ماہواری کی جانچ کیلئے 68 طالبات کو زیر جامہ اتارنے پر مجبور کردیا گیا

    February 17, 2020 1:54 am PST
taleemizavia single page

ویب ڈیسک: بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں کالج ہاسٹل کی طالبات نے شکایت کی ہے کہ انہیں حیض کی جانچ کے لیے خواتین اساتذہ کے سامنے زیر جامہ اتارنے پر مجبور کردیا گیا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کالج کی طالبات نے بتایا کہ 67 سالہ خاتون انہیں کلاس سے اٹھا کر بیت الخلا لے گئیں اور زیر جامہ اتار نے کا حکم دیا۔ 

مذکورہ واقعہ گجرات میں واقع شری سہاجانند گرلز انسٹی ٹیوٹ (ایس ایس جی آئی) میں پیش آیا جو قدامت پسند ہندو گروہ سوامی نرائن فرقے کے زیر انتظام ہے۔ ایس ایس جی آئی میں انڈر گریجویٹ طالبات زیر مطالعہ ہیں

انتظامیہ نے کالج پرنسپل کو شکایت کی تھی کہ بعض طالبات حیض سے متعلق طے شدہ قوائد کی پابندی نہیں کررہی ہیں اور دوران حیض کلاس روم میں آرہی ہیں۔ 

کالج سے متعلق قدامت پسند ہندو گرو سوامی نارائن فرقہ کے طے کردہ قوائد کے مطابق ماہواری کے دوران خواتین کو مندر اور کچن میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی۔ علاوہ ازیں طالبات ماہواری میں اپنی ساتھی طالبہ کو بھی ہاتھ نہیں لگا سکتی۔ 

کالج قوانین کے مطابق کھانے کے اوقات میں مذکورہ طالبات سب سے الگ ہو کر کھائیں گی اور اپنے کھانے کے برتن خود دھوئیں گی، اس کے علاوہ ماہواری کے ایام میں، وہ کمرہ جماعت میں سب سے آخر میں بیٹھیں گی۔ 

اس ضمن میں بتایا گیا کہ طالبات کے ہاسٹل میں ایک رجسٹر مختص ہے جس میں طالبات کی ماہواری شروع ہونے سے متعلق تفصیلات درج کی جاتی ہیں تاکہ کالج انتظامیہ طالبات کی شناخت کرسکیں۔ 

جب دو مہینوں کے دوران کسی طالبہ نے رجسٹر میں اپنا نام درج نہیں کرایا تو طالبات کی شکایات کی گئی اور اگلے روز ہاسٹل انتظامیہ اور پرنسپل نے طالبات کو گالیاں دیں۔ 

ایک طالبہ کے والد نے بتایا کہ جب وہ کالج پہنچے تو ان کی بیٹی اور کئی دوسری طالبات ان کے پاس آئیں اور رونے لگیں۔ طالبات نے ان سے کہا کہ ‘وہ انتہائی صدمے میں ہیں’۔

علاوہ ازیں طالبات کے ایک گروپ نے کیمپس میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا اور کالج کے عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جنہوں نے ان کی تذلیل کی۔ کالج کے ٹرسٹی پروین پنڈوریا کا کہنا تھا کہ واقعہ ‘افسوس ناک’ ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے اور جو بھی اس کام میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب کالج سے وابستہ یونیورسٹی کی وائس چانسلر درشنا ڈھولکیا نے طالبات پر الزام لگایا کہ انھوں نے کالج کے قوانین کو توڑا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض طالبات نے مجھ سے معذرت بھی کی ہے۔

تاہم کچھ طالبات نے بی بی سی گجراتی کو بتایا کہ ان پر اسکول حکام کی طرف سے شدید دباؤ ہے کہ وہ اس واقعے سے متعلق گفتگوکریں اور نہ ہی اپنی مشکلات کے بارے میں کسی سے ذکر کریں۔ علاوہ ازیں گجرات اسٹیٹ ویمن کمیشن نے اس ‘شرمناک واقعے’ کی تحقیقات کا حکم دیا اور طالبات سے کہا کہ وہ ‘اپنی شکایات پر بلا خوف و خطر سامنے آئیں اور پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائیں۔ 

واضح رہے کہ تین سال قبل بھارت کے شمالی حصے میں واقع ایک رہائشی اسکول کے بیت الخلا کے دروازے پر خون ملنے کے بعد خاتون وارڈن نے 70 طالبات کو برہنہ کردیا تھا۔  خیال رہے کہ بھارت میں قدامت پسند ہندو حیض کی وجہ سے خواتین کے ساتھ وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک کرتے ہیں۔ 

حائضہ خواتین کو ناپاک سمجھا جاتا ہے اور انہیں سماجی اور مذہبی تقاریب سے بے دخل کردیا جاتا ہے، مندروں میں داخلے پر پابندی اور کچن سے باہر رکھا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *