میں وکیل ہوں، میرے سر پر دوپٹہ دے دو: بازیاب وکیل کی ویڈیو وائرل

    August 24, 2020 12:19 am PST
taleemizavia single page

اوکاڑہ: دیپال پور سے پندرہ اگست کو اغواء ہونے والی خاتون وکیل ارشاد نسرین سات روز بعد قریبی قصبے سے سٹرک کنارے چھوڑ دیا گیا۔

ارشاد نسرین کے ویڈیو بیان کے مطابق چار افراد نے چودہ اگست کو دیپال پور اپنے دفتر کے باہر سے اغواء کیا گیا تھا اور انھیں بائیس اگست کی رات کو اغواء کاروں نے سٹرک کنارے پھینک دیا۔

اغواء کاروں نے خاتون ارشاد نسرین کو بندھے ہاتوں اور منہ پر بندھی رسی کے ساتھ رات گئے سٹرک کنارے چھوڑا۔

علاقہ مکینوں نے خاتون کو ابتدائی طور پر ریسکیو کیا اور اس دوران ایک شہری کی جانب سے ویڈیو بھی ریکارڈ کی گئی۔ ویڈیو بیان میں خاتون ارشاد نسرین نے بتایا کہ وہ پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں اور اس دوران انھوں نے شہریوں سے کہا کہ میں وکیل ہوں، میرے سر پر دوپٹہ دے دو۔

ارشاد نسرین کے اغواء کی ایف آئی آر پندرہ اگست کو سٹی تھانہ دیپال پور میں درج کرائی گئی۔ ایف آئی آر کے مطابق خاتون وکیل ارشاد نسرین دیپال پور کچھری معمول کے مطابق میاں اسلم شاہ جوئیہ ایڈووکیٹ کے چیمبر پر آئی تھی ۔

ارشاد نسرین جب چیمبر سے باہر نکلی تو انھیں چار نامعلوم افراد نے اسلحے کے زور پر اغواء کیا، یہ ایف آئی آر ارشاد نسرین کے بیٹے کی درخواست پر درج کی گئی۔

ارشاد نسرین کے ویڈیو بیان اور اغواء کے کیس پر وکلاء برداری کی جانب سے سخت رد عمل آیا ہے۔ گزشتہ دو مہینوں کے دوران قصور، فیصل آباد اور سرگودھا میں وکلاء کے قتل کے بعد خاتون وکیل کا اغواء ہونے پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔

سید شہباز بخاری لاہور ہائیکورٹ کے وکیل ہیں

چیئرمین لیگل انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ ایڈووکیٹ سید شہباز بخاری نے تعلیمی زاویہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خاتون وکیل کے اغواء کی مذمت کرنے سے انصاف نہیں ملے گا، حکومت کی تاحال خاموشی پر وکلاء برادری میں تحفظات پائے جا رہے ہیں۔ انھوں نے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت سے مطالبہ کیا ہے کہ اغواء کاروں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *