برطانیہ کا ترقی پذیر ملکوں کیلئے ایجوکیشن ایڈ میں 50 فیصد اضافہ

    February 4, 2018 11:21 am PST
taleemizavia single page

ویب ڈیسک

برطانیہ ترقی پذیر ملکوں کے لئے ایجوکیشن ایڈ میں 50 فیصد اضافہ کرے گا۔ انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ سیکرٹری پینی مورڈانٹ نے وعدہ کیا کہ یہ اوورسیز ایجوکیشن امداد 50 فیصد اضافے کے ساتھ55ملین پونڈ سالانہ ہو جائے گی۔ حکومت کو اس کی اوورسیز ایجوکیشن ایڈ کے سخت وعدے پر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس نئے اعلان کی وجہ سے ایجوکیشن پروجیکٹس کے نئے دروا ہوں گے۔

مس پینی مورڈانٹ نے کہا کہ غریب تر ملکوں میں سکولز کی سپورٹ کرنا زیادہ خوش حال مستقبل کے لئے بہترین سرمایہ کاری ہے۔ تاہم ایڈ ایجنسیز نے متنبہ کیا کہ اعلان کردہ رقم بھی ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تین برسوں میں225ملین پونڈ کی اوورسیز ایجوکیشن فنڈنگ کریں گے اور اس کا اعلان سینیگال میں گلوبل ایجوکیشن کانفرنس میں کیا جائے گا جس کی میزبانی فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون اور سینیگال کے صدر میکلے سال کریں گے۔

اس ایونٹ میں انٹرنیشنل لیڈرز گلوبل پارٹنرز شپ فار ایجوکیشن (جی پی ای) کیلئے فنڈنگ کے وعدے اور اعلانات کریں گے۔ یہ پارٹنرشپ ترقی پذیر ملکوں میں ایجوکیشن کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے کام کر رہی ہے۔ سابق آسٹریلوی وزیراعظم جولیا گیلارڈ اب گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن کی چیئر ہیں۔ جولیا گیلارڈ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے اوورسیز ایجوکیشن ایڈ میں50فیصد اضافے کے اعلان سے لاکھوں بچوں کو سکول جانے کے مواقع ملیں گے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے پچھلا کنٹری بیوشن52ملین پونڈ سالانہ تھا اور اب وہ75ملین پونڈ سالانہ کنٹری بیوشن دے گا۔ ایڈ ایجنسیز یہ سوالات اٹھا رہی ہیں کے آیا پورا کنٹری بیوشن دیا جائے گا یا یہ نیا کنٹری بیوشن دوسرے ملکوں کے کنٹری بیوشن کی سطح سے مشروط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر دوسرے ڈونرز کی جانب سے خاصا کنٹری بیوشن نہیں دیا گیا جیسا کہ ماضی میں ہوا تو پھر ایڈ ایجنسیز نے متنبہ کیا کہ پھر برطانیہ کے کنٹری بیوشن کی سطح میں بھی خاصا اضافہ نہیں ہوگا۔

تاہم مس پینی مورڈانٹ یہ کہیں گی کہ برطانیہ ممکنہ صلاحیتوں کو ضائع ہونے سے بچانے میں مدد کرنے کا خواہاں ہے۔ ان حالات میں جب پرائمری سکول چھوڑنے والے دنیا کے آدھے بچے نہ لکھ سکتے ہیں اور نہ پڑھ سکتے ہیں یوکے سپورٹ کا مقصد اگلے تین برسوں میں 880000بچوں کو سکول میں رکھنا ہے۔ ان میں ایسے ممالک بھی شامل ہیں جو سیاسی تشدد اور جنگ سے متاثر ہیں۔ اس فنڈنگ کے ذریعے2400کلاس رومز تعمیر کئے جائیں گے اور170000ٹیچرز کی تربیت کی جائے گی۔ ٹیچرز کی کوالٹی پر بھی توجہ مرکوز کی جائے گی۔

اقوام متحدہ نے وارننگ جاری کی تھی کے سب صحارا افریقہ میں سکول جانے والے لاکھوں بچے سکول چھوڑتے وقت لرننگ کی بنیاد سے بھی واقف نہیں ہوئے۔ ہمیں تعلیمی انقلاب کی ضرورت ہے اور ہمیں گلوبل لرننگ کرائسس سے نمٹنے میں کامیابی حاصل کرنا ہوگی ہمیں صرف کھلے دل کا نہیں ہونا چاہئے بلکہ ہمیں سخت محنت اور سوچ بچار بھی کرنا ہے کہ اس فنڈنگ کے ذریعے بچے لکھنے پڑھنے کے قابل بن سکیں۔

مس پینی مورڈانٹ نے کہا کہ ہم ایجوکیشن سسٹم کو اوورہال کرنے کے لئے حکومتوں اور ملکوں کی مدد کرتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ حکومتیں اور ملک اپنے بچوں کو اچھی اور معیاری تعلیم دیں تاکہ ٹیلنٹ سے بھرپور فائدہ اٹھا کر مستقبل کو روشن اور خوش حال بنایا جا سکے۔ انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ سلیکٹ کمیٹی نے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت اپنے بجٹ کا مزید کچھ حصہ ایجوکیشن امداد میں دے۔ کمیٹی کی رپورٹ میں کیا گیا کہ فی الوقت برطانیہ کی7فیصد امداد ایجوکیشن پر خرچ ہوتی ہے۔

اس میں اضافہ کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ استدلال کیا گیا کے سکولز اور ٹیچنگ کو بہتر بنانے سے ڈیولپمنٹ کی طویل مدتی اپروچ ہوگی اور مستقبل پائیدار ہوگا۔ یونیسیف کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کے تنازعات سے متاثرہ ملکوں میں رہنے والے تقریباً ایک تہائی نوجوان ناخوادہ ہیں جن سے بیشتر کا تعلق افریقہ سے ہے۔

افریقہ میں پاورٹی کے خاتمے کے لئے کام کرنے والی ایک کمپین نے کہا کے2014کے فنڈنگ رائونڈ کے مقابلے میں مطابہ خاصا کم ہے جب2014میں چار برسوں میں 300ملین پونڈ کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن یہ امداد دوسرے ڈونرز کی فنڈنگ کی سطح سے مشروط ہے۔ اگر دوسرے ملکوں سے زیادہ مدد نہ ملی تو پھر برطانیہ کی فنڈنگ50ملین پونڈ سالانہ ہوگی۔

ون کمپین کی رومیلی گرین ہل نے کہا کے زیادہ فنڈنگ کے وعدے سے برطانیہ کو ایجوکیشن کے میدان میں گلوبل لیڈرشپ کا سنہری موقع مل سکتا ہے اور ہمیں کوالٹی ایجویکشن کے فروغ کے لئے اپنی مہارت کو استعمال کرنا چاہئے اور اب اس سنہری موقع کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *