پاکستان میں پی ایچ ڈیوں کا بازار

    November 19, 2017 1:55 pm PST
taleemizavia single page

فرخ سہیل گوئندی

جنرل پرویز مشرف نے دو ہزار دو کے انتخابات میں گریجویٹ اسمبلیوں سے ملک میں تبدیلی کا خواب دیکھا۔ جرنیلی جمہوریت کو یہ یقین تھا اگر منتخب اراکین اسمبلی تعلیم یافتہ ہوں گے تو وہ ملک کی بہتر قیادت کر سکیں گے۔

یہ ایک علیحدہ بات ہے کہ کیا ہمارے جیسے معاشرے میں صرف تعلیم یافتہ منتخب نمائندے ہی ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں یا نہیں۔ لیکن اس شرط کے بعد گزشتہ بارہ سالوں میں گریجویشن کی شرط پر جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ گریجویٹ اسمبلیاں اعلٰی نمائندوں کی شکل میں کس قدر تعلیم یافتہ قیادت فراہم کر پائیں اس کا علم ہم سب کو ہے لیکن گریجویشن سے محروم لوگوں نے ڈگری یافتہ ہونے کے لیے جعلی ڈگریاں حاصل کرنے کیلئے جو کرتوت کیے اس نے ان لوگوں کی عظمت کو تاتار کر کے عوام کے سامنے رکھ دیا۔

اعلیٰ خاندانوں کے چشم و چراغ، جو ٹیڑھی زبان میں انگریزی بول کر لوگوں کو متاثر کرتے تھے جب ان کی ڈگریوں کی تحقیق ہوئی تو علم ہوا کہ ان کے گریجویٹ ہونے کی حقیقت کیا ہے۔ جس بے شرمی سے ان، ان پڑھوں نے جعلسازی کی وہ ان کے کردار کی شفافیت کی حقیقت سامنا لاتا ہے۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں ڈاکٹر عطاء الرحمان نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے پاکستان میں بے شک ایک اعلیٰ منصوبہ بندی کی اور پھر ہم نے دیکھا کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں نے دھڑا دھڑ تعلیمی و تحقیقی منصوبوں کا آغاز کر دیا۔

یہ پڑھیں؛ پاکستان میں “پی ایچ ڈی” کی خصوصی آفر

اس دوران مجھے بھی ایک یونیورسٹی نے ایم فل کی کلاس میں مشاہدے کے لیے دعوت دی کہ آپ اسی شعبے سے فارغ التحصیل ہیں لہذا ذرا آکر نصاب، تدریس اور طالب علموں کی علمی سطح کا جائزہ لیں۔ میرے جیسے صرف ایم اے ڈگری رکھنے والے اور ماضی کے عام سے تعلیمی ریکارڈ کے حامل شخص کیلے یہ اعزاز سے زیادہ امتحان تھا۔

چار دن تک میں پولیٹیکل سائنس کی ایم فل کلاس میں بیٹھا اور دعوت کے مطابق طلباء اور کورس کا جائزہ لیا تو مجھے یہ جان کر دُکھ ہوا کہ ایم فل کی یہ کلاس کسی بہتر نظام تعلیم رکھنے والے ملک کی پولیٹیکل سائنس کی گریجویشن کی کلاس کی سطح سے بھی کم ہے۔ ہائر ایجوکیشن کے دروازے کھلنے کے بعد جو ہائر ایجوکیشن کا حال اس ملک میں ہوا اور ہو رہا ہے وہ حال میڈیا، سیاست، تجارت اور کسی بھی شعبے کے زوال سے کم نہیں۔

گریجویٹ اراکین اسمبلیوں کے خواب سے پی ایچ ڈی یافتہ ڈاکٹروں کو جنم دینے کے بعد جو کچھ ہمارے وطن عزیز میں ہورہا ہے اس پر اتنا ہی عرض ہے کہ اب ہم اپنے آپ کو دھوکا دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ذرا پولیٹیکل سائنس، میڈیا اسٹڈیز، سوشیالوجی، اُردو، کشمیریات اور دیگر علوم پر گزشتہ دس سالوں میں ڈاکٹریٹ کرنے والوں کی ایک قومی کانفرنس بلائیں تو معلوم ہو جائے گا کہ ان کی تحقیقی یا مطالعے کی صلاحیت کتنی ہے؟

لازمی پڑھیں؛ ایچ ای سی کے پی ایچ ڈی سکالرز کا معمہ

مصر میں ایک کانفرنس اسلام اور مغرب کے موضوع پر منعقد ہوئی۔ میں بھی اس کانفرنس میں تہذیبوں کا تصادم نامی کتاب کے مصنف حسنین ہیکل اور تُرکی کے احمت دعوت اولو کے ساتھ شریک تھا۔ اس کانفرنس میں چوبیس سال کے مراکشی نوجوان نے جب عرب یہودی تعلقات کے موضوع پر خیالات کا اظہار کیا تو میں اس کے مطالعے سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ میرے مراکشی دوست، محمد نے ان یہیودیوں پر ڈاکٹریٹ کی تھی جو مراکش سے لے کر الجزائر، مصر اور سوڈان تک مختلف عرب ممالک میں صدیوں سے رہتے آئتے

ہم اخبارات میں پی ایچ ڈی کرنے والوں کی خبریں بھی آئے روز پڑھتے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی حضرات نے پی ایچ ڈی ڈگری عطاء ہونے کے بعد اپنے اعزاز میں سیمینار بھی منعقد کیے ہیں۔ مجھے جب ان نئے ڈاکٹرز سے ملاقات اور گفتگو کا موقع ملتا ہے تو ان ڈاکٹروں کی علمی سطح پر شرمندگی ہوتی ہے کہ کیا یہ ہمارے تعلیم یافتہ طبقے کی اعلیٰ ڈگری یافتہ کلاس ہے؟

گریجویٹ اسمبلیوں، ہائر ایجوکیشن کے تحت پی ایچ ڈی کی پیداوار کے ساتھ ایک کارنامہ ہم نے اور بھی سر انجام دینا شروع کیاہے، یعنی اعزازی پی ایچ ڈی ڈگریوں کا، جس کے لیے نئی دوڑ لگ گئی ہے۔ سیاست دان کیا، صحافی کیا بلکہ دوسرے ممالک کے لیڈروں کو بھی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دینے کا مقابلہ عروج پر ہے۔

ہماری ہائر ایجوکیشن کی علمی سطح یوں ہی گرتی رہی اور ہم نے ریاستی سطح پر اس کو بچانے کی کوشش نہ کی تو پاکستان کبھی بھی نئے علوم کی تخلیق کا مرکز نہیں بن سکے گا۔


فرخ سہیل گوئندی لکھاری اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں وہ روشن خیالات کے حامی سمجھتے جاتے ہیں۔ لاہور میں جمہوری پبلیکیشنز کے نام سے کتابوں کی اشاعت بھی کرتے ہیں۔

  1. In science and engineering, it is not easy to get PhD in Pakistan. The requirements are very strict. These could be equated with PhDs from many foreign countries.

  2. اس میں کوئی شک نہیں کہ جس صورتحال کا ادراک اور اظہار آپ نے کیا وہ صد فیصد درست ہے۔بلکہ شاید معاملہ اس سے بھی کہیں زیادہ گھمبیر اور تشویش ناک ہے۔ تحقیق کے نام پر ڈگریوں کی جو ہولی کھیلی جا رہی ہے اس پر سوال قائم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ پڑھ کر بہت اچھا لگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *