ڈائجسٹ مارکہ خواتین اور ناول نگاری

    August 27, 2017 3:08 pm PST
taleemizavia single page

کبیر علی

ڈائجسٹ مارکہ خواتین کی ناول نگاری و افسانہ نگاری ایک دلچسپ موضوع ہے اور عمیرہ احمد و نمرہ احمد قسم کی خواتین نے تو اس دلچسپی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اس سے قبل کہ ہم موضوع کی طرف بڑھیں یہ اطلاع دینی ضروری سمجھتا ہوں کہ احقر چھٹی جماعت سے دیگر ڈائجسٹوں کے علاوہ خواتین لکھاریوں کے لیے مختص کردہ ڈائجسٹ یعنی آنچل، خواتین، کرن، شعاع ڈائجسٹ وغیرہ بھی پڑھتا رہا ہے۔

پھر کالج کے زمانے میں ڈائجسٹ مارکہ خواتین کے ناول کتابی شکل میں بھی پڑھنا شروع کر دیے۔ ان میں نگہت عبداللہ، سیما غزل، شاہینہ چندا مہتاب، نگہت سیما، فرحت اشتیاق، عمیرہ احمد، وغیرہ کے علاوہ نسبتا معتبر نام یعنی سلمی کنول، بشریٰ رحمٰن اور رضیہ بٹ شامل تھے۔ گویا ان افسانوں اور ناولوں کا مناسب طور پر مطالعہ کرنے کے بعد ہی اپنا بُرا بھلا تاثر پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

سب سے پہلے ناول کے ادبی مقام کا تعین ہونا چاہیے یعنی ناول میں پیش کیے گئے خیالات سے ہٹ کر ناول کو اچھی نثر اور عمدہ اسلوب کے فنی معیارات پہ پرکھنا اشد ضروری ہے۔ بدقسمتی سے ڈائجسٹ مارکہ خواتین بالعموم اور عمیرہ احمد و نمرہ احمد بالخصوص تیسرے درجے کی نثر لکھتی ہیں۔

اور یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ عالمی ادب تو دور کی بات یہ خواتین اردو ادب کی کلاسیکی روایت سے بھی مکمل طور پہ نابلد ہیں کیونکہ اگر انہوں نے کلاسیکی ادب کا ذرا بھی سنجیدگی سے مطالعہ کیا ہوتا تو ان کی نثر میں ایک جمالیاتی دلکشی ضرور ہوتی۔

تشبیہ، استعارہ سازی، محاورہ، صفات کا استعمال، فصاحت و بلاغت، حتیٰ کہ صوتی آہنگ تک کا خیال رکھا جاتا تھا کہ جس سے نثر میں ایسی خوبی پیدا ہو جاتی ہے کہ اگر باآواز بلند پڑھی جائے تو ایک طرح کی موسیقیت محسوس ہونے لگے۔ مگر ان خواتین کے ہاں ایسی کوئی خوبی تلاش کرنا کارِ بے سود ہے۔ اسلوب کا کوئی تجربہ ان کے ہاں نظر نہیں آتا حتیٰ کہ اگر آپ ایک خاتون کی کہانیوں پر سے نام کاٹ کر کسی دوسری خاتون کا نام لکھ دیں تو کوئی بھی جان نہ پائے گا کیونکہ اکثر خواتین کا سرے سے کوئی اسلوب ہے ہی نہیں۔

اگرچہ ایسی بے رنگ نثر کے بعد اشرف صبوحی کی نثر کا اقتباس پیش کرنا گستاخی سے کم نہیں مگر صورتحال کو واضح کرنے کے لیے ایسی شتر گربگی ناگزیر معلوم ہوتی ہے۔ چلیے ہم “دلی کی چند عجیب ہستیاں” سے ایک ٹکڑا منتخب کر لیتے ہیں۔ مٹھو بھٹیارا (آسان لفظوں میں ناشتے والا) صبح دم اپنی دکان کھولتا ہے، یہ منظر ملاحظہ ہو۔

“منہ اندھیرے بغل میں مسالے کی پوٹلی وغیرہ سر پر پتیلا، پیٹھ کے اوپر کچھ چھٹپیاں، کچھ جھانکڑ لنگی میں باندھے ہوئے گنگناتے چلے آتے ہیں۔ آئے دکان کھولی، جھاڑو بہارو کی، تنور کھولا، ہڈیوں گڈیوں یا اوجھڑی کا ہنڈا نکالا۔ ہڈیاں جھاڑیں۔ اس کوٹھی کے دھان اس کوٹھی میں کیے۔

خیر اب ذرا عمیرہ احمد اور نمرہ احمد کا تذکرہ ہو جائے کہ ان دونوں خواتین نے پچھلے کچھ برسوں سے خاصی مقبولیت حاصل کی ہے۔ اس سے قبل یہ اطلاع دینی ضروری سمجھتا ہوں کہ حالیہ برسوں میں شائع ہونے والے ایک آدھ ناول کے علاوہ عمیرہ احمد کی ساری کتابیں میں نے چھ سات سال قبل پڑھی تھیں۔ جبکہ نمرہ احمد کا ایک ناول “مصحف” ایک ڈیڑھ سال قبل بہت مشکل سے پڑھا۔

یہ بھی پڑھیں؛ راجہ گدھ، بانو قدسیہ کا منطق پر ادبی حملہ

یہ دونوں خواتین بھی اگرچہ ڈائجسٹ مارکہ قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں مگر انہوں نے ایک اہم اضافہ یہ کیا کہ اپنے ناولوں اور افسانوں میں مذہب اور تصوف کا تڑکا لگانا شروع کر دیا تاہم اردو کے افسانوی ادب میں یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ اس سے قبل اشفاق احمد، بانو قدسیہ، ممتاز مفتی وغیر ہ نے یہی کام کیا۔ ان لوگوں کے کچے پکے متصوفانہ خیالات سے مجھے اتفاق نہیں مگر وہ لوگ بہرحال زندگی کا تجربہ رکھتے تھے اور ان کی تحریر میں ادبیت بھی پائی جاتی ہے۔

ان لوگوں کے شروع کیے ہوئے” بابوں” کے باب کا نتیجہ اکیسویں صدی کی پہلی دو دہائیوں میں عشق کے عین، شین، قاف قسم کے ناولوں کی شکل میں نکلا اور کئی لکھنے والوں نے بغیر کسی علم اور روحانی تجربے کے متصوفانہ مضامین بیان کرنے شروع کر دیے اور تصوف کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس سے قبل تاریخ کے ساتھ نسیم حجازی اور عنایت اللہ وغیرہ کر چکے تھے۔

متصوفانہ خیالات بیان کرنے کا یہی سلسلہ عمیرہ احمد ونمرہ احمد کے ہاں بھی پایا جاتا ہے مگر بدقسمتی سے اس میں اتنی جان بھی نہیں جتنی کہ اس سلسلے کے متقدمین کی تحریروں میں پائی جاتی ہے۔ دراصل جس زمانے میں یہ ناول لکھے گئے اس زمانے میں نوجوان نسل موبائل اور انٹرنیٹ کے ذریعے صنفِ مخالف سے متعارف ہو رہی تھی، دوستیوں اور جسمانی تعلقات سے آشنا ہو رہی تھی۔

ظاہری بات ہے کہ ہمارے ہاں نکاح کے بغیر اس طرح کے تعلقات ممنوع ہیں اور نوجوان نسل ذہنی طور پہ پریشان تھی، ایسے حالات میں ہماری ان لکھاریوں نے آگے بڑھ کر اس پریشان کن صورتحال کو گلیمرائز کرنے کی کوشش کی۔ ممنوعہ تعلقات کو جھوٹی مذہبیت کے لفافے میں لپیٹ کے پیش کرنا شروع کیا تو نوجوان نسل (خصوصا صنف نازک) میں ان خواتین کے ناولو ں کی دھوم پڑ گئی۔ محبوب کی آغوش میں آنے سے قبل اگر ہیروئین نماز بھی پڑھ لے تو آخر اس میں کیا قباحت ہے۔

وضو کرتے ہوئے شفاف پانی کے قطرے رعبِ حسن سے محترمہ کے رخ پر ٹھہر تے ہیں تو ہیرو صاحب اس ملکوتی حسن کی گہرائیوں میں ڈوب ڈوب جاتے ہیں۔ یا پھر ہیرو صاحب ( جو اکثر کزن بھی ہوتے ہیں) اچانک سے دروازہ کھول کر بے دھیانی میں کمرے میں گھس آتے ہیں تو مصلے پہ بیٹھی ہیروئن کو اپنے کومل کومل ہاتھ اٹھائے دعا مانگتے دیکھ کر وہیں ڈھیر ہو جاتے ہیں اور “صوفیانہ عشق” فرمانے لگتے ہیں۔ عمیرہ احمد اس امر سے خوب واقف ہیں کہ کب ہیرو نے ہیروئن کو وضوکراتے ہوئے اس کی پنڈلیوں کا دیدار کرنا ہے اور کب مصلہ پکڑا نا ہے۔

یاد رہے کہ یہ سارا “صوفیانہ عشق” شادی سے پہلے ہو رہا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ بھلا شادی کے بعد بھی کوئی عشق ہوتا ہے، شادی کے بعد تو ناول ہی ختم ہو جاتا ہے۔ مذہبیت اور جھوٹے عشق کے ملغوبے سے تیارہ کردہ کئی نمونے میں نے پچھلے چھ سال کی یونیورسٹی کی زندگی میں ملاحظہ کیے ہیں۔

مثال کے طور پہ ایک محترمہ نے رمضان کا اعتکاف اس نیت سے کیا کہ شاید اپنے ہم جماعت کے ساتھ ممنوعہ جسمانی تعلقات بحال ہو جائیں جو چار سال تک جاری رہنے کے بعد ٹوٹ گئے تھے یعنی عرفِ عام میں بریک اپ ہو گیا تھا۔

نمرہ احمد نے “مصحف” میں قرآن مجید کو عملی طور پہ ایک ایسی کتاب میں بدل دیا ہے جس سے وقت پڑنے پر دیوانِ حافظؔ کی طرح فال نکالی جا سکے۔ عمیرہ احمد نے تو اور بھی جرات سے کام لیا کہ اس عاشقانہ (حسرت موہانی کی اصطلاح میں فاسقانہ) آنکھ مچولی میں قادیانیت اور اسلام ایسا نازک مسئلہ بھی لے آئیں۔

بس ایک مسئلہ ہے کہ ہمارے ملک میں اس طرح کی نازک دل، سفید پوش گھرانوں کی لڑکیاں تو لاکھوں مل جائیں گی مگر بدقسمتی سے اس طرح کے امیر کبیر، خوبرو، دراز قد، اعلیٰ تعلیم یافتہ، بہترین نوکری/کاروبار کے حامل نوجوان کزن زیادہ تعداد میں نہیں پائے جاتے۔

پھر ایک بات اور بھی ہے کہ ناول کا ہیرو تو ہیروئن کے ملکوتی حسن سے متاثر ہو جاتا ہے مگر عام زندگی میں خوبصورتی اتنی ارزاں نہیں۔ زندگی کی حقیقت سے ان ناولوں کا کوئی تعلق نہیں، حتیٰ کہ جن ناولوں میں مڈل کلاس ماحول دکھایا جاتا ہے، وہ بھی حقیقت سے کوسوں دور ہوتا ہے۔ اکثر اوقات ان ناولوں میں دکھایا گیا ماحول اتنا ہی غیر حقیقی ہوتا ہے جتنا سینکڑوں اقساط پہ مشتمل ہندوستانی ڈراموں کا ہوتا ہے۔ یہ ناول پڑھ پڑھ کے نوجوان لڑکیاں خوابوں کے آسمان پہ پہنچ جاتی ہیں اور وقت جب انہیں حقیقت کی سنگلاخ زمین پہ لا کر پٹختا ہے تو جذبات کے نازک آبگینے کرچی کرچی ہو جاتے ہیں۔

قصہ مختصر کہ ڈائجسٹ مارکہ خواتین لکھاری کلاسیکی ادب کی روایت سے ناواقف ہیں اور سستی جذباتیت، جھوٹی مذہبیت اور ناقص متصوفانہ خیالات کے پھیلاؤ میں مصروف ہیں۔ ہم نے تو چند ایک قباحتوں کا سرسری سا ذکر کیا ہے وگرنہ حقیقت میں ایک طویل فہرست ہے۔ پس جو نوجوان ڈائجسٹ مارکہ خواتین کے ناولوں کو کسی وجہ سے پڑھ چکے ہیں انہیں چاہیے کہ ان ناولوں کا دف مارنے کے لیے اچھے ناول ضرور پڑھیں۔ پرانے ادیبوں کے علاوہ آج کل بھی اچھے لکھنے والے پائے جاتے ہیں مثلا علی اکبر ناطق، مشرف عالم ذوقی وغیرہ۔

اس کے علاوہ اردو کے کم از کم دو بڑے ناول نگار اب بھی ہمارے درمیان موجود ہیں یعنی مستنصر حسین تارڑ اور مرزا اطہر بیگ۔ حتیٰ کہ ہمارے عہد کے ایک بڑے تنقید نگار شمس الرحمان فاروقی نے بھی ایک ضخیم مگر اچھا ناول لکھ ڈالا ہے۔ اسد محمد خان ایسا کہانی کار موجود ہے۔ اچھا ناول پڑھنے کی خواہش رکھنے والوں کو یہ لکھنے والے مایوس نہیں کریں گے۔

کئی سالوں سے اردو کی سب سے بڑی ناول نگار کا منصب بھی ایک خاتون ہی کے پاس ہے، میری مراد قرۃ العین حیدر سے ہے


بشکریہ دانش پی کےڈاٹ کام

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *