے یا چند لوگوں کو؟ان چند لوگوں کا تعلق کس طبقے سے ہوگا؟

یہ وہ بنیادی سوال ہے جس کا تعلق کسی ایک فرد کے سیاسی خیالات سے ہے اور یہی وہ سوال ہے جس کا تعلق ریاست پر قابض حکمران طبقے کے سیاسی نظریہ اور طرز حکمرانی سے ہے۔ ہر سیاسی نظریہ اپنی کوکھ میں ایک تعلیمی نظریہ بھی رکھتا ہے۔

سرمایہ داری کا سیاسی نظریہ جسے ہم سرمایہ دارانہ جمہوریت کہتے ہیں کہ چونکہ معاشرے کا وجود قائم ہی طبقات کی وجہ سے ہے اگر طبقات نہ ہوں تو انسانی معاشرہ مٹ جائے۔

اس لیے جو طبقہ ذرائع پیداوار اور قدرتی وسائؒ کا مالک ہو وہی فیصلہ کرے کہ عام لوگوں کی بہت بڑی اکثریت نے کس طرح زندگی گزارنی ہے ان کے لیے قانون کیسا ہو؟ تعلیم کیسی ہو؟ سرمایہ داری میں چند لوگوں کو امیر ترین رکھنے کے لیے تمام تر وسائل کا رُخ ان کی جیبوں کی طرف موڑا جاتا ہے اور چند گھرانوں کو خوشحال اور حاکم رکھنے کے لیے ایک بہت بڑی اکثریت کو غربت اور بدحالی میں رکھے جانے کا نام کیپٹل ازم ہے۔

طبقاتی تقسیم کے ذریعے بہت سے لوگوں کو چند لوگوں کا محتاج رکھنے کو معاشی عدل کہا جاتا ہے، طبقاتی تقسیم کی وجہ سے معاشعے کی بہت بڑی اکثریت کے ساتھ ہونے والی بے انصافیوں، محرومیوں اور ان کی بے بسی کو خدا کے وجود کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

سرمایہ دارانہ جمہوریت میں ریاست طبقہ اشرافیہ کی خدمت گار ہوتی ہے ایسے معاشرے میں قانون، انصاف، مذہب، اقتدار، طبقہ اشرافیہ کی خدمت کے لیے ہوتے ہیں۔ ایسی ریاست کو لوگوں کی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کی ذمہ داری نہیں ہوتی بس انہیں ووٹ کا حق ہوتا ہے۔

رائے کے اظہار کی آزادی ہے اور معاشی طور پر بھوکے مرنے کی بھی آزادی ہے۔ اس سیاسی نظام کا عکس تعلیمی نظام میں اس طرح ہوتا ہے کہ اگر آپ کے پاس پیسے ہیں تو آپ تعلیم حاصل کریں جتنے زیادہ پیسے اتنی اعلیٰ کوالٹی کی تعلیم حاصل کریں اگر آپ کے پاس پیسے نہیں ہیں تو آپ کو آزادی ہے کہ آپ تعلیم کی بجائے محنت مزدوری کر کے اپنا اور اپنے لواحقین کا پیٹ پالیں۔

رقم جمع کریں اور اس سے اپنی آئندہ نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں۔ سرمایہ داری جمہوریت میں تعلیم آپ کا اپنا فرض ہے چونکہ سرمایہ داری میں تجارتی قدریں فروغ پاتی ہیں اس لیے تعلیم کو بھی ایک سودا یعنی کیموڈیٹی بنا کر منافع کمانے کی غرض سے فروخت کیا جاتا ہے۔ تعلیم کو چند لوگوں کی پہنچ میں رکھ کر بہت بڑی اکثریت کی جہالت کو ان کی اپنی سستی بد نیتی اور کاہلی کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔

اس کے برعکس سوشلسٹ جمہوریت کا سیاسی نظریہ ہے کہ معاشرے میں طبقات انسان کے اپنے پیدا کردہ ہیں جب تک معاشرے کو غیر طبقاتی نہیں بنایا جاتا تب تک انسانوں کے درمیان سیاسی برابری کا سوچنا خود فریبی ہے۔ چند لوگوں کو امیر ترین رکھنے کے لیے بڑی اکثریت کو غریب اور مفلوک الحال رکھنا بے انصافی ہے۔

