بابا گرونانک یونیورسٹی میں لبرل آرٹس اور تھیالوجی پڑھائی جائے گی

    October 30, 2019 1:22 pm PST
taleemizavia single page

ترہب اصغر

پنجاب کے شہر ننکانہ صاحب میں وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان نے بابا گرو نانک یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا ہے۔

اس سے قبل گذشتہ حکومت سے تعلق رکھنے والے سابق چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ صدیق الفاروق نے سنہ 2016 میں سکھ مذہب کے بانی اور روحانی پیشوا بابا گرو نانک کے 547 ویں یوم پیدائش کے موقع پر بتایا تھا کہ بابا گرو نانک یونورسیٹی 400 ایکڑ پر تعمیر کی جائے گی جس میں پنجابی کے علاوہ دیگر مضامین بھی پڑھائے جائیں گے۔

یونیورسٹی کی تعمیر پر چھ ارب روپے لاگت آئے گی جبکہ یونیورسٹی تین مرحلوں میں مکمل کی جائے گی۔

’اس یونیورسٹی کے قیام سے علاقے کے لوگوں کو بے پناہ فائدہ پہنچے گا کیونکہ دنیا بھر کے لوگ، خصوصاً سکھ برادری، اس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے ننکانہ صاحب آئیں گے۔‘

پنجاب کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم راجہ یاسر ہمایوں کے مطابق بابا گرو نانک یونیورسٹی کا نقشہ سکھوں کے طرز تعمیر کے مطابق بنایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تعمیر کے بعد ہی پڑھنے کی خواہش رکھنے والے طالب علم یہاں داخلہ لے سکیں گے۔

وفاقی وزیر داخلہ برگیڈئیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ یہ یونیورسٹی دوسری یونیورسٹیوں سے تھوڑی مختلف ہو گی۔

’اس یونیورسٹی میں طالب علموں کو دیگر مضامین کے ساتھ ساتھ خالصہ اور پنجابی بھی پڑھائی جائے گی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ حکومت اسے انٹرنیشنل یونیورسٹی بنانے کو کوشش کر رہی۔

صوبائی وزیر تعلیم یاسر ہمایوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں پانچ شعبہ جات قائم کیے جائیں گے۔ ان میں مذہب و عقائد، لبرل آرٹس اور سائنس، فنِ تعمیر، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جنوبی ایشیائی علوم شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پنجابی اور خالصہ زبانیں سکول آف لبرل آرٹس اور سائنسز میں پڑھائی جائیں گی۔

’سکول آف تھیالوجی میں صوفی ازم، روحانیت اور بابا گرو نانک کی تعلیمات کے حوالے سے پڑھایا جائے گا اور دنیا بھر میں یہ یونیورسٹی روحانیت کی تعلیم کے حوالے سے جانی جائے گی۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ دوسرے ممالک میں سکھ کمیونٹی کے لوگوں نے اس پراجیکٹ میں فنڈنگ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں 10 ہزار طالب علم تعلیم حاصل کر سکیں گے۔

سابق ایم پی اے پنجاب اسمبلی سردار رمیش سنگھ اروڑہ کہتے ہیں کہ یونیورسٹی بنانے کا اعلان 14 سال پہلے کیا گیا تھا لیکن آج تک کوئی حکومت اسے مکمل نہیں کرسکی۔

تاہم انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی کا قیام خوشی کی بات ہوگی۔

’اس یونیورسٹی کے قیام سے دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت چہرہ دیکھا جائے گا۔ کرتار پور راہداری منصوبے کے بعد اس یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا جانا انتہائی اچھا عمل ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’حکومت کے اس اقدام سے دنیا میں پاکستان سے متعلق شکوک و شبہات بھی دور ہو جائیں گے اور یہ تاثر جائے گا کہ پاکستان اپنی اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھتا ہے۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *