کیا طبقاتی تعلیم میں حکمرانوں کی بقاء کا راز ہے؟

  • 475 Views
  • ستمبر 27, 2016 6:41 بجے PST

pag1-image

اکرم سومرو

سیاسی و جمہوری حکومتوں میں تعلیم اور ذریعہ تعلیم ہمیشہ زیر بحث رہے ہیں انتخابی مہم میں صحت و تعلیم سیاسی جماعتوں کا پرکشش نعرہ ہوتا ہے۔

ملکی معیشت کو علم سے جوڑنے سے لے کر شرح تعلیم بڑھانے کی کہانیاں نئے نئے انداز سے بیان کرنا سیاسی جماعتوں کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔

تعلیم انگریزی زبان میں ہو یا پھر اُردو اور مادری زبان میں ، کس زبان میں سیکھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے ان تعلیمی مباحثوں میں اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاتا۔

تعلیم پر عرق ریزی سے تبصرے سننے اور پڑھنے کو میسر آتے ہیں لیکن اس کے باوجود معاشرے میں تعلیمی ضروریات اور تعلیمی سہولیات پر حکومتی کارکردگی پر سوال اُٹھتے رہتے ہیں۔

ہمارا تعلیمی مسئلہ ہے کیا؟ اس مسئلے کی بنیاد ی جڑ کہاں ہے؟تعلیم اور معاشرتی ترقی کا باہمی ربط کیا بنتا ہے؟

آئین کی اٹھارویں ترمیم سیاستدانوں اور جمہوری حکومت نے اگر ملکی مفاد کے پیش نظر کی تھی تو پھرتعلیم کو صوبوں کے حوالے کرنے کے ساتھ 2009ءکے بعد نئی تعلیمی پالیسی بھی مرتب کر لی جاتی۔

مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتوں کو تعلیم کا قبلہ درست کرنے کی ترغیب ہی پیدا نہیں ہوئی کیوں کہ ہمارے معاشرے کے تعلیمی خدوخال کو جان بوجھ کر پیچیدہ رکھا گیا ہے اور یہ تعلیمی نظام براہ راست ملک کے سیاسی نظام سے وابستہ ہے۔

دینی و دنیاوی تعلیم کا تصور پیش کر کے یونیورسٹیوں اور مدارس کے نوجوان کی سوچ کو تقسیم کیا گیا ہے جس تقسیم کی بنیاد برطانوی سامراج کے دور میں رکھی گئی وہی تقسیم قیام پاکستان کے بعد بھی جاری ہے۔

طبقاتی تعلیمی ڈھانچے سے حکمران اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں پہلے دن سے ہی کامیاب ہیں اور اس طبقاتی تعلیمی نظام کو خفیہ طور پر تحفظ بھی یہی حکمران فراہم کرتے ہیں۔

اس موضوع پر پہلے بھی بہت کالم آرائی کی جا چکی ہے لیکن آج صرف طبقاتی نظام تعلیم کے ایک پہلو یعنی کیمبرج انٹرنیشنل ایگزامنیشن سسٹم پر تجزیہ کر لیتے ہیں۔

جو پاکستان بننے کے بعد پرائیویٹ اداروں کے ذریعے سے ہمارے ملک میں رائج کیا گیا۔

یہاں قصہ بہت دلچسپ ہے، حکمران، بیوروکریسی، جاگیردار اس سماج سے اپنی جدا حیثیت قائم رکھنے کے روز اول سے ہی سروکار رکھتے ہیں۔

سماج میں اپنا اعلیٰ مقام قائم رکھنے کے لیے گویا یہ ضروری ٹھہرا کہ اپنے بچوں کو ریاست کے تعلیمی ڈھانچے سے آزاد رکھا جائے چنانچہ سماج کے اس بالائی طبقے نے میڑک اور انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کے بجائے او لیول اور اے لیول کی تعلیم کو ہی نجات دہندہ کے طور پر لیا۔

اسی منصوبے پر سماج کے اس بالا طبقہ نے یوں کام کیا کہ کیمبرج سسٹم کو سرکاری اداروں میں متعارف نہیں کرایا گیا تاکہ سماج میں درمیانے اور اس سے نچلے طبقات کی سماجی حیثیت کو ان کے برابر کھڑا نہ کیا جاسکے۔

پاکستان کے معروف انگریزی اخبار دی نیوز کے ایجوکیشن رپورٹر خالد خٹک نے چند روز پہلے اس موضوع پر تفصیلی تجزیہ بھی اپنے اخبار میں لکھا ہے۔

چونکہ ہم پاکستانی برطانیہ کی سابق کالونی یعنی نوآبادیات کا حصہ رہے ہیں تو ہم نے جدید نوآبادیاتی سیاسی نظام کے ڈھانچے میں برطانیہ کے تعلیمی نظام کو اشرافیہ کے بچوں کی تربیت کی خاطر مستقل طور پر رائج کر دیا۔

پاکستان میں او لیول اور اے لیول کے امتحانات میں شرکت کرنے والے بچے اسی سیاسی و سماجی اشرافیہ کے ہیں ان میں چٹکی بھر بچے وائٹ کالر جاب کرنے والوں کے بھی ہیں۔

کیمبرج کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان سے رواں سال اولیول کے ایک لاکھ 61 ہزار 412 طلباء نے امتحان دیا۔

جبکہ اے لیول میں 91 ہزار 144 طلباء شریک ہوئے۔ برطانیہ نے ان امتحانات کے ذریعے 2014ء میں 1۔350 ملین پاؤنڈز جبکہ 2015ء میں 9۔375 ملین پاؤنڈز کمائے ہیں۔

پاکستان میں ان امتحانات کے لیے ایک پرچہ کی فیس برٹش قونصل کے ذریعے سے 20ہزار روپے وصول کی جاتی ہے اور اگرکسی پرچے میں فیل ہوجائیں تو پھریہی فیس دوبارہ ادا کی جاتی ہے۔

او لیول اور اے لیول کا یہ امتحان دینے والوں میں سیاسی اشرافیہ اور افسر شاہی کے بچے شامل ہوتے ہیں جو حکمرانی کرنے کے خاندانی تسلسل کے وارث ہوتے ہیں۔

ریاست کیمبرج کے اس نظام کے سامنے بے بس نہیں ہے بلکہ ریاستی محافظوں نے اس سسٹم کے خلاف کسی کو آواز بلند ہی نہیں کرنے دی۔

کیمبرج کے تحت صرف امتحانات دینے کے لیے جو اخراجات ہوتے ہیں یہ الگ ہیں اس کے ساتھ جو نجی تعلیمی اداروں میں ان بچوں کو پڑھانے کے لیے ماہانہ 25ہزار روپے تک فیس وصول کی جاتی ہے۔

اس کابوجھ بھی صرف یہی حکمران اور افسر شاہی ہی برداشت کر سکتی ہے جو عوامی ٹیکسوں پر شاہانہ زندگی گزارتی ہے۔

کیمبرج کے تحت ان امتحانات کی سال بھر تیاری کرانے والے ملک بھر میں جتنے بھی سکولز کام کر رہے ہیں ان کے خلاف حکمران طبقہ اور سول انتظامیہ کارروائی کرنے کی جراءت ہی نہیں رکھتی کیونکہ یہ سکولز ان خاندانوں کی سیاسی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔

بڑے بڑے برانٹیڈ پرائیویٹ سکولوں کی آمدن کا بہت بڑا حصہ اس او لیول اور اے لیول کے امتحانات کی مد سے جمع ہوتا ہے۔

اب اگلے مرحلے کی طرف آئیں۔ اگر حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ او لیول اور اے لیول کا یہ نظام بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے ناگزیر ہے تو پھر اس نظام کو ریاست کے سکولوں میں نافذ کرنے میں کون سی رکاوٹیں ہیں؟

یا پھر اسی معیار کا صوبائی سطح پر تعلیمی ڈھانچہ کیوں استوار نہیں کیا جاتا؟مسلم لیگ نواز پنجاب کے حکمران بالخصوص خادم اعلیٰ توا شرافیہ کے خلاف جنگ لڑنے کا اعلان کر چکے ہیں اور اشرافیہ کے گریبان میں ہاتھ ڈالنا چاہتے ہیں تو پھر تعلیم سے اس کا آغاز کردیا جائے تو طبقاتی نظام کا خاتمہ کرنے میں معاونت ملے گی۔

طلباءکے مذکورہ اعداد وشمار صرف ایک سال میں کیمبرج کے تحت پرچے دینے والے طلباءکے ہیں ہر سال کم و بیش یہی تعداد ہوتی ہے۔

او لیول، اے لیول کی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی قومی دھارے میں کیا خدمات ہیں؟ کیا اس طبقاتی نظام تعلیم کو اشرافیہ کے پورے سسٹم کو زندہ و سلامت رکھنے کے لیے تحفظ فراہم کیا جارہا ہے؟

ہمارے سماج میں بالائی طبقہ اپنے اقتدار کو مضبوط رکھنے کے لیے اس نظام کے سہارے پر زندہ ہے اور اسی نظام کے تحفظ میں ہی ان کی بقاء کا راز پنہاں ہے۔


akram-soomro-2
محمد اکرم سومرو میڈیا اسٹڈیز کے اُستاد ہیں وہ آج کل لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف کیمونیکیشن اسٹڈیز میں تعینات ہیں۔ اس سے پہلے وہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد اور ایف سی کالج لاہور میں پڑھا چکے ہیں۔ میڈیا پر شعوری تنقید کے ذریعے طلباء کو پڑھانا ان کا شوق ہے۔

3 thoughts on “کیا طبقاتی تعلیم میں حکمرانوں کی بقاء کا راز ہے؟”

تبصرہ کیجیے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.