کتابوں کی حکومت اور تہذیبی ترقی

  • 343 Views
  • اگست 8, 2017 8:20 بجے PST

pag1-image
سائنس، ادب و فنون لطیفہ کے تمام علوم جدید دور میں بھی ہم تک بذریعہ کتاب ہی منتقل ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر رانا تنویر قاسم

والٹئیر نے درست کہا تھا ”دنیا پر کتابوں کو چھوڑ کے زیادہ عرصہ وحشیوں نے حکومت کی ہے۔“ کتاب شخصیت کو بناتی‘ سجاتی‘نکھارتی اور سنوارتی ہے‘ اس کے بغیر علم و دانش کا حصول ممکن نہیں۔ کتاب تنہائی کی بہترین رفیق اور دوست ہے۔ قوموں کی ترقی کا راز ان کی علمی محبت میں پوشیدہ رہا ہے۔

انفار میشن ٹیکنالوجی کے باعث علمی سائنسی یا سماجی دریافت اور ایجاد لمحوں میں دنیا کے کونے کونے میں پھیل رہی ہیں۔ بدلتے ہوئے اس رحجان کے باوجود سماجی رابطوں نے کتاب کی اہمیت کو کم نہیں کیا اور نہ ہی کتاب کی محبت قارئین کے دلوں سے کم کی جاسکی ہے۔

جدید دور کی تمام ترقیات کو محفوظ کرنے کے لیے اب بھی کتاب کا سہارا لیا جاتا ہے اور اسے تحریر میں لا کر کتابوں میں محفوظ رکھا جاتا ہے۔ نیوٹن کے سائنسی قوانین ہوں یا پھر البرٹ آئن سٹائن کی تھیوریز وہ آج بھی بذریعہ کتاب سائنسدانوں تک پہنچی ہیں۔ بنیادی طور پر کتاب علم کو محفوظ بنا کر اسے آفاقی بناتی ہے جو نوع انسانی میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔

جانیئے؛ لاہور کے پانچ اور پاکستان کا ایک نوبل لاریٹ

اب کتاب کی محبت یا یوں کہہ لیجئے اس کی اہمیت کو کتاب میلے کے ذریعے بھی پھیلایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے تو لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں باقاعدہ طور پر ادبی میلوں کا سالانہ بنیادوں پر انعقاد ہوتا ہے اس کے ساتھ کتب میلے بھی ہوتے ہیں جو اُن نوجوانوں میں پذیرائی حاصل کر رہے ہیں جنہیں علم سے شغف ہے۔

تہذیبی ترقی میں علم کو کلیدی حیثیت حاصل ہے اور کتاب اس تہذیب کو نئی نسل میں منتقل کرنے کا باعث ہے۔ اس خطے میں رائج ادب کی تاریخ سے ایک بات تو واضح ہے کہ لاہور ادبی مرکز رہا ہے اور یہاں سے جنم لینے والی ادبی تحریکوں نے اس خطے پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔

یہ پڑھیں؛ اُردو شاعری اور فن ترجمہ میں دُشواری

لاہور میں تو اب بڑے بڑے کتابی میلے ہونے لگے ہیں گویا یوں لگتا ہے کہ جیسے اس شہر میں ادب واپس لوٹ رہا ہے۔ آج کل لاہور کے ایکسپو سنٹر میں لگا کتابی میلہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ کتاب سے دل لگی کرنے والے اب بھی باقی ہیں۔ علم، تاریخ، فلسفہ، منطق، سیاست، معیشت اور شاعری سے جس قدر لگاؤ بڑھے گا نوجوان کی سوچ میں اتنی زیادہ پختگی آئے گی۔

کتاب بنیادی طور پر علم کا منبع ہے جب بھی ہم یہ کہتے ہیں کہ کتاب سے محبت کریں تو اس کا لا محالہ یہی مطلب ہوتا ہے کہ علم سے محبت کریں، علم کے حصول، علم کے پھیلاؤ اور اس کو جذب کرنے سے انسانی سماج ترقی کرتا ہے۔ سماجی ترقی کی نئی راہوں کی تاویلیں ہوتی ہیں۔ علم کی بنیاد پر ہی معاشروں کو مہذب کہا جاتا ہے کیونکہ اسی علم کی بنیاد پر سیاست سے لے کر فن حرف تک حکمرانی ملتی ہے۔

بلاشبہ کتاب ہمارے ذہن و فکر کو جلا بخشتی ہے۔ لوگوں میں اچھی کتب پڑھنے کا ذوق و شوق کا جو سامان ”کتاب میلے“ کرتے ہیں وہ کسی اور طریقے سے نہیں ہو سکتا۔

کتاب میلے میں اکثر لکھاری پبلشرز اور ناشرز شکوہ کناں نظر آئے تو مجھے مرحوم مولانا محمد اسحق بھٹی کا مشہور تبصرہ یاد آیا کہ پبلشرز اور ناشر میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے ’’ شر ‘‘ یہ تبصرہ وہ ازراہ طفنن کیا کرتے تھے وہ پبلشرز اور ناشرز کے بزرگ تھے ،دونوں کی باہمی محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی ۔

یہ بھی پڑھیں؛ راجہ گدھ، منطق پر بانو قدسیہ کا ادبی حملہ

یہ حقیقت ہے کہ میلے پبلشرز اور ناشرز ہی آباد کرتے ہیں ۔سکڑتی ہی دنیا کے اس ماحول میں کتابی صنعت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔ان ہی کے دم سے کتابوں کی دنیا آباد ہے ۔اور کتاب ہی زندگی ہے ۔

کتب بینی اور علم دوستی کو بنیاد بنا کر ہی اقوام عالم میں ہم اپنا مقام پیدا کرسکتے ہیں۔والدین اپنے بچوں میں علم حاصل کرنے کا شوق پیدا کرنے کے خواہشمند ہیں تو پھر اُنہیں اپنے بچوں کو یہاں لانا چاہیے، کتابوں کی دُںیا سے واقفیت کرائی جائے۔ کتابیں دکھائی جائیں، کتابیں خرید کر دیں اور پھر بچوں میں یہ شوق پیدا کیا جائے کہ وہ اپنے گھر میں ایک چھوٹی سے لائبریری بنائیں جہاں اُن کی پسندیدہ کتابیں رکھی ہوں۔

کتاب اچھی یا بُری نہیں ہوتی بلکہ کتاب کا اپنا ایک اثر ہوتا ہے اور اسی اثر کی بنیاد پر ہی کتاب نتائج پیدا کرتی ہے۔ کتاب پڑھنے کا شوق ہونا ضروری ہے تاکہ انسان کی سوچ پر مثبت اثرات مرتب ہوں۔

ایکسپو سنٹر میں یوں تو سال میں ایک مرتبہ کتاب میلہ ہوتا ہے لیکن اس بار یہ دو دفعہ ہورہا ہے اور ہونا بھی چاہیے تاکہ لاہور کے دہشت زدہ ماحول کے مقابلے پر پُرامن ماحول بھی شہریوں کو نصیب ہوسکے جہاں وہ خیالات کا تبادلہ خیال کریں جہاں وہ دوسروں کے خیالات، تحقیق پڑھ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں؛ لاہور کی ادبی شناخت گُم ہونے کا خطرہ

پاکستان کالمسٹ کلب کے وفد کے ساتھ جب میں ایکسپو سنٹر پہنچا تو گویا مجھے ذہنی راحت ملی کیونکہ جہاں اس وفد میں زبیح اللہ بلگن،ڈاکٹر عمرانہ مشتاق ساتھ تھیں وہیں پر نوجوان لکھاری و ادیب عباس تابش،سید بدر سعید، نوجوان کالم نگار فرخ شہباز وڑائچ بھی ساتھ تھے۔

اس کتاب میلے میں تو مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ مکتبہ سلفیہ کی طرف سے آثار حنیف بھوجیانی کے نام پر طباعت کے مراحل میں ہے جس میں مولانا عطا اللہ حنیف بھوجیانی مرحوم کے 1925 تا 1996 تک تمام مضامین جمع کردیے ہیں ،یقینا یہ کتاب علمی دنیا میں ایک خوشگوار اضافہ ثابت ہو گی ۔ امید ہے کہ برادر زبیح اللہ بلگن کی تحریک پر اور جناب ایثار رانا چیئرمین پاکستان کالمسٹ کلب کی سرپرستی میں اس طرح کی تعمیری اور ادبی سرگرمیوں میں شرکت کے مواقع ملتے رہیں گے ۔


tanvir-qasim
رانا تنویر قاسم یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور سے بطور اُستاد وابستہ ہیں۔ اُنہوں نے اسلامیات کے مضمون میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔وہ مثبت تنقیدی نقطء نظر کو اپنی قوت سمجھتے ہیں۔