پھر بی زیڈ یو لاہور کا قصہ ختم ہوگیا

    December 5, 2016 10:42 pm PST
taleemizavia single page

حافظ محمد مزمل

قو مو ں کی عروج و تر قی علم کی مر ہون منت ہے جو قوم علمی سفر میں پیش پیش ہو اسے نہ صرف عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے علم ایسا نور ہے جس سے جہا لت کی تاریکیاں کافور ہوتی ہیں ۔ یہ ایک ایسی قوت ہے جس سے تسخیر کا ئنات کا سبق ملتا ہے ۔یہ ایسی لازوال دولت ہے جس سے انسان عزت و وقار اور عظمت و سیا دت کے مقام رفیع پر فائز ہو تا ہے ۔

پنجاب میں آبادی کا دباؤ زیادہ ہونے کی بناء پر اور گزشتہ دہائی میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کا رجحان بڑھنے کی وجہ سے سرکاری یونیورسٹیوں پر داخلوں کے دباؤ میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے ہزاروں طلباء مقابلہ سخت ہونے کی بناء پر سرکاری یونیورسٹی میں داخلہ سے محروم رہ جاتے ہیں۔

سرکاری یونیورسٹیوں میں داخلوں کی گنجائش محدود ہونے کی وجہ سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی نشوونما تیز ہوگئی گویا باقی رہ جانے والے طلباء کو پرائیویٹ یونیورسٹیوں اور کالجوں کا رُخ کرنا پڑتا ہے جہاں کی مہنگی تعلیم ان کے والدین کی کمر توڑ دیتی ہے۔

پنجاب میں اس سنگین مسئلے کے حل کا درمیانی راستہ نکالا گیا یوں صوبے بھر میں سرکاری جامعات اور کاروباری شخصیات کے ساتھ معائدات کر کے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کیمپس کھولے، ان کیمپس کی تعداد گیارہ بتائی جاتی ہے جہاں کم و بیش تیس ہزار سے زائد طلباء زیر تعلیم ہیں۔ لاہورمیں اعلیٰ تعلیم کی غرض سے بیرون لاہور طلباء کی بہت بڑی تعداد مقیم ہے گویا اسی کشش کو مد نظر رکھتے ہوئے ملتان کی بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی نے پارٹنر شپ کے تحت یہاں پر اپنا ذیلی کیمپس کھول لیا جس کی نگرانی پرائیویٹ ادارے کو سُپرد کی گئی۔

دو ہزار تیرہ میں ذیلی کیمپس کھولنے کے منصوبے کا آغاز ہوا تھا اور اس منصوبے کے تحت لاہور میں تین سرکاری یونیورسٹیوں نے اپنے ادارے کھولے جس میں گجرات یونیورسٹی، سرگودھا یونیورسٹی اور بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں؛ کامسیٹس کی ڈبل ڈگری کی فراڈ کہانی اُستاد کی زبانی

گجرات یونیورسٹی اور سرگودھا یونیورسٹی کو تو قانونی پیچیدگیوں کو اُس طرح سے سامنے نہیں رہا جیسی مشکلات بی زیڈ یو لاہور کے لیے پیدا ہوئیں اس مشکل کا آغاز خود اسی یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ سے ہوا جسے بعد میں محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب نے مزید مشکلات سے دو چار کیا۔

کیمپس کُھل گیا، کلاسز کا اجراء ہوگیا، کینال روڈ پر ایک نیا تعلیمی گھر بن گیا اور پھر اچانک ہائر ایجوکیشن کمیشن اور محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کو خیال آگیا کہ یہ کیمپس تو ہی جعلی اور یہاں پر زیر تعلیم طلباء کی تو کوئی قانونی حیثیت ہی نہیں ہے گویا یکا یک اس کیمپس کے طلباء میں کُہرام مچ گیا اور پھر ایک نہ ختم ہونے والا احتجاج شروع ہوگیا۔ آئے روز کینال روڈ بند، طلباء کلاس روم کی بجائے سٹرکوں پر، عوام ٹریفک میں بے بسی کا امتحان دیتی رہی اور پھر ان طلباء کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑے ہوئے؟

طلباء نے سرکاری یونیورسٹی کے مقابلے پر زیادہ فیس دی، ماں باپ نے خرچہ کیا اور پھر جو ماجرا ہوا لاہور اس کا گواہ رہے گا۔ کہ کیسے ایک کیمپس قانونی تقاضوں کو پورے کیے بغیر شروع ہوا اور پھر کیسے حکومت نے ابتداء میں اپنی بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ طلباء کے احتجاج کا کبھی پہلا راؤنڈ، کبھی کوارٹر فائنل، کبھی سیمی فائنل ہوتا اور کبھی میچ ڈرا ہوجاتا اور کبھی میچ فکس ہوجاتا لیکن اس احتجاج کے فائنل میچ تک پہنچنے کے لیے انہی طلباء کو سردی میں اپنی رات کینال روڈ پر کُھلے آسمان تلے گزارنا پڑی۔

لاہور کا یہ احتجاج تو ایک طرف بلکہ ریئس جامعہ خواجہ علقمہ کو اس ذیلی کیمپس کھولنے کی پاداش میں نیب نے گرفتار کیا اور ہتھ کڑی لگا کر عدالت تک لے گئے اور آج کئی مہینے گزر گئے نیب کرپشن کی دستاویزات سامنے نہیں لا سکی شاید کرپشن ہوئی نہیں تھی قانونی غلطیاں ضرور ہوئی تھیں۔

یہ وہی خواجہ علقمہ ہیں جن کا تعلق خواجہ نظام الدین اور خواجہ خیر الدین کے گھرانے سے ہے جو تحریک پاکستان میں پیش پیش تھے۔ علقمہ کی جس طرح سے عزت افزائی کی گئی تاریخ اسے ہمیشہ یاد رکھے گی۔ ایک طرف اسی معاشرے میں مالی کرپشن میں ملوث ڈالر گرل ایان علی کاکیس ہے اور دوسری طرف خالی ہاتھ ریئس جامعہ کا مقدمہ۔ جیت تو پھر سچائی اور علم کی نہیں بلکہ دولت کی ہوئی جس کی بنیاد پر ایان علی کو طاقت میسر تھی اُس کے سامنے ہمارا نظام بے بس دکھائی دیا۔

یہ بھی پڑھیں؛ نصابی کتابیں کیسے نفرت سیکھاتی ہیں؟

بی زیڈ یو کے اس ذیلی کیمپس میں چار ہزار طلباء زیر تعلیم ہیں، احتجاج کے فائنل میچ میں حکومتی دباؤ کے بعد موجودہ ریئس جامعہ لاہور آکر طلباء کے ساتھ مذاکرات کر گئے اور پھران طلباء کے مسقتبل کے بچاؤ کا راستہ نکالا گیا۔ اور ایک بات طے ہوگئی کہ اس کیمپس کی قانونی پیچیدگیاں حل نہیں ہوسکتیں لہذا یہاں کے طلباء ملتان منتقل ہوجائیں جس کے لیے مرکزی کیمپس نے سٹوڈنٹ الرٹ کے ذریعے مطلع کر دیا کہ طلباء بائیس دسمبر تک اپنی رجسٹریشن ملتان کرا لیں تاکہ اُن کا لاہور سے تبادلہ کیا جاسکے۔

بی زیڈ یو کا لاہور میں ذیلی کیمپس قانونی تھا یا غیر قانونی یہ معاملات ابتداء میں کیوں طے نہیں کیے گئے؟ طالب علم سوال کرتے رہے کہ ہمارا قصور بتلاؤ؟ ہمیں کس بات کی سزا؟ کیا ہم نے فیسیں نہیں دیں؟ کیا ہم کلاسز نہیں پڑھتے؟ کیا ہم امتحان نہیں دیتے؟ اگر یہ سب کچھ کیا تو پھر ہماری تعلیم غیر قانونی ہونے کا ذمہ دار کون ہے؟

محکمہ ہائر ایجوکیشن کے وہ افسر کہاں ہیں جنہوں نے اس ذیلی کیمپس کو پہلے قانونی قرار دیا تھا اُن کے خلاف کون کارروائی کرے گا؟ طالب علم کے پاس کیوں کہ طاقت نہیں، پیسہ نہیں، اثر و رسوخ نہیں اس لیے انہیں قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ ان طلباء کو ملتان منتقل کرنے سے پہلے کیا ان طلباء سے کسی نے رائے لی؟ یا پھر صرف اس مسئلے کو محض ختم کرنے کا یہ راستہ اپنایا گیا؟ کیمپس کو بند کرنے کا حل نکالنے سے پہلے ذمہ داروں کو کیوں سزا نہیں دی گئی؟

ابھی تو اس پر عدالت کیا فیصلہ سُناتی ہے اُس پر کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا تاہم اتنا ضرور بتا دوں کہ بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اقبال نے دو روز پہلے یہاں دورہ کیا اور پھر یقین دلایا کہ کیمپس کو لاوارث نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ اسے بلوچستان یونیورسٹی اپنی نگرانی میں چلائے گی جس کے قانونی معاملات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔


muzamil

حافظ محمد مزمل پنجاب فرانزک ایجنسی میں تعینات ہیں، وہ بائیو کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں اور بی زیڈ یو لاہور کیمپس میں بطور اُستاد کام کرتے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *