نیو لبرل ازم اور کمرشل تعلیم

  • December 30, 2017 1:35 pm PST
taleemizavia single page

ڈاکٹر ثاقب ریاض

تاریخ عالم کے اوراق اس پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں کہ قوموں کی ترقی کا راز تعلیم کے حصول میں مضمر ہے۔ جن قوموں نے حصولِ علم پر توجہ دی اور تعلیم کا فروغ جن کی ترجیح اول رہا‘ ترقی‘ کامیابی اور کامرانی ان قوموں کا مقدر رہا۔

اور جن بدقسمت قوموں نے حصولِ علم کو اہمیت نہ دی‘ اپنی تاریخ کا بیشتر حصہ جنگ وجدل میں گزار دیا‘ جہالت ان کا مقدر بنی اور وہ ذلت و رسوائی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوب گئیں۔

بلاشبہ سرکاری شعبے میں قائم تعلیمی ادارے ملک میں تعلیم کے فروغ کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں لیکن روز بروز بڑھتی ہوئی آبادی کی تعلیمی ضروریات کے پیشِ نظر سرکاری شعبہ یہ ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔ فروغ تعلیم کا ہدف اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک کہ پرائیویٹ سیکٹر اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا نہ کرے۔

لیکن اس تصویر کا دوسرا رخ تابناک نہیں بلکہ یہ رُخ انتہائی پراگندہ اور تکلیف دہ ہے۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں کمرشلائزیشن کے رجحان نے معاشرے میں شدید انتشار پیداکردیا ہے۔

اُردومیڈیم اور انگلش میڈیم سکولوں کے رجحان نے طبقاتی کشمکش کو جنم دیا ہے جو بڑھتے بڑھتے پورے ملک میں پھیل گئی ہے۔ افراط و تفریط کے اس رجحان نے معاشرے میں بہت سے مسائل پیدا کردیئے۔

ضرور پڑھیں؛ پاکستان میں “پی ایچ ڈی” کی خصوصی آفر

انگلش میڈیم سکولوں میں پڑھنے والے اشرافیہ کے بچے ہر شعبہ زندگی میں آگے نکلنے لگے اور اُردو میڈیم اور ٹاٹ سکولوں میں پڑھنے والے غریب بچے نظر انداز ہونا شروع ہوگئے۔ یوں اُردو میڈیم اور انگلش میڈیم سکولوں کی تفریق نے معاشرے میں بڑے مسائل پیدا کردیئے۔

معاشرے کے بہت سے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھی اپنے بچے انگریزی میڈیم سکولوں میں داخل کرادیئے جس سے پرائیویٹ سکولوں اور کالجوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر حکومتی سرپرستی میں چلنے والے تعلیمی اداروں میں انگریزی مضمون کو لازمی حیثیت دے دی گئی اور ہزاروں کی تعداد میں انگریزی مضمون کے اساتذہ تعینات کر دیئے گئے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نجی تعلیمی اداروں میں کمرشلائزیشن کی وباء بڑھتی گئی۔ چھوٹے بڑے سکول بن گئے اور پھر بڑے سکولوں نے ملک بھر میں اپنی شاخیں کھول کر تعلیمی شعبے میں تسلط قائم کرنا شروع کردیا۔ ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اچھے سے اچھے سکول میں داخل کرائے۔

پرائیویٹ سکولوں نے لوگوں کی اس خواہش کے پیشِ نظر اپنے سکولوں کی بہت سی شاخیں کھول لیں اور فیسوں میں بے تحاشا اضافہ کردیا۔ سکول فیس کے علاوہ تعلیمی اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ کتابوں‘ کاپیوں‘ سٹیشنری کے اخراجات اور پک اینڈ ڈراپ کے اخراجات شامل کئے جائیں تو یہ فہرست ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔

لازمی پڑھیں؛ پاکستان کا تعلیمی ڈھانچہ کب اور کیسے بدلا گیا؟

ایسالگتا ہے یہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے کسی قاعدے اور قانون کے پابند نہیں‘ ان کے اوپر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا۔ یہ اپنی مرضی سے جب چاہیں فیسوں میں اضافہ کردیتے ہیں۔ ان سکولوں میں آکسفورڈ سلیبس کی انتہائی مہنگی کتب پڑھائی جاتی ہیں جس سے تعلیمی اخراجات مزید بڑھ جاتے ہیں۔

بڑے پرائیویٹ سکول اب ایک طرح کی ایمپائر بن چکے ہیں جو ملک بھر میں اجارہ داری قائم کر چکے ہیں۔ ان کے مقابلے میں چھوٹے پرائیویٹ سکول بند ہونے پر مجبور ہیں۔ یہ بڑے پرائیویٹ سکول بچوں کو کیا پڑھا رہے ہیں اور ان میں تعلیم حاصل کرنے والی نسل پاکستان کی نظریاتی اساس کے بارے میں کتنا علم رکھتی ہے اور مشاہیر اسلام کے بارے میں کتنی آگاہی رکھتی ہے۔

ان سوالوں کا جواب کچھ حوصلہ افزا نہیں ہے۔مکمل طور پر مغربی نظامِ تعلیم کے مطابق پروان چڑھنے والی نسل اسلامی جمہوریہ پاکستان کی نظریاتی‘ ثقافتی اور معاشرتی اقدار کا تحفظ کس طرح سے کر پائے گی؟

سکولوں اورکالجوں کے نصاب سے اسلام‘ تاریخ اسلام اور نظریہ پاکستان کے اسباق کو نکال کر ہم کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ابتدائی تعلیم اور سیکنڈری تعلیم، بشمول او لیول اور اے لیول، پر صرف چند ایک بڑے پرائیویٹ سکولوں کا قبضہ ہو چکا ہے اور اُن بڑے گروپوں کا مقصد پیسہ کمانے کے سوا کچھ بھی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں؛ پاکستان کا نظام تعلیم اور ذہنی آزادی کا تصور

آج سے 20 سال پہلے کسی یونیورسٹی میں داخلہ بہت بڑا اعزاز سمجھا جاتا تھا لیکن اب ہر نوجوان کسی نہ کسی سرکاری یا پرائیویٹ یونیورسٹی میں داخلہ لے سکتا ہے۔ اس وقت بہت بڑی تعداد میں نوجوان نجی شعبے کی جامعات میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ بلاشبہ نجی شعبے کی جامعات نے ملک میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع میں اضافہ کیا ہے اور ان میں سے بعض یونیورسٹیاں عالمی معیار کی جامعات میں شامل کی جاتی ہیں لیکن مجموعی طور پر صورت حال کچھ زیادہ تسلی بخش نہیں۔

پرائیویٹ یونیورسٹیاں کمرشلائزیشن کے راستے پر گامزن ہیں اور ان کا مقصد صرف اور صرف پیسہ کمانا رہ گیا ہے۔ بڑے بڑے تجارتی گروپوں نے صابن اور سیمنٹ کے کارخانے بند کرکے یونیورسٹیاں کھول لی ہیں۔

سرمایہ کار اور صنعتکار اب اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں داخل ہو کر ڈگریاں بانٹ رہے ہیں۔ آخر ان کو یہ حق کس نے دیا؟ بظاہر تو پرائیویٹ یونیورسٹیاں ہائر ایجوکیشن کمشن کی منظوری سے ان کے قواعد و ضوابط کی پابند ہیں لیکن عملاً وہ اپنے سارے فیصلے خود کرتے ہیں۔ پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے مالک صنعتکار اور سرمایہ دار ہی فیصلہ کرتے ہیں کہ ان کی ڈگریوں کی قیمت کیا ہے۔

سرمائے کے بل بوتے پر وہ عالیشان عمارات تعمیرات کرکے اور قیمتی قالین اور فرنیچر رکھ کر طلباء و طالبات کو داخلہ لینے پر مائل کرتے ہیں پھر اپنی مرضی کی فیس لیتے ہیں اور اپنی صنعتوں کو پروان چڑھاتے ہیں۔

کاروباری لوگوں کی بنائی ہوئی یہ یونیورسٹیاں ملک کے طول و عرض میں قائم ہیں اور بھاری بھر کم فیسیں لے کر طلباء و طالبات کی بڑی تعداد کو داخلہ دے دیا جاتا ہے۔ کمرشلائیزیشن کا یہ عالم ہے کہ بعض یونیورسٹیوں نے مارکیٹوں اور پلازوں میں بھی کیمپس قائم کر رکھے ہیں۔ اور صرف فیس کی رقم لے کر ڈگریاں بانٹی جارہی ہیں۔

ہائر ایجوکیشن کمشن نے نجی یونیورسٹیوں کے لئے جو اصول وضوابط مقرر کررکھے ہیں ان پر بہت کم عملدرآمد ہوتا ہے۔ زیادہ تر پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے کے لئے میرٹ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ داخلہ لینے کے خواہشمند ہر نوجوان کو داخلہ دے دیا جاتا ہے چاہے اس نے تھرڈ ڈویژن ہی حاصل کر رکھی ہو۔

بعض اوقات تو بی اے اور بی ایس سی میں فیل ہونے والے کو بھی مشروط طور پر ایم اے‘ ایم ایس سی میں داخلہ دے دیا جاتاہے۔

جانیئے؛ پاکستان کی اشرافیہ اور تعلیم کا حاکمیتی ماڈل

کاروباری سوچ کے حامل سرمایہ داروں اور صنعتکاروں نے تعلیم کو بھی کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے اور ان کے نزدیک ان کی پرائیویٹ یونیورسٹی پیسہ کمانے کا ویسا ذریعہ ہے جیسا کہ ان کے کارخانے اور یہ لوگ یونیورسٹی بھی کارخانے کی طرز پر چلارہے ہیں۔ کمرشلائزیشن کی اس دوڑ میں اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں بے وقعت ہو کر رہ گئی ہیں۔

بعض پرائیویٹ یونیورسٹیوں نے ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرام شروع کرکے ہزاروں کی تعداد میں داخلے کر لئے ہیں جب یہ نوجوان اعلیٰ ترین ڈگریاں لے کر ملازمت حاصل نہ کرسکیں گے تو اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہوگا۔

مارکیٹوں اور پلازوں میں قائم ہونے والی غیر معیاری یونیورسٹیوں کو بند کیا جائے۔ نجی شعبے میں کام کرنے والی یونیورسیٹی کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے طلباء وطالبات کو بہترین تعلیمی سہولیات فراہم کریں‘ بہترین لائبریریاں اور لیبارٹریاں قائم کریں جہاں طلبا تعلیم اور تربیت حاصل کریں۔ غیر نصابی سرگرمیوں پر توجہ دی جائے اور کھیلوں کے لئے جگہ مختص کی جائے۔

ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تحقیقی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے اور عالمی معیار کے مطابق تحقیقی مقالہ جات لکھوائے جائیں۔ ان مقالہ جات کی ایوالویشن ترقی یافتہ ممالک کے پروفیسروں سے کرائی جائے۔

ہائر ایجوکیشن کمشن کو چاہئے کہ ملک میں تحقیق کے کلچر کو پروان چڑھایاجائے اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں ریسرچ کے عمل کی نگرانی کی جائے۔ فیسوں کے معاملات کی نگرانی کی جائے اور سالانہ فیسوں کی بالائی حد مقرر کردی جائے۔

افسوس کا مقام ہے کہ دنیا کی ٹاپ500 یونیورسٹیوں میں ہمارے ملک کی کسی بڑی یونیورسٹی کا نام نظر نہیں آتا۔ اس صورت حال کو تبدیل ہونا چاہئے۔ کمرشلائزیشن کے منہ زور گھوڑے کو لگام دی جائے اور تعلیم کے فروغ کو اس کی صحیح روح کے مطابق پروان چڑھایا جائے۔ سرمایہ داروں کو یہ باور کرایا جائے کہ تعلیمی ادارے کو اپنے کارخانوں سے الگ سمجھیں اور تعلیمی اداروں کو صرف تعلیم پھیلانے کے ادارے تک ہی محدود رکھیں۔


Saqib Riaz Final

ڈاکٹر ثاقب ریاض علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ڈیپارٹمنٹ آف ماس کیمونیکیشن کے ڈائریکٹر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.