وادی سندھ کی تہذیب، مصراورعراقی تہذیب سے بھی قدیم؛ سائنسدانوں کا دعویٰ

    September 24, 2016 5:18 pm PST
taleemizavia single page

خصوصی رپورٹ: ظافرہ خالد

وادی سندھ کی تہذیب کا خاتمہ مون سون میں کمی کے باعث ہوا۔یہ تہذیب مصری تہذیب اور میسوپوٹیمین تہذیب یعنی عراقی تہذیب سے بھی پرانی ہوسکتی ہے۔

اس دور میں یہاں سے عرب اور عراق کے ساتھ باقاعدہ تجارت ہوا کرتی تھی۔

بھارت کے سائنسدانوں نے بذریعہ تحقیق اس ثبوت سے پردہ اُٹھایا ہے کہ وادی سندھ کی تہذیب 5 ہزار 500 سال نہیں بلکہ یہ تہذیب 8 ہزار سال قدیم ہے۔

وادی سندھ کی تہذیب مصری تہذیب اور میسوپوٹیمین تہذیب یعنی عراقی تہذیب سے بھی پہلے وجود رکھتی تھی۔

واضح رہے کہ عراقی تہذیب 65 سو قبل سے مسیح سے 31 سو قبل مسیح، مصری تہذیب 7 ہزار قبل مسیح سے 3 ہزار قبل مسیح قدیم ہے۔

بھارتی سائنسدانوں کی اس تحقیق میں تہذیب پر نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس میں تحقیق میں آئی آئی ٹی کھرگپور، آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے مشترکہ طور پر کام کیا ہے۔

ان اداروں کے ماہرین نے ظروف یعنی مٹی کے برتن کے ٹکڑوں اور جانوروں کے باقیات پر کارین تاریخ اندازی کا طریقہ اختیار کیا۔ جس سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ وادی سندھ کی تہذیب پر پہلے سے موجود تحقیق خلاف حقیقت بھی ہوسکتی ہے۔

رواں سال 25 مئی کو یہ تحقیق نامور سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہوئی ہے۔ اس نئی تحقیق سے کریڈلز آف سویلائزیشن کی ٹائم لائن پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کرسکتی ہے۔

سائنسدانوں کو ماننا ہے کہ وہ تقریباً 3 ہزار سال قبل کی تہذیبوں کے خاتمے کی وجہ جانتے ہیں جو کہ آب و ہوا میں تغیر و تبدل کے باعث ہوئیں۔

شعبہ طبقات الارض اور علم طبیعات الارض آئی آئی ٹی کھرگپور کے مطابق اس تحقیق میں ابتدائی ہٹرپن دور سے چھ ہزار قبل اور ہڑپن یاکرا سے 8 ہزار سال پہلے کے ثقافتی مدارج کا جائزہ لیا ہے۔

اس عمل میں سائنسدانوں نے آپٹیکلی سٹیمولیسٹیڈ لیو میسنیس کا استعمال کیا گیا ہے۔

سائنسدانوں نے پاکستان کے معروف تہذیبی مقامات ہڑپہ اور موہن جوداڑو سمیت ہندوستان کے علاقوں کو بھی شامل کیا تھا۔

نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق پہلی بار ہندوستان کے علاقے بھرانہ، ہریانہ، راکھی گڑھی، بوتھل، دھلاویرا اور کالی بنگن کو شامل کیا گیا کیونکہ وادی سندھ کی تہذیب ان علاقوں تک بھی پھیلی تھی۔

اس تحقیق کے دوران پہلی بار ہندوستان کے علاقے بھرانہ میں غیر دریافت شدہ مقام پر کھدائی کی گئی۔

اس کھدائی سے بڑی تعداد میں جانوروں کے باقیات جیسے ہڈیاں ، دانت ، بیل کے سنگ کا مرکزی حصہ ، بکری ، ہرن اورمرگ نکالے گئے ۔ بعد ازاں یہ باقیات ایام قدیم کی رمز کشائی کےلئے کاربن تجزیہ کی بدولت ان آب و ہوائی کیفیات میں رکھے گئے جن میں یہ تہذیب پھلی پھولی ۔

اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ وادی سندھ کی تہذیب ہندوستان کے موجودہ گم گشتہ دریا ئے سرسوتی اور دریائے گھاگھرہا کرا کے کناروں سے ہوتی ہوئی وسیع علاقے تک پھیلی ہوئی ہے لیکن اس کا زیادہ مطالعہ نہیں کیا گیا۔

میگزین میں شائع شدہ ریسرچ کے مطابق وادی سندھ کی تہذیب پر جو تحقیق برطانوی محقیقین کی جانب سے کی جا چکی ہے صرف اسی پر اکتفا کیا جاتا ہے یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر از سرنو تحقیق کی گئی ہے۔

اس تحقیق میں وادی سندھ کے تمدنی دور سے پہلے (8 ہزار سال قبل مسیح سے 9 ہزار سال قبل مسیح) جو بحثیت ابتدائی ہڑپن دور (یعنی 7 ہزار قبل مسیح سے 8 ہزار قبل مسیح) سے ہڑپن دور کے عروج تک زمرہ بندی کے ذریعے تمام ثقافتی مدارج کا جائزہ لیا گیا۔

ابتدائی ہڑپن دور کو چرواہے اور دیہی زرعی معاشروں میں تقسیم کیا گیا ہے جبکہ مکمل ہٹرپن دور کو نہایت منظم شہروں، ترقی یافتہ مواد، فن دستی کی ثقافت میں تقسیم کیا گیا ہے جب آبادکاری کافی حد تک شہری طرز کی تھی۔

محققین کہتے ہیں کہ ابتدائی ہڑپن دور بڑے پیمانے پر شہر کاری کے ختم ہونے ، آبادی میں کمی ، قائم شدہ آبادیوں سے دست برداری ، بینادی ضررویات کی کمی ، تشدد حتیٰ کہ ہڑپن رسم الخط کی گمشدگی کا عینی شاہد ہے ۔

اس نئی تحقیق میں آب و ہوا کے طرز عمل کو سلجھانے کے لیے ان باقیات کے دانتوں، ہڈیوں کے فاسفیٹ اور آکسیجن آئسو ٹوپ کی ساخت کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ ممالیہ جانوروں کے دانتوں اور ہڈیوں میں موجود آکسیجن آئسو ٹوپ قدیم شہابی پانی کے نشان کو محفوظ رکھتا ہے۔ اور مون سون بارشوں کی شدت کو سلسلہ وار کرتا ہے۔

یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ ہڑپن دور سے قبل انسانوں نے گھاگھر ہاکرا دریاﺅں کے ساتھ اس علاقے میں سکونت اختیار کرنا شروع کر دی جو کہ انسانی اور زرعی آباد کاری کےلئے سازگار تھا۔

آج سے سات ہزار سال اور نو ہزار سال کے درمیان مون سون کا سلسلہ کافی زیادہ طاقتور تھا اور غالباً ان دریاﺅں کو مزید طاقتور بنانے کےلئے وسیع سیلابی میدانوں سے سیراب کیا گیا۔