معاشرے کو غیر طبقاتی بنانے کے لیے قدرتی وسائل جیسے کانوں سے نکلنے والی معدنیات پر چن لوگوں کی بجائے پوری آبادی کا حق ہے۔ لاکھوں مزدوروں کی محنت کا پیداوار کا منافع اکٹھا ہو کر ایک شخص کی جبی میں جانے کی بجائے پوری آبادی کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو۔

سیاسی نظام کی قدریں ایک طرف تو تعلیمی نظام میں منعکس ہوتی ہیں تو دوسری طرف یہ تعلیمی نظام اپنے پیدا کرنے والے سیاسی نظام کو مضبوط اور مستحکم بناتا ہے۔ طبقاتی نطام تعلیم طبقاتی معاشرے کو استحکام بخشتا ہے غیر طبقاتی نظام تعلیم غیر طبقاتی قدروں کو فروغ دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں؛ مطالعہ پاکستان کا المیہ

اگر آپ یہ چاہیں کہ معاشرہ تو ویسے کا ویسے ہی طبقاتی ہی رہے اور اس کا تعلیمی نظام غیر طبقاتی ہوجائے جیسا کہ پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کا منشور ہے تو یہ ممکن نہیں۔ تعلیم کے نظام کو تبدیل کرنے کی جدوجہد ملک کے سارے نظام کو تبدیل کرنے کی جدوجہد کا لازمی حصہ ہے کیونکہ آپ کا تعلیمی نظریہ دراصل ایک سیاسی نظریے کا جزو ہے یا یوں کہیے کہ آپ کا تعلیمی نظریہ ہی آپ کا سیاسی نظریہ بھی ہے۔

پوسٹ کالونیل یعنی مابعد نوآبادیات ملکوں کی ریاست اور سیاست ویسی نہیں ہوتی جس طرح کی جدید ریاست کا نظریہ پولیٹیکل سائنس میں پیش کیا جاتا ہے۔ پوسٹ کالونیل ریاست کو عالمی سرمایہ داری اور اندرون اسٹیبلشمنٹ مل کر عدم استحکام کا شکار رکھتے ہیں اور معاشی خود انحصاری کی طرف قدم نہیں بڑھانے دیتے اس طرح غیر مستحکم ریاست کو سامراج کی پناہ میں رہنے کا جواز مہیا کیا جاتا ہے۔

پوسٹ کالونیل ریاست میں سیاست بھی دو طرح کی ہوتی ہے ایک سیاسی پارٹیوں کی اور دوسری فوجی سیاست۔ کالونیل دور میں چونکہ صرف وہی سیاسی پارٹیاں کام کر سکتی تھیں جن کی سیاست سے کالونیل انتظامی اور معاشی ڈھانچہ کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔ پوسٹ کالونیل ریاستوں میں عالمی سرمایہ داری کے معاشی و سیاسی مقاصد کو فرمانبرداری سے آگے بڑھانے والے سیاستدانوں کو اقتدار تک لایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں؛ نصابی کتابیں کیسے نفرت سیکھاتی ہیں

جہاں کہیں یہ سیاستدان عالمی سرمایہ داری کے پروگرام میں رکاوٹ بننے کی کوشش کریں انہیں ہٹا کر فوجی حکومتوں کے ذریعے اسی پروگرام کو آگے بڑھایا جاتا ہے فوجی حکومتیں ہمیشہ سامراج کی عالمی سیاست کا آلہء کار ہوتی ہیں۔

پوسٹ کالونیل ملکوں کی غیر مستحکم رکھی گئی حکومتیں ہر سال خسارے کا بجٹ پیش کرتی ہیں ان کے اخراجات آمدنی سے ہمیشہ زیادہ ہوتے ہیں۔ بجٹ کے اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے یہ ریاستیں عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لیتی ہیں۔ ان قرضوں کے ساتھ صرف بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانے ہی کی شرائط نہیں ہوتیں بلکہ پوری زندگی پر حاوی ایک جامع منصوبہ بندی ہوتی ہے جسے ساختی مطابقت پروگرام یا سٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرام کہتے ہیں۔

یعنی آپ نے اپنے ملک کے اداروں کی اندرونی ساخت کو کس طرح سامراجی پالیسیوں کے مطابق بنانا ہے تعلیمی پالیسی اس پروگرام کا اہم حصہ ہوتی ہے۔ ہمارے یہاں جتنی بھی تعلیمی پالیسیاں نافذ ہوئیں وہ عالمی بینک اور اس کے متعلقہ اداروں کی بنائی ہوئی ہیں۔

بس ہوتا یہ ہے کہ سیاسی حکومتیں ان پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے اپنے کسی رکن پارلیمنٹ کو وزیر تعلیم بنا دیتی ہیں جبکہ فوجی حکمران ریٹائرڈ فوجی جرنیلوں کو وزیر تعلیم بنا کر اس پروگرام کو آگے بڑھاتے ہیں۔ جنرل مشرف کے دور میں تو تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز بھی ریٹائرڈ فوجی جرنیل ہی تھے۔

یہ بھی پڑھیں؛ پاکستان کا تعلیمی ڈھانچہ کب اور کیسے بدلا گیا

ہمارے ملک کا کالونیل سیاسی ڈھانچہ جو ہمیں ورثہ میں ملا ہے اس ڈھانچہ میں سیاسی پارٹیوں ککے ٹکٹ پر منتخب
ہونے والے پارلیمنٹرین کا تعلق ان جاگیردار اور پیر گھرانوں سے ہوتا ہے جنہیں برطانوی حکومت نے اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی میں ان کی مدد کرنے پر جاگیروں سے نوازا تھا۔

پھر انہیں مقامی حاکم بنا کر کالونیل اقتدار کے محافظ کے طور پر سیاستدان بنایا تھا دوسری بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جنہیں فوجی حکومتوں نے مقامی بلدیاتی قیادت کے طور پر بھرتی کیا اور ترقی دیتے ہوئے انہیں قومی دھارے کی سیاست میں حصہ دار بنایا۔ بنکوں کے قرضوں، پلاٹوں اور لائسنسوں کی سیاسی رشوت سے انہیں دولت مند بنایا اور کالونیل جاگیرداروں کے شانہ بشانہ عالمی سرمایہ داری کے محافظ کے طور پر اقتدار میں شریک کیا۔

ہر پاکستانی کا تعلیم پر بنیادی حق منوانے اور تعلیم کی ذمہ داری ریاست پر ڈالنے اور سیاسی پارٹیوں کے منشور میں لکھے گئے تعلیمی پروگرام پر عمل درآمد کرانے کی جدوجہد پاکستان میں کالونیل جاگیردار قیادت، فوج کی بھرتی سے پیدا کیے گئے سیاستدانوں اور سٹرکچرل ایڈجسٹنمنٹ پروگرام کے خاتمہ کی جدوجہد ہی کا اہم حصہ ہے یہ ایک سیاسی عمل ہے لیکن ہم تو تعلیم کے لفظ کے ساتھ سیاست لفظ سسنا پسند نہیں کرتے۔

اس کی وجہ ہمیں کالونیل تعلیمی ڈھانچے میں ہی تلاش کرنی پڑے گی۔ اُنیس سو سنتالیس میں پاکستان کو جو تعلیمی ڈھانچہ ورثہ میں ملا وہ ان طریقوں اور قدروں پر مشتمل تھا جو برطانوی سامراج نے اپنے دور اقتدار میں تشکیل دیے تھے کوئی حکمران یہ نہیں چاہتا کہ کوئی ایسی سوچ پیدا ہو جو ان کی حکمرانی کے محافظ سیاسی و سماجی ڈھانچہ کو بدل دے۔

اس کے لیے لوگوں کو سیاسی طور پر جاہل رکھنا ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے ساتھ ہونے والی بے انصافیوں کی وجوہات کو سمجھ نہ سکیں۔ وہ یہ نہ سمجھ سکیں کہ دولت اور وسائل چند لوگوں کے قبضے میں کیوں ہے؟ وہ یہ نہ سمجھ سکیں کہ آدھی سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی کیوں گزار رہی ہے؟

جب انگریزوں نے ہندوستان میں تعلیم کا آغاز کیا تو اس بات کا اہتمام کیا گیا کہ تعلیم محض جامع معلومات کا مجموعہ ہو زندگی سے لا تعلق ہو مظاہر کی مادی تشریح کرنے کی بجائے رونما ہونے والی تبدیلیوں کو مابعد الطبیعاتی وجوہات کا نتیجہ بتایا جائے۔ تعلیم سے پیدا ہونے والا شعور نہ صرف غیر سیاسی ہو بلکہ سیاست سے نفرت کرتا ہو۔

اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ تعلیم کے ذریعے لوگوں کو غیر سیاسی رکھا جائے لیکن ہندوستان میں ایک دوسرا طریقہ بھی اپنایا گیا کہ لوگوں کو غیر سیاسی بنانے کے لیے مذہب کے نام پر سیاست کو فروغ دیا جائے تاکہ مظلوم کسی ظالم کے سامنے صف آراء ہونے کی بجائے آپس میں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہوں۔

یہ بھی پڑھیں؛ کیا طبقاتی تعلیم میں حکمرانوں کی بقاء ہے

چنانچہ آپ کو ایسے لوگ ملیں گے جو کہتے ہیں کہ سیاست امیر لوگوں کا کھیل ہے، فوجی حکومتوں کے حامی کہتے ہیں کہ ملک کو سیاست نے برباد کیا، مولوی فرماتے ہیں کہ آخرت کے امتحان کی تیاری کرو، پارٹیوں کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے پیر دُنیا سے اپنی بے نیازی ثابت کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں جلوہ افروز ہی نہیں ہوں گے کیونکہ اقتدار ان کے جوتوں کے نیچے ہے۔

اساتذہ بچوں کو سیاست سے دور رہنے کا درس دے کر ان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ جاگیر دار طبقہ بار بار وفاداریاں بدل کر سیاست کو منافقت ثابت کرنے میں زندگی صرف کر دیتا ہے۔

یہ سارا منظر نامہ کالونیل دور یعنی نوآبادیاتی دور کی پیداوار ہے جو پوسٹ کالونیل دور میں بھی جاری ہے۔طلباء اور قوم کو غیر سیاسی رکھ کر مظلوم کو ظالم کے سامنے کھڑا کرنے کی بجائے مظلوم کو دوسرے مظلوموں کے خلاف صف آراء کیا جاتا رہا ہے۔ سیاستدان بنانے کی نرسری یعنی طلباء تنظیموں پر انگریزوں نے نہیں فوج نے نہیں بلکہ فوج کی پیداوارسیاستدان نے عائد کی۔

یہ شعور سیاسی تعلیم کی بخشش ہے کہ تعلیم کی ذمہ داری ریاست پر ہے جو تعلیم فرد کو سیاسی عمل کا حصہ دار نہیں بناتی وہ عالمی شہرت یافتہ ماہر تعلیم پولو فرائرے کے بقول غلامی کی مشق ہے۔ سارا تعلیمی ڈھانچہ غلامی کی مشق کرانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔


masood

مسعود خالد نوآبادیاتی دور کے سیاسی، سماجی، معاشی اور تعلیمی ڈھانچہ پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔وہ پاکپن میں قائم سانجھ تنظیم کے بانی ہیں۔

2 thoughts on “تعلیمی ڈھانچہ سیاسی نظریات کے تابع”

  1. بہت خوب صورت اور آسان فہم زبان میں مشکل باتوں کو بیان کیا گیا ہے۔معاشرے کو غیر طبقاتی کیے بغیر تعلیم کو بھی غیر طبقاتی نہیں بنا جا سکتا ہے،،

  2. sir it is a very good and informative piece of writing and humbly request is that please continue writing on such subjects and please at least write one such article in a week.

تبصرہ کیجیے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.


error: Content is protected !